کاش ہمارے سیاسی رہنما سٹرٹیجک فکر کے حامل بن جائیں!

کاش ہمارے سیاسی رہنما سٹرٹیجک فکر کے حامل بن جائیں!
کاش ہمارے سیاسی رہنما سٹرٹیجک فکر کے حامل بن جائیں!

  

پاکستان کئی اعتبارات سے عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ ایک یہ کہ ہمارے ملک میں ہمیشہ (مارشل لاء ادوار کو چھوڑ کر) پارلیمانی جمہوریت کے تتبع میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں موجود رہی ہیں۔ تیسری سیاسی پارٹی اگرچہ تعداد میں اقلیت شمار ہوتی تھی لیکن حکومت سازی کے عمل میں اکثریت سے بڑھ کر نتائج دیتی تھی۔

اس حوالے سے کئی اقلیتی پارٹیاں بادشاہ گر رہیں۔ (اقلیت کی اصطلاح مذہب کے حوالے سے استعمال نہیں کی جا رہی ہے، صرف الیکشنوں میں منتخب اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کی تعداد کے تناظر میں استعمال کی جا رہی ہے) یہ دونوں پارٹیاں باری باری حکومت کرتی رہی ہیں۔ لیکن گزشتہ برس قیامِ پاکستان کے 70سال بعد ایک تیسری سیاسی پارٹی بھی منصہء شہود پر جلوہ گر ہو گئی۔دونوں مین سٹریم سیاسی پارٹیوں کو ہرگز توقع نہ تھی کہ وہ پارٹی 2018ء کا الیکشن جیت جائے گی۔

الیکشن سے پہلے جب نون لیگ کو زوال آنا شروع ہوا تو اس کے جیّد زعما یہ دعوے کیا کرتے تھے کہ الیکشن ہو رہے ہیں، ان کو ہونے دو، ان میں سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی والا محاورہ جس تسلسل سے قبل از الیکشن استعمال ہوا، شائد ہی کبھی ہوا ہو گا۔ لیکن جب الیکشن کے نتائج آئے تو دونوں مین سٹریم سیاسی پارٹیاں دم بخود رہ گئیں۔ نہ صرف مرکز بلکہ سندھ کو چھوڑ کر باقی تین صوبوں میں بھی یا پی ٹی آئی نے حکومت بنائی یا اس کی حمائت یافتہ کولیشن نے۔۔۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

یہ نئی صورتِ حال نون لیگ اور پی پی پی کے لئے ایک بڑا چیلنج تھی۔ محاورہ تو یہ ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اس جائز ہونے میں ایک تیسرے عنصر کا اضافہ بھی کر دیا گیا۔

اب محاورے کو تبدیل کرکے کہا جانے لگا کہ محبت، جنگ اور سیاست میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان میں ایک اور مقولہ بھی ’’جمہوریت کے حسن‘‘ کے بارے میں اتنا مشہور ہو گیا تھا کہ عامتہ الناس کو اس سے نفرت ہونے لگی تھی۔ خرد کا نام جنوں اور جنوں کا خرد رکھ دیا گیا تھا، تاہم جمہوریت کے ’’حسنِ کرشمہ ساز‘‘ کی اس بدعت کو عوام نے پذیرائی نہ بخشی۔

اگست 2018ء کو جب پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو زخم خوردہ اور شکست یافتہ مین سٹریم پارٹیوں کے عقابوں کو یہ منظور نہ تھا۔ وہ خم ٹھونک کر میدان میں کود گئے اور ابھی تک ناچتے کودتے پھر رہے ہیں۔ اور نوشتہ ء دیوار نہیں پڑھ رہے۔۔۔ ایک طرف نئی حکومت کو امریکہ، روس اور چین کی اشیرباد حاصل ہو رہی ہے، مشرق وسطیٰ کی عرب ریاستیں پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچا چکی ہیں، اسی مہینے سعودی ولی عہد پاکستان تشریف لا رہے ہیں ۔

ان کا ’’پیش خیمہ‘‘ اسلام آباد میں اتر چکا ہے، اسلام آباد کے دونوں 5سٹار ہوٹل بُک ہو چکے ہیں اور باقیوں کی بُکنگ جاری ہے۔ اربوں ڈالر کے معاہدوں کے وعدے وعید ہو چکے ہیں اور تیل اور گیس کی تلاش جاری ہے۔ دو روز سے جنرل (ریٹائر) راحیل شریف بھی اسلام آباد میں اتر چکے ہیں۔ کل انہوں نے جنرل قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو میں ان کے دفتر میں ملاقات کی۔

وہ ’’اسلامک ملٹری کاؤنٹر ٹیریرازم کولیشن‘‘ کے کمانڈر ہیں۔ ان کی کمانڈ میں درجنوں اسلامی ممالک کے فوجی دستے شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جنرل راحیل، ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بہت قریب ہیں۔ اس قربت کی حدود کیا ہیں اور ان کے اثرات پاکستان کی موجودہ اور آئندہ صورتِ حال پر کیا پڑیں گے اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ لبنان کے وزیراعظم سعد الحریری نے برملا تسلیم کیا ہے کہ 2007ء میں میاں نوازشریف اور ان کی فیملی کو NRO دلوانا ان کی ایک بڑی غلطی تھی۔ فواد چودھری ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان آرمی اور پی ٹی آئی کی حکومت آج جس انداز سے ایک ہی صفحے پر ہے اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ وزیراعظم اگلے روز دبئی میں سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ’’ٹیک آف‘‘ کر رہا ہے۔

یہی وقت ہے کہ سرمایہ کار ہمارے ملک کا رخ کریں۔(بصورت دیگر گویا پچھتائیں گے)۔۔۔ یہ سارے اشاریئے یہ بتا رہے ہیں کہ فی الحال پی ٹی آئی کی حکومت کے گرنے یا گرائے جانے کے کوئی امکانات نہیں۔ چودھری شجاعت، نعیم الحق تو ایک مشترک بیان میں بتا چکے ہیں کہ ق لیگ کے پی ٹی آئی سے کوئی اختلافات اگر تھے بھی تو ختم ہو چکے ہیں۔

اب دوسری طرف دیکھتے ہیں۔۔۔اگرچہ میاں نوازشریف اور شہبازشریف منقار زیرِ پَر ہیں لیکن ان کے چاہنے والے اور پرستار اب بھی ’’بے شمار، بے شمار‘‘ کی رٹ لگا رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے یہ کہہ کر اپنا ’’منشور‘‘ واضح کر دیا ہے کہ اگر شہبازشریف کو قائدِ حزب اختلاف کی مسند سے اتارنے کی کوشش کی گئی تو نہ صرف ہم یہ سارا سسٹم منجمد کر دیں گے بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ وہ ’’بہت کچھ‘‘ کیا ہے جو ہو سکتا ہے اس پر تخیل کے گھوڑے دوڑائے جا سکتے ہیں۔۔۔ مریم اورنگزیب بھی تقریباً یہی لائن Tow کر رہی ہیں۔

ماضی ء قریب میں ایک انہونی یہ بھی ہو چکی ہے کہ دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں میثاقِ جمہوریت کے نام پر ایک ہو چکی ہیں۔آپ کسی بھی جمہوری سیاسی نظام کو دیکھ لیں۔ امریکہ اور فرانس میں صدارتی اور برطانیہ اور انڈیا میں پارلیمانی نظامِ سیاست چل رہے ہیں۔

ان چاروں ممالک کی تاریخ میں کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ دو بڑی سیاسی پارٹیاں ایک ہو جائیں اور ’’متحدہ اپوزیشن‘‘ بنا کر سسٹم کو منجمد کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں؟۔۔۔ یہ طرفہ تماشا پاکستان ہی میں ہو رہا ہے۔ آج اگر نئے انتخابات کی کال دے دی جائے تو کیا یہ ’’میثاق‘‘ سلامت رہے گا؟ اگر نہیں تو یہ مشترکہ ڈھونگ کیوں رچایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے سارے سیاسی مہرے جہاندیدہ ہیں، ان کی یہ فکر تو کھائے جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی میں بہت سے ایسے پرانے مہرے بھی شامل کر لئے گئے ہیں جن کا ماضی بے داغ نہیں۔بندہ پوچھے اگر یہ مہرے پی ٹی آئی میں شامل ہو کر کوئی فائدہ اٹھا رہے ہیں تو کیا یہ کوئی نئی یا انہونی بات ہے؟ عمران خان اور ان کے درجن بھر ساتھیوں کو چھوڑ کر باقیوں کا ماضی دیکھیں تو یہ سب مہرے جیتنے والے گھوڑے پر ’’رقم‘‘ لگاتے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں اسی کو تو ’’جمہوریت کا حسن‘‘ کہا جاتا ہے۔

اقبال کے اس مشہور مصرعے کی تجسیم دیکھنی ہو تو ان مہروں کو دیکھ لیں کہ یہ اِدھر ڈوبے، اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے‘‘ پر کس جانفشانی سے عمل پیرا ہیں!

سوچتا ہوں کہ کیا متحدہ اپوزیشن یہ انتظار نہیں کر سکتی کہ پی ٹی آئی کو ایک ٹرم پوری کرنے دے؟ سسٹم ’’منجمد‘‘ کرنے والے اصل انجماد گر ہر گز نہیں چاہیں گے کہ وہ سسٹم کو ڈی ریل کریں یا منجمد کر دیں۔ اللہ جانے خواجہ صاحب کو یہ خواب کیسے آ گیا کہ وہ سسٹم منجمد کر دیں گے! اگر اسمبلی کے توسط سے سسٹم منجمد کرنا ہے تو یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔

جن قوتوں نے سسٹم منجمد کرنے کا کھیل چار بار کھیلا ہے وہ اب پانچویں بار ایسا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اب کوئی سیاسی دھڑا ان کو مجبور بھی کرے گا تو ان کے پاس کئی اور ایسے ’’چولہے‘‘ موجود ہیں جن پر جمہوری ہنڈیا میں دھری منجمد برف پگھلائی جا سکتی ہے۔

پاکستان کی معیشت اگر ٹیک آف کرنے لگی ہے تو اس کو ایسا کرنے کی مہلت ضرور دینی چاہئے۔اگر وہ لوگ اپنی ٹرم میں ایسا نہ کر سکے تو پھر سسٹم منجمد کرنے والوں کو بھی معلوم ہو جائے گا کہ اُن تِلوں میں بھی تیل نہیں۔

متحدہ اپوزیشن کے بازی گروں کو اپنے عقابوں کو خاموش کر دینا چاہئے۔جن بازی گروں کے پنجروں میں یہ باز اور عقاب بند ہیں ان کو صبر سے کام لینا چاہئے۔ اگر ان کے شاہین شکار پر جھپٹ کر ناکام واپس آئے تو یہ بازی گروں کی دہری موت ہو گی، اس سے بچنا چاہئے۔

دونوں مین سٹریم پارٹیوں(نون لیگ اور پی پی پی) میں ابھی چند لوگ ایسے بھی ہوں گے جو ٹیکٹیکل پس قدمی کو خود کش حملے پر ترجیح دیں گے۔کتابِ جنگ و جدل پڑھ کر دیکھیں، کئی دفعہ ٹیکٹیکل پسپائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

دور اندیش کمانڈر وہی ہے جو اس پسپائی کو قبول کرے اور سٹرٹیجک کامیابی کا منتظر رہے۔میرے سامنے ایسی بہت سی کتابیں پھیلی ہوئی ہیں جن میں عظیم لوگوں نے اندھا دھند عجلت کرنے کی بجائے صبر سے کام لیا اور پھر سٹرٹیجک لیول پر ان کو جو کامیابی ملی وہ اتنی مستقل اور دیرپا تھی کہ ان کو تاریخ میں ’’عظیم‘‘ بنا گئی۔

مزید : رائے /کالم