اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 130

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 130

  

میں بادشاہ کے ساتھ واپس محل میں آگیا۔ شام کے وقت میں اپنی بارہ دری میں بیٹھا دریا کا نظاہ کررہا تھا کہ ایک دم سے ایسی سیاہ آندھی اٹھی کہ دہلی شہر سارے کا سارا تاریکی میں ڈوب گیا۔ کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ اسی موسم میں دہلی میں سخت قحط پڑگیا۔ اس قحط کے مصائب کی تاب نہ لاتے ہوئے ہزاروں ہندوؤں نے اپنے آپ کو دریا میں غرق کردیا۔

یہ ساتویں صدی ہجری کا زمانہ تھا کہ ہلاکو خان کے ایک رشتہ دار نے ایک لشکر جرار کے ساتھ دہلی پر حملہ کردیا۔ منگولوں کو شکست ہوئی او رچنگیز خان کا نواسہ الغوخان مشرف بہ اسلام ہوا۔ الغوخان اور اس کے ساتھیوں نے نومسلموں کے خطاب حاصل کیے۔ ان نومسلم منگولوں نے موضع غیاث پور کو اپنا مستقر بنایا۔ جہاں حضرت شیخ نظام الدین اولیاءؒ قیام فرما تھے۔ بعد میں ان نومسلم منگولوں کی نسبت سے یہ علاقہ مغل پورہ کے نام سے موسوم ہونے لگا۔ اسی سال ملک علاؤالدین حکم کڑہ نے بھوپال کے نواح میں قلعہ بھیسہ پر چڑھائی شروع کردی۔ یہ حملہ جلال الدین خلجی کی اجازت سے کیا گیا۔ علاؤ الدین کو شاہانہ نوازشوں سے سرفراز کیا اور اودھ کا حاکم مقرر کیا۔ علاؤالدین کا بادشاہ کے مزاجمیں بہت عمل دخل ہوگیا تھا۔ انہوں نے چپکے چپکے ایک سازش کے تحت دہلی دربار سے دور دور رہ کر اپنے اثر ورسوخ اور مقبوضہ علاقوں میں اضافہ شروع کردیا۔ اسی زمانے میں علاؤالدین کی بغاوت کی خبر بھی دہلی میں پہنچ چکی تھی۔ علاؤالدین نے دیو گڑھ کو فتح کرلیا۔ بادشاہ کو جب پتہ چلا کہ علاؤالدین بے شمار مال غنیمت لے کر دہلی کی طرف آرہا ہے تو جلال الدین کو بہت خوشی ہوئی۔ علاؤالدین کو جلال الدین خلجی نے خود پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ وہ اس کی اقبال م ندی پر بہت مسرور تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 129 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

جلال الدین خلجی نے دربار کے امراء خاص کو طلب کیا اور مشورہ کیا کہ علاؤالدین دیو گڑھ فتح کرکے بے شمار زروجواہرمیری خدمت میں پیش کرنے دہلی آرہا ہے۔ مجھے آگے بڑھ کر استقبال کرنا چاہیے یا اپنی جگہ پر خاموش بیٹھے رہنا چاہیے؟ امراء نے کہا کہ بادشاہ کو آگے بڑھ کر علاؤالدین کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

اصل میں جلال الدین خلجی خود بھی راستے میں علاء والدین سے ملنا چاہتا تھا۔ اسے دولت کا لالچ تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر علاء والدین پہلے لکھنؤ چلا گیا تو اس کے پاس جو دولت اور زر و جواہر ہیں وہ پھر کسی طرح نہ مل سکیں گے۔ چنانچہ بادشاہ اپنے ساتھ صرف پانچ سو سواروں کو لے کر کشتی میں روانہ ہوگیا۔ علاؤ الدین کو جب بادشاہ کی آمد کی خبر پہنچی تو اس نے گنگا کے پار اتر کر مانک پور کے مقام پر اپنے لشکر کے ستاھ ڈیرے ڈال دئیے۔ رمضان المبارک کی سترھویں تاریخ تھی۔ دریا کے پانی پر بادشاہی چتر دور سے نظر آیا تو علاؤالدین کے لشکر نے بظاہر شان و شوکت کے اظہار کے لئے اور بہ باطن کسی دوسرے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اپنے آپ کو مسلح اور ہاتھی گھوڑوں کو تیار کرنا شروع کردیا۔میں بادشاہ کی کشتی میں اس کے پہلو میں پیچھے کی طرف بیٹھا تھا اور دور دریا کنارے علاؤالدین کا خصوصی ایلچی ایک کشتی میں حاضر ہوا اور کورنش بجا کر بادشاہ کو اپنی باتوں سے راضی کرلیا کہ وہ اپنے لشکر سے الگ ہوکر علاؤالدین سے ملے۔ میں نے بڑے ادب سے جلال الدین خلجی سے کہا

’’بادشاہ سلامت! گستاخی کی معافی چاہتا ہوں مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اپنے لشکری سواروں کو اپنے ساتھ رکھیں ۔‘‘

جلال الدین مسکرایا ’’علاؤالدین سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں وہ ہمارے بیٹوں جیسا ہے۔ ہم نے اسے بیٹوں کی طرح پالا ہے۔‘‘

عضر کے وقت بادشاہ کی کشتی کنارے پر جالگی۔ علاؤالدین نے آگے بڑھ کر بادشاہ کا استقبال کیا اور اپنا سربادشاہ کے قدموں پر رکھ دیا۔ ہم دو امراء دوسری کشتی میں بیٹھے تھے۔ جلال الدین خلجی نے علاؤالدین کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور اس کے گال پر ہلکی سی چپت لگا کر کہا

’’میں نے تجھے بڑے لاڈ پیار سے پال پوس کر اتنا بڑا کیا ہے اور اپنے حقیقی بیٹوں کی طرح عزیز رکھا ہے۔ پھر بھلا تیرے دل میں یہ خیال کیسے آگیا کہ میں تیرے خلاف ہوگیا ہوں۔‘‘

یہ کہہ کر بادشاہ نے علاؤالدین کا ہاتھ پکڑا اور اسے ساتھ لے کر کشتی کی طرف بڑھا۔ اس موقعہ پر علاؤالدین نے اپنے آدمیوں کو اشارہ کیا۔ سمانہ کے ایک سپاہی نے جھپٹ کر بادشاہ پر تلوار کا وار کیا۔ بادشاہ زخم کھا کر ہماری کشتی کی طرف دوڑا اور کہا ’’اے بدبخت علاؤالدین تو نے کیا کیا؟‘‘

ابھی بادشاہ کشتی تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ اختیار الدین نے بادشاہ کو پچھاڑ کر اس کا سر کاٹ کر الگ کردیا۔ اس کے ساتھ ہی سپاہی ہماری کشتی کی طرف لپکے اور میرے ساتھی ملک خرم کا بھی سر کاٹ دیا۔ ایک سپاہی نے مجھ پر بھی تلوار کا وار کیا۔ تلوار میرے سر پر لگی اور میری پگڑی کٹ کر دریا میں گرگئی۔ اس دوران علاؤالدین کے ایک سپاہی نے جلال الدین خلجی کا سر نیزے پر چڑھالیا تھا۔ سپاہی نے مجھ پر دوسرا وار کیا۔ میں نے اپنا بازو آگے کردیا۔ تلوار میرے بازو سے ٹکرا کر دو ٹکڑے ہوگئی۔ سپاہی سمجھا کہ میں نے فولاد کا بازو بند چڑھا رکھا تھا۔ اس نے پیش قبض نکال لیا۔ اب میں بھی اس سے گتھم گتھا ہوگیا اور ہم دریا میں گر پڑے۔ اس وقت شام کے سائے چاروں طرف پھیلنے لگے تھے۔ برسات کا موسم تھا۔ دریا چڑھاؤ پر تھا۔ دریا کی لہریں بہت تیز تھیں۔ میرے علاؤالدین کے سپاہی کو ہلاک کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا مگر میری اس سے کوئی ذاتی یا ملکی دشمنی نہیں تھی۔ میں نے اسے کچھ نہ کہا۔ محض دریا کی لہروں کے حوالے کردیا۔

وہ میرے سامنے دریا کی لہروں پر تیرتا کنارے کی طرف چلا گیا۔ ہماری کشتی الٹ چکی تھی۔ جلال الدین کے قتل کے بعد اس کے لشکری راہ فرار اختیار کرچکے تھے۔ میں دریا میں تیرنے لگا کہ دوسرے کنارے پر پہنچ جاؤں مگر دریا کی لہریں بہت تیز تھیں اور دریا میں اچانک جیسے سیلاب آگیا تھا۔ میری سر توڑ کوشش کے باوجود دریا کی طوفانی لہروں نے مجھے دوسرے کنارے پر نہ جانے دیا اور میں دریا کے عین درمیان آکر سامنے کی طرف بہنے لگا۔ میں ایک تیز رفتار لہر پر سوار تھا اور وہ مجھے طوفانی رفتار کے ساتھ آگے بہائے لئے جارہی تھیں۔ میں نے کئی بار دوسرے کنارے تک پہنچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ دریا میں بہتے بہتے رات کا اندھیرا چھاگیا۔

مجھے دریا کی دھندلی لہروں کے سوا اور کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ اگرچہ میرے لئے یہ اندھیرا کوئی انوکھی بات نہیں تھا۔ میں نے ہزاروں برس پہلے کے اندھیرے بھی دیکھے تھے لیکن میں غیر یقینی حالت میں آگے بڑھ رہا تھا۔ دریا کا پاٹ آگے جاکر چوڑا ہوگیا۔ آسمان پر ستارے چمکنے لگے۔ اب ان کی پھیکی پھیکی روشنی میں مجھے دریا کامٹیالا پاٹ نظر آنے لگا تھا۔ دور کنارے پر گھنے جنگلوں کی سیاہ لکیر پھیلتی چلی گئی تھی۔ شاید خدا کو یہی منظور تھا کہ میں دریا میں بہتا چلاجاؤں۔ کیونکہ میں جب بھی کنارے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا لہریں چٹان بن کر میرے راستے میں حائل ہوجاتیں۔ میں نے اپنے آپ کو دریا کی لہروں کے حوالے کردیا۔ پھر مجھے ایسامحسوس ہونے لگا جیسے مجھ پر غنودگی طاری ہورہی ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ مجھے تو کبھی آپ اپنے اونگھ تک نہیں آئی تھی۔ مجھے نیند وغیرہ کی بھی حاجت نہیں تھی۔ میں تو تقریباً پانچ ہزار سال سے جاگتا چلا آرہا تھا لیکن اس غنودگی کا تجربہ مجھے پہلی بار ہورہا تھا۔ میں نے ہوش میں رہنے کی کوشش کی مگر میری آنکھیں اپنے آپ بند ہوئی جارہی تھیں۔ میں نے ہندوستان کے طلسم اور جادو کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا لیکن مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ مجھ پر بھی کسی جادو یا طلسم کا اثر ہوسکتا ہے۔ اس کے باوجود میری آنکھیں بند ہوئی جارہی تھیں۔ پھر وہ مقام آگیا کہ میرے اندر اتنی طاقت ہی نہ رہی کہ میں اپنی بند ہوتی ہوئی آنکھوں کو کھول سکوں۔میری آنکھیں بند ہوگئیں اور مجھ پر جیسے بے ہوشی طاری ہوگئی۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 131 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار