تھیٹرمافیا پنجاب حکومت کی اصلاحات کوناکام بنانے میں کا میاب ، شوبز شخصیات

تھیٹرمافیا پنجاب حکومت کی اصلاحات کوناکام بنانے میں کا میاب ، شوبز شخصیات

لاہور(فلم رپورٹر)تھیٹر مافیا پنجاب حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کو ناکام بنانے میں ایک حد تک کامیاب ہوچکا ہے اس صورتحال میں تھیٹر کو راہ راست پر لانے کی کوئی بھی کوشش اور کاوش کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے دور حاضر میں ہونے والے کمرشل تھیٹر کے حوالے سے ملی جلی رائے دی ہے ۔کچھ شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ چلنا ہی دانش مندی ہے۔تھیٹر کے خلاف ضرورت سے زیادہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ موجودہ تھیٹر جو کچھ ہورہا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ تھیٹر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔لیکن پاکستان میں ویسے تو تھیٹر قیام پاکستان سے پہلے بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھا اور قیام پاکستان کے بعد بھی تھیٹر کی مختلف اشکال موجود تھیں جن میں علاقائی میلوں میں ہونے والے میوزیکل شو اور ناٹک جو کہ عام طور پر تنز ومزاح پر مبنی ہوتے تھے جس میں پاکستانی ثقافت کو مختلف لوک داستانوں پر پرفارمنس کر کے اجاگر کیا جاتا تھا اگر کہیں کوئی میلہ لگتا تو بہت دور دور سے لوگ اس میلہ سے لطف اندوز ہونے آتے تھے کیوں کہ پاکستان میں کوئی انٹرٹینمنٹ کا کوئی خاص انتظام نہ تھا پھر 60 میں جب پاکستان میں ٹی وی تو آیا اس نے شہری علاقوں میں اس روائتی تھیٹر کا روز کچھ کم کر دیا پڑھے لکھے لوگوں کا رحجان ٹی وی ڈراموں کی طرف زیادہ ہو گیا۔80 کی دہائی میں امان اللہ نے تھیٹرکی صنعت کو فروغ دیتے ہوئے تھیٹرکو ایک بار پھر شہرت کی بلندیوں پر لے جانے کی ایک کامیاب کوشش کی،پاکستان میں تھیٹرعوام کے لیئے ایک نیا شاہکار تھا جس میں تنز ومزاح سے پھرپور معاشرتی برائیوں کو سامنے لایا جاتا ہر سٹیج ڈرامے میں ایک سبق دیا جاتا پاکستان کلچر کو ان سٹیج ڈراموں میں بہت اجاگر کیا جاتا اس دور میں بہت اچھے اچھے رائٹرز نے کام کیا ایسے اصلاحی سکرپٹ لکھے جس سے تھیٹر کی صنعت کو بہت ہی زیادہ فروغ ملا کیونکہ سینما کے بعد سٹیج ڈرامہ انٹرٹینمنٹ کا بہت ہی سستا اور اچھا ذریعہ ثابت ہوا لوگ انپی فیملیز کے ساتھ سٹیج ڈرمہ جا کر دیکھتے تھے اور بہت لظف اندوز ہوتے۔ اس دور نے سٹیج نے بہت سارے نئے فنکاروں کو جنم دیا جو کہ آج بھی پی ٹی وی کے ڈراموں میں کام کر رہے ہیں۔ استاد غلام حیدر خاں،امان اللہ،ڈی او پی خالد محمود،مدثر حسن قاسمی،گلفام خان ،سید جہانزیب علی،اشرف خان،توقیر ناصر،احسن خان،اعجاز باجوہ،محمدنفیس،ڈائریکٹر دلاور ملک،ذوالفقار حیدر،سید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن ،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،میاں عابد رشید،انیس خان ،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی، ،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان ،ظفر عباس کھچی ،سٹار میکر جرار رضوی ،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان ،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن ،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا ،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،ڈیشی راج،آشف چوہدری،سفیان ،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم اور نجیبہ بی جی ،شیراز علی،طالب حسین اور عدنان علی طالب کاکہنا ہے کہ 90 کی دہائی کے بعد تھیٹرکا زوال تک شروع ہوا جب تھیٹرمیں سکرپٹ کی جگہ ڈانس نے لے لی اور بیہودہ جملوں کا بہت زیادہ استعمال شروع کر دیا فحش ڈانس اور عورت کو تذلیل کرنا تھیٹر کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا،اب تھیٹر کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ تھیٹرمیں صرف فحش گوئی ہی رہ گئی ہے،اب سٹیج ڈرامہ ایک بہیودگی کی نہ ختم ہونے والی داستان بن کر رہ گیا ہے جس میں عورت کے تقدس کو پامال کر دیا ہے۔۔ ماں،بہن بیٹی جیسے مقدس رشتوں کو اس میں اس طرح پامال کیا جاتا ہے کوئی بھی شریف انسان سٹیج ڈرامہ دیکھنے سے پنا ہ مانگتا ہے آج کے سٹیج ڈرامہ کی کی شکل اس قدر بگڑ چکی ہیں کہ اس میں سے سکرپٹ غائب ہوگیا ہے ڈانس اور بیہودہ جملوں کو ہی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ۔

بہت سے نئے آنے والے رائٹر پرڈیوسرز،اور ڈائریکٹرز نے سٹیج ڈرامہ کو کی صنعت کو زوال پذیری کی دلدل میں اس بری طرح دھکیل دیا ہے کہ آج سٹیج اس بے حیائی کی دلدل میں مزید دھنستا ہوا نظر آ رہا ہے۔آج شریف گھرنواں کی کی فیملیز نے تھیٹر کا رخ کرنا صرف اس لیئے چھوڑ دیا ہے کہ سٹیج میں فحاشی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کوئی بھی شریف انسان اپنی ماں بہن کے ساتھ بیٹھ کر اس طرح کی بیہودہ ڈائیلاگ نہیں سن سکتا جو کہ آج کل کے سٹیج ڈراموں میں بولے جاتے ہیں جس میں ایک عورت کو دل کھول کر ذلیل کیا جاتا ہے۔

مزید : کلچر