احمد پور شرقیہ ‘ لوٹ مار ‘ جائیدادیں بنانے میں پٹواری سب سے آگے ‘ انکوائری شروع

احمد پور شرقیہ ‘ لوٹ مار ‘ جائیدادیں بنانے میں پٹواری سب سے آگے ‘ انکوائری ...

احمدپورشرقیہ (تحصیل رپورٹر) احمدپورشرقیہ میں محکمہ مال پٹواری کی لُوٹ مار کا سلسلہ بڑھ گیا ۔تفصیلات کے مطابق چوہدری غلام یٰسین صدر انجمن تحفظ کاشتکاران ‘ ضلع بہاولپور نے ایک درخواست وزیر اعلیٰ پنجاب۔ چیف سیکریٹری پنجاب۔ ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب۔ ڈائریکٹر جنرل (بقیہ نمبر48صفحہ7پر )

نیب پنجاب۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب اور کمشنر بہاولپور کو دی تھی جس میں محکمہ مال کے پٹواریوں کے متعلق بڑے انکشافات کئے گئے تھے۔ ان پٹواریوں نے ہر کام کے لئے رشوت کے ریٹس مقرر کررکھے ہیں۔ پرچہ ملکیت حاصل کرنے کیلئے ایک ہزار سے 10 ہزار تک رشوت وصول کی جاتی ہے ۔ نام درستگی کیلئے 10 ہزار سے 20ہزار روپے تک چٹی لی جاتی ہے ۔ اسی طرح انتقالات کی مد میں رقبہ کے حساب سے لاکھوں روپے وصول کئے جاتے ہیں۔ صرف رپورٹ کرنے کے 5ہزار سے 25 ہزار روپے تک وصول کئے جارہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق فی پٹواری اوسطاً روزانہ 50 ہزار روپے سے 1لاکھ روپے تک زمینداروں اور کاشتکاروں کے خون پسینے کی کمائی سے رشوت حاصل کررہے ہیں۔ اس تحصیل میں سب سے کرپٹ پٹواریوں میں محمد اختر خاں بلوچ ۔ محمود اکبر بھٹی۔ محمد رفیق اعوان۔ بشیر احمد عرف کاتی مار۔ شاہ نواز بھیں۔ محمد رفیق لنگاہ۔ جام ارشاد احمد۔ رانا نور احمد۔ محمد عارف۔ اصغر حیدر۔ رانا عبدالرشید۔ محمد اقبال چغتائی۔ عبدالعزیز۔ فیاض شاہ جس کا بیٹا جعلی پٹواری بن کر کام کرتا ہے۔ یٰسین اعوان پٹواری کا بیٹا بھی جعلی پٹواری بن کر کام کرتا ہے، شامل ہیں۔ یہ پٹواری زمینداروں کے ریکارڈ میں جان بوجھ کر ردو بدل کرتے ہیں پھر ان کو درست کرنے کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔جن پٹواریوں کے پاس کمپیوٹرائزڈ حلقے نہیں ہیں انہوں نے تو کرپشن کے تمام ریکارڈ ہی توڑ دئیے ہیں۔ ان پٹواریوں کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں۔ بڑے بڑے بنگلے نما کوٹھیاں۔ بنا رکھی ہیں۔ ان میں زیادہ تر پٹواری سُود کا غیر قانونی دھندہ بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ جو زمیندار ان کو رشوت نہیں دیتا تو اس کو کئی کئی دن چکر لگوئے جاتے ہیں اور کام نہیں کیا جاتا آخر کار اسے ان کی مرضی کے مطابق رشوت دینا پڑتی ہے تب کام ہوتا ہے۔ ان میں زیادہ تر پٹواری نے رشوت اور حرام سے بنائی گئی جائیدادیں اپنے عزیز و اقارب کے نام کررکھی ہیں اور ان میں اکثر پٹواریوں نے اپنے شہر سے باہر دوسرے شہروں، بہاولپور۔ ملتان اور لاہور وغیرہ میں مہنگی ترین جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ چوہدری غلام یٰسین کی درخواست پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے انکوائری کا حکم دیا ہے۔ مگر انکوائری سست روی کا شکار ہے۔ اس موقع پر چوہدری غلام یٰسین نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ان تمام پٹواریوں کا ریکارڈ اکٹھا کرلیا ہے کہ ان کی کہاں کہاں جائیدادیں موجود ہیں۔ اور کن لوگوں کے نام سے بنائی گئی ہیں۔ عنقریب وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرکے ریکارڈ انہیں پیش کروں گا۔ انہوں نے مزید کیا کہ میرے پاس ایسے درجنوں لوگ موجود ہیں جو ان پٹواریوں کے ہاتھوں لُٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کرپٹ پٹواریوں کا کیفرکردار تک پہنچا کر ہی دم لوں گا۔ اگر ان کے خلاف فوری تحقیقات نہ ہوئی تو بہت جلد کمشنر آفس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں جب ان پٹواریوں سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف یہ تمام الزامات درست نہیں ہیں۔ انکوائری ہورہی ہے جلد سب کچھ سامنے آجائیگا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر