گھریلوں ملازمین سمیت تشدد اور عدم تو جہی کے شکار بچوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں

گھریلوں ملازمین سمیت تشدد اور عدم تو جہی کے شکار بچوں کو تحفظ فراہم کررہے ہیں

لاہور(نامہ نگارخصوصی) روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ گھروں میں کام کرنیوالے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے۔وہ گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ بار کی لیگل ایجوکیشن کمیٹی کے زیراہتمام کمسن گھریلو ملازمین کے تحفظ کے حوالے سے ہونیوالی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے کہا کہ گھریلوملازمین سمیت ظلم، زیادتی اورتشدد اورعدم توجہی کا شکار بے سہاربچوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ چین میں گھریلو ملازمین رکھنے کیلئے شرط عائد(بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

ہے کہ جس طرح مالک خود رہتے ہیں ،اسی طرح کی سہولیات ملازمین کو بھی میسر ہونی چاہئیں، انہوں نے کہا پاکستان میں 15سال سے کم عمر بچوں کی گھریلو ملازمت پر پابندی عائد ہے ، مگر غربت کی وجہ سے اس پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا،غریب گھرانوں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اوریہ غریب والدین اپنے بچوں کی کفالت نہیں کرسکتے جسکی وجہ سے وہ اپنے بچوں سے ملازمت کروانے پر مجبورہیں ۔تمام زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر ایسی قانون سازی ہونی چاہیے جس کے تحت ملازمت کرنیوالے بچوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جاسکے۔تقریب کے مہمان خصوصی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سردارمحمد شمیم خان تھے ،جنہوں نے سینئر صحافی اورتجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی اور چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمدکو یادگاری شیلڈیں پیش کیں، اس موقع پر لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر نورسمندخان اور لیگل ایجوکیشن کمیٹی کے سربراہ حسیب اللہ خان بھی موجود تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ بے سہارااورعدم توجہی بچوں کے تحفظ کے علاوہ ان بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے بھی سرکاری سطح پراقدامات کئے جا رہے ہیں۔ قانونی تحفظ کے علاوہ ان بچوں کو رہائشی سہولیات، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بار کی لیگل ایجوکیشن کمیٹی کے چیئرمین حسیب اللہ خان اور دیگر عہدیداران کو گولڈ میڈل پہنائے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو

مزید : ملتان صفحہ آخر