ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرنیوالے اسلامی سزاؤں سے خوفزدہ کیوں؟ زاہد محمود قاسمی

ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرنیوالے اسلامی سزاؤں سے خوفزدہ کیوں؟ زاہد محمود ...

  



ملتان (سٹی رپورٹر)مرکزی علماء کونسل پاکستان کے چیئرمین اور انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے کہا ہے کہ بچوں سے زیادتی اور قتل کے مجرموں کو سرعام سزائیں دینے کی قومی اسمبلی میں قرارداد کی منظوری قابل تحسین عمل ہے۔ مرکزی علماء کونسل پاکستان اس کی مکمل تائید کرتی ہے۔ حکومت نے ریاست مدینہ طرز کی ریاست اپنانے کا عزم کیا ہے تو اسلامی سزاؤں سے خوفزدہ کیوں ہوتے ہیں۔ ہمارے اس ملک میں کم سن (بقیہ نمبر31صفحہ12پر)

بچے اور بچیاں محفوظ نہیں ہیں۔ حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں کہ بچے اور بچیوں کی عزت محفوظ ہوسکے۔ اس پر بعض وزراء کے بیانات اسلام اور آئین پاکستان سے لاعلمی پر مبنی ہیں۔ عدالت مجرم کو سرعام سزا دے سکتی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو اپنی سفارشات 2018ء میں بھجوائی ہیں،افسوس کہ کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان سفارشات کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کی طرف اقدام اٹھائے جاتے ہیں۔شریعت اسلامیہ میں سزا کے نفاذ کا مقصد عبرت اور انسداد جرائم ہے۔زناکے بارے میں تو قرآن میں واضح ہے کہ سزا دیتے وقت لوگوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہئے۔ڈاکوؤں کے بارے میں یہ صراحت ہے کہ ان کو سولی پر لٹکایا جائے جو عموماً سرعام ہوتی ہے۔ سزا کے ذریعے مجرم اور دیگر لوگوں کو عبرت ہونی چاہئے۔قصور میں بداخلاقی کے بعد قتل ہونے والی کم سن زینب اور ملک میں دیگر اس قسم کے واقعات میں ملوث قاتلوں کو سر عام سزائے موت دینا شرعی طورپر جائز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل سے شرعی رائے مانگی تھی جس پر کونسل نے معاملے پر غور کیا اور متفقہ طورپر سرعام سزائے موت پر اسلامی احکامات کا جائزہ لیکر اپنی سفارشات حکومت کو بھجوائیں کہ عدالت مجرم کو سرعام سزا دے سکتی ہے۔ لہٰذا وزیر مملکت علی محمدخان کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد صحیح سمت اقدام ہے

زاہد محمود قاسمی

مزید : ملتان صفحہ آخر