ابہام کیوں ؟؟؟

ابہام کیوں ؟؟؟
ابہام کیوں ؟؟؟

  



اس وقت پاکستانی معاشرہ اپنا اسلامی تشخص اور اخلاقی گراوٹ کی انتہاؤں کو پہنچ چکاہے،ہمارے ہاں انسانیت کی بجائےحیوانیت اور درندگی بامِ عروج پر پہنچ چکی ہے ، کسی کی ماں , بہن , بہو یا بیٹی کی عزت وآبرو محفوظ نہیں ہے،کوئی لڑکی یالڑکا خواہ وہ بالغ و نابالغ ہو ؟ کوئی عورت ہو یا عمررسیدہ کوئی بھی درندہ صفت جنسی بھیڑیوں سےمحفوظ نہیں ، کوئی جگہ , گھر , سکول , کالج , یونیورسٹی , دفاتر , گلیاں ,بازار اور راستے محفوظ نہیں،ہمارامعاشرہ " ریپستان " میں تبدیل ہوچکا ہے مگر کسی لبرل , انسانی حقوق کےعلمبردارکےکانوں پر جو تک نہیں رینگی۔ گزشتہ دنوں جب " علی محمد خان " نےبچوں کے ساتھ زیادتی اورقتل کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی تو گویا لبرلز اورانسانی حقوق کےنام نہادعلمبرداروں کوعالمی قوانین اورانسانی حقوق یادآگئے۔معذرت کےساتھ مگر یہ لوگ زینب سے لے کر فرشتہ اور حوض نور تک کہاں تھے ؟؟؟

کیاان بچیوں کےکوئی بنیادی انسانی حقوق نہیں تھے؟؟ آج ہمیں بتایاجارہاہےکہ پاکستان چونکہ فلاں عالمی قوانین تسلیم کرچکا ہے لہذٰا سرعام پھانسی نہیں ہوسکتی۔ ہمیں سمجھایاجارہےکہ سپریم کورٹ نےسرعام پھانسی کوغیر آئینی قراردےرکھاہے ،بعض دلائل یہ بھی ہیں کہ سرعام پھانسی اسلامی قوانین کےمطابق نہیں ہے ۔سب سے پہلا نقطہ اعتراض یہ ہےکہ جن لوگوں نے عالمی قوانین تسلیم اوران پر دستخط کیے, کیا انہیں یقین تھاکہ یہ قوانین اسلام کےمنافی نہیں ہیں ؟؟؟ گویا اُنکےلیےزیادہ اہمیت عالمی قوانین کی تھی نہ کہ اسلامی قوانین کی،اگر دیکھا جائےتو اہل مغرب تو سزائےموت کو بھی انسانی حقوق کے منافی سمجھتےہیں اور آپ پروقتاً فوقتاً سزائے موت کاقانون ختم کرنےکرنےکےلیے دباؤبھی ڈالا جاتارہاہےحالانکہ آپ جانتےہیں کہ " انسانی جان کےقتلِ ناحق کاقصاص" ایک واضح اور اٹل قرآنی حکم ہے۔ اس کےبعد آپ کی مرضی ہےکہ آپ اسلام سے روگردانی کریں اور اغیار کو خوش کرتےرہیں۔

کیا ہمارا آئین ہمیں خلاف شریعت قانون سازی سے نہیں روکتا؟؟توپھر ہم سزائے موت کےقانون کی کیسے مخالفت کرسکتےہیں ؟ ؟ اب جہاں تک سزائےموت پرعملدرآمدکاسوال ہےتو تب اس کےطریقہ کارپر بحث چھڑجاتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اس کی مختلف صورتیں ہیں جو زمانہ قدیم سے رائج ہیں۔رجم یعنی سنگسار کرنا, سرقلم کرنا, صلیب کرنا اور پھانسی دینا۔ان سبھی صورتوں میں سزائے موت کا مجرم ایک تکلیف دہ موت پاتاہے۔اگر کوئی شخص کسی ایسے جرم کا مرتکب ہوجاتا ہےکہ جس کی سزا ازروئے اسلام موت ہےتوپھررحم کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے،جب سزادینےکاوقت آتاہےتویہ سرعام یامخفی سزا میں سےکسی ایک کا انتخاب کرناہوتاہے۔ اس وقت زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام سزائے موت ہمارا قومی تقاضا بن چکی ہے تاکہ انہیں سرعام سزا ہوتے دیکھ لوگوں کے دلوں میں قانون کی حکمرانی اور رعب ودبدبہ پیدا ہو اور آئندہ اس قسم کے جرم میں ملوث ہونے سےلوگ ڈریں ۔

جہاں تک سرعام سزائےموت کی شریعی حیثیت کا سوال ہےتو چونکہ اس ضمن شریعی حکم واضح طورپر موجود نہیں لہذٰا اس صورت میں اسلام ہمیں " اجماع امت اور قیاس علماء سےمدد لینےکا حکم دیتاہے۔ علمائے کرام کی غالب اکثریت کا قیاس یہ ہی ہےکہ سرعام سزائے موت میں کوئی حرج نہیں ہے،جہاں تک اجماع کا سوال ہےتو حکومت کو چاہیےکہ علی محمد خان کی تجویز کے مطابق ریفرنڈم کروالیں تاکہ عوام کی اکثریت کی رائےکو سامنےرکھتے ہوئے " اجماع امت" سےمددلی جا سکے۔ چونکہ دورِ جدید میں ہم تمام اسلامی ممالک میں ریفرنڈم نہیں کرسکتے لہذٰا صرف پاکستان کے عوام کی اکثریت معلوم کرنا کافی ہوگا۔ مجھےافسوس ہےکہ ہم نے جہاں شریعت خاموش ہووہاں"علماءکےقیاس"اور" اجماعِ اُمت" جیسے اسلامی اصولوں سے رجوع کرنا چھوڑ دیاہے,جس کی وجہ سے ہم عصری ضروریات کے مطابق فیصلے نہیں کرپارہےہیں ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ