یکہ توت کی رہائشی خاتون کا بیٹے کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر مظاہرہ

یکہ توت کی رہائشی خاتون کا بیٹے کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر مظاہرہ

پشاور(سٹی رپورٹر)یکہ توت کی رہائشی خاتون نے بیٹے کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔گزشتہ روز مسماتہ فطرنی اور ان کے بیٹے عمر فاروق نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کے موقع پرصحافیوں کو بتایا کہ ان کی بیٹی کی شادی شوتل بانڈہ اعجاز آباد پشاور کے رہائشی ابراہیم کیساتھ ہوئی تھی ،شادی کے بعد ابراہیم اپنی بیوی کو امریکہ لے گئے جہاں ان میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہو ا اور شوہر نے بیوی پر تشد د کیا جس پر ان کی بیٹی کو امریکی حکومت نے اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا، ان کے داماد نے ان کو دھمکیاں دی کہ اپنی بیٹی کو کہیں کہ وہ ان کیساتھ صلح کریں اور واپس گھر آجائے ، ان کی بیٹی امریکہ میں تھی اور شوہر کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آکر وہ حکومت کے پاس چلی گئی تھی ،جس پر ان کے داماد نے دیگر دو بھائیوں نبی گل اور مانی گل کیساتھ ملکر ان کے بڑے بیٹے اکبر خان کو قتل کیا جس کی ایف آئی آر یکہ توت پولیس اسٹیشن میں درج ہے مگر پولیس چار ماہ گرزنے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہ کرسکی اور اب وہ فون کرکے ان کے دوسرے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں ،وزیراعلی خیبر پختو نخوا اور آئی جی پی خیبر پختو نخوا بیٹے کے قاتلوں کو گرفتار کرکے ان کو تحفظ فراہم کریں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر