ملک مقروض نہ ہوتا تو حج مفت کراتے: عمران خان ، پچاس ارب روپے کی گیس چوری کا سامنا ہے وزیر اعظم نے گیس چوری کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا حکم دکا حکم دے دیا

ملک مقروض نہ ہوتا تو حج مفت کراتے: عمران خان ، پچاس ارب روپے کی گیس چوری کا ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ این آراو ون اوراین آر اوٹوکے بعد کرپٹ لوگوں کا خوف ختم ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے جائیں گے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا،کرپشن ، چوری کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے، ہر ادارے میں کرپشن کے کیسز نیب کو بھجوائیں گے، اس طرح لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوگا اور کرپشن کرتے ہوئے سوچیں گے، گزشتہ 10 سالوں میں لوگوں نے بلاخوف چوریاں کیں،سی پیک کے تحت چین سے کئی شعبوں میں مدد چاہتے ہیں،چین سے ٹیکنالوجی پاکستان منتقل کرناچاہتے ہیں،وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ مشکل وقت ضرورت ہے لیکن ملک کا مستقبل روشن ہے ، سابق حکمران ایسے حالات پیدا نہ کرتے اور ملک پر قرضے نہ ہوتے تو حج مفت کردیتے ، حکومت اپنے اخراجات کم کررہی ہے ، ہماری سوچ ہے کہ عام آدمی کوغربت سے نکالاجائے ،،ریلوے میں چوری اور کرپشن کیسزنیب کوبھیجیں، کرپشن کے باعث پاکستان کا قرضہ30ہزارارب ہوگیا،ماضی کی حکومتوں نے جو قرضے لیے اس کے باعث ہماری حکومت ایک دن کا سود 6 ارب روپے ادا کررہی ہے، حج پر سبسڈی دینے کی بات کرنے والے بتائیں کہ انہوں نے ملکی خزانے میں چھوڑا کیا ہے، ملک قرضوں میں نہ ڈوبا ہوتا تو ہم مفت حج کراتے ، پہلے وزیراعظم ہاؤس میں کھانے کھلائے جاتے تھے لیکن اب صرف چائے اور بسکٹ سے ہی تواضع کی جاتی ہے، اور وزیراعظم کے خرچے 30 فیصد کم کردیئے ہیں اور ہروزیر سے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے اخراجات میں کم از کم 10 فیصد کمی لائیں۔۔ وہ منگل کو پاکستان ریلوے لائیو ٹریکنگ سسٹم، تھل ایکسپریس کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ میں شیخ رشید کو تھل ایکسپریس اور لائیو ٹریکنگ سسٹم کے افتتاح پر مبارکباد دیتا ہوں ، ہم نے عام لوگوں اور امیروں کے لئے ٹرانسپورٹ میں کتنی ترقی کی اس سے ی سابقہ حکومتوں کی ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے ،سابقہ دور میں صرف ایلیٹ کو نوازا گیا، نئے پاکستان میں ہماری سوچ کا محور غریب عوام ہیں ، چھ مہینوں کی کارکردگی کے بعد ہماری اب کوشش ہے کہ ہم ٹرین سروسز کو اگلی سطح پر ترقی دیں ، ریلوے کی بہتری کیلئے شیخ رشید کی کارکردگی قابل تحسین ہے ۔ایل ایل ون منصوبے سے ریلوے میں انقلاب آئے گا ، کراچی سے لاہور صرف آٹھ گھنٹے میں پہنچ سکیں گے ، اس سے تمام لوگوں کو آسانی ملے گی 60سالوں میں ملک کا قرض صرف 6ہزار ارب روپے تھا جبکہ سابقہ حکومت نے صرف دس سالوں میں ملکی قرضے کو 30ہزار ارب کردیا ، کرپشن کو پکڑنے کا ناقص نظام ہونے کی وجہ سے کرپشن کو بڑھاؤ ملا ۔آج ہم ملکی قرضوں کا صرف ایک دن کا سود6ارب روپے دے رہے ہیں ، ملک کے مقروض ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں کو اہم سہولیات نہیں پہنچا پا رہے ، ہمیں اپنے خرچے مزید کم کرنے چاہیءں تاکہ ہم عام لوگوں کو تمام سہولتیں پہنچا سکیں ۔ ہم نے ہر قسم کا خرچہ کم کرنے کیلئے آڈیٹر بٹھا رکھا ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹرین عام آدمی کا سفر ہے ،ہم نے عام آدمی کے سفرکوآسان بنانا ہے،پہلے سی پیک ایک سڑک ،چارپاوراسٹیشنوں کا نام تھا،اب سی پیک کے تحت چین کیساتھ متعدد شعبوں میں کام کریں گے،حکومت میں 6 ماہ ہونے والے ہیں،نئے پاکستان میں لوگوں کوغربت سے نکالنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے میں جوکرپشن اورچوری ہوئی اس کے کیسزنیب کوبھجوائیں،شیخ صاحب،ریلوے میں مزید خرچے کم کریں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قرضوں کی قسط الگ دے رہے ہیں،،این آراو ون اوراین آر اوٹوکے بعد کرپٹ لوگوں کا خوف ختم ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ 50 ارب روپے کی سالانہ گیس کی چوری ہے،گیس سیکٹرپر157 ارب روپے کے قرضے ہیں،گیس کی قیمتیں نہ بڑھاتے توگیس کمپنیاں بند ہوجاتیں،تمام وزارتوں کوکہا ہے کہ اپنے اخراجات کم کریں، اتنے قرضے نہ چڑھے ہوتے، تو حج کی سہولت مفت دیتے۔عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر میں عام آدمی کے لئے ٹرین کا سفر سستا ہے، ایم ایل ون سسٹم کے ذریعے کراچی سے پشاور 8 گھنٹے میں پہنچ سکتے ہیں، پاکستان میں یہ سسٹم لانے کی کوشش کر رہے ہیں، چین دنیا میں ریلوے سسٹم میں سب سے آگے ہے ، سی پیک کے تحت چین سے ہر شعبے میں تعاون چاہتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پچھلے10 سال میں لوگوں کے دلوں سے خوف اٹھ گیا تھا، ہم نے وزیراعظم ہاؤس کے 30 فیصد اخراجات کم کردیے ہیں،وزیراعظم ہاؤس میں آڈیٹر بٹھایا، جو مزید خرچے کم کرنے پر توجہ دے رہا ہے، میں 30 فیصد خرچے کم کرسکتا ہوں، تو دیگر وزرا 10 فیصد کم کرسکتے ہیں.وزیر اعظم نے کہا کہ شیخ رشید نے بتایا ہے کہ ہفتہ وار6 کروڑ روپے مالیت کا مفت سفر ختم کر دیا ہے، کرپشن ، چوری کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے، گیس کی قیمت نہ بڑھاتے، تو گیس کمپنیاں بند ہوجاتیں، مشکل وقت ضرور ہے مگر ملک کا مستقبل روشن ہے۔دریں اثنا اپنے ایک ٹویٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین و وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی استحکام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی استحکام تحریک انصاف کی حکومت کے اٹھائے اقدامات کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ تجارتی خسارے میں 1ارب ڈالر کی کمی آئی اور جنوری 2019میں گزشتہ سال کی نسبت برآمدات اضافہ اور درآمدات میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تجارتی خدمات کا خسارہ بھی کم ہوکر 800ملین رہ گیاہے کہ جبکہ جولائی 2018 سے جنوری 2019میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 12.2فیصد اضافہ ہواہے ۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح ہمارے بیرونی اکاؤنٹس میں ہماری اقتصادی میں واضح بہتری ہماری اقتصادی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے ۔ دوسری طرف ارکان اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں حج اخراجات میں 35 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے حج اخراجات میں اضافہ مجبوری ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے راولپنڈی میں مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کے قیام کی منظوری دی۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے نالہ لئی ایکسپریس وے اور اسپتالوں کے مسائل سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نے پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کو فنڈز دینے کی یقین دہانی کرائی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مقامی حکومتوں کے فعال ہونے کے بعد ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہیں ملیں گے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر کے حوالے سے قواعدوضوابط میں ترمیم کی جائے ہمیں بیرون ملک پاکستانیوں کو کاروبار خصوصاً ریئل اسٹیٹ میں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں کثیر المنزلہ عمارات کی اجازت دینے کے حوالے سے اجلاس میں میں عمران خان نے کہا کہ دارالحکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر گرین ایریاز کو محفوظ کرنے، معاشی و رہائشی ضروریات کو پورا کرنے، بیرون ملک پاکستانیوں کو کاروبار اور خصوصا ریئل اسٹیٹ میں کاروبار کے مواقع فراہم کرنے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ قواعد و ضوابط میں ضروری ترامیم کرکے کثیر المنزلہ (ہائی رائز) عمارتوں کی تعمیر میں سہولت پہنچائی جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایوی ایشن ڈویڑن اور سی ڈی اے آئندہ 10 روز میں ان علاقوں کی نشاندہی کریں گے جہاں ہوا بازی کے پیش نظر کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر نہیں ہوگی،کوشش کی جائے کہ ان علاقوں کی تعداد حتی المقدور کم ہو۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سی ڈی اے دارالحکومت میں موجود عمارتوں کو کثیر المنزلہ عمارات میں بدلنے کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرے گا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سی ڈی اے عمارات کے ڈیزائن کی منظوری کے عمل کو سہل اور تیز کرنے کے لیے ایک ہفتے میں لائحہ عمل پیش کرے جس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹومیشن (خودکاری نظام ) اور کم سے کم انسانی عمل دخل ہو ۔جبکہ سی ڈی اے کو آئندہ 10دنوں میں عمارات کی بلندی کے حوالے سے پالیسی کا جائزہ لینے کی ہدایت بھی کی گئی۔

عمران خان

اسلام آباد(آن لائن ) وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس سیکٹر سے متعلقہ معاملات کا جائزہ لینے کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، چئیرمین ٹاسک فورس برائے انرجی ندیم بابر، فیڈرل سیکرٹریز، چئیرمین اوگرا، سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کمپنیز کے منیجنگ ڈائریکٹرز و دیگر افسران نے شرکت کی۔ وزیرِ اعظم کو ملک میں گیس کی موجودہ اور آئندہ سالوں میں سردیوں اور گرمیوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیمانڈ اور سپلائی کی صورتحال، ڈومیسٹک، انڈسٹری و دیگر سیکٹرز کی گیس ضروریات کو پورا کرنے کے لئے موجودہ بندوبست اور مستقبل کی ضروریات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت تقریباً پچاس ارب روپے کی گیس چوری کا سامنا ہے جو کہ unaccounted for gas (UFG)کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔ اس چوری شدہ /ضائع گیس کا بوجھ بھی صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک بھر میں گیس کی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم کو سال 2019اور سال2020میں گیس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔اجلاس میں آنے والے مہینوں میں بجلی اور دیگر سیکٹر کے لئے گیس کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 200ایم ایم سی ایف ڈی گیس مزید منگوانے کا فیصلہ کیا۔ گیس بلوں میں اضافے کی شکایت کے حوالے سے بھی وزیرِ اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ امپورٹد گیس کی مہنگی خرید کے معاہدوں اور دیگر اخراجات کے باوجود 91فیصد گیس صارفین کے بلوں میں محض بارہ سے پینتیس فیصد تک کا اضافہ کیا گیا۔زیادہ گیس استعمال کرنے والے صارفین ( پانچ سو اور ہزار مکعب میٹر گیس ماہانہ) کے بلوں میں گیس کی اصل قیمت کو مدنظر رکھ کر اضافہ کیا گیا۔ان صارفین کی کل تعداد دس فیصد سے کم ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود اکانوے فیصد صارفین کو ریلیف مہیا کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے تقریباً سو ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ یو ایف جی گیس کی روک تھام کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی نرمی یا رعایت اختیار نہ کی جائے۔ سوئی کمپنیوں کے سربراہان کی کارکردگی کا جائزہ یو ایف جی کی روک تھام سے لیا جائے۔ اجلاس میں گیس کی دریافت کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات اور اس حوالے سے متعلقہ کمپنیوں کو دی جانے والی سہولیات اورمراعات پر بھی بریفنگ دی گئی ۔

مزید : صفحہ اول