اسلامیہ یونیورسٹی میں تحقیقاتی سرگرمیاں تیز‘ متعد د نئے پروگرام بھی شروع

اسلامیہ یونیورسٹی میں تحقیقاتی سرگرمیاں تیز‘ متعد د نئے پروگرام بھی شروع

  



وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پورانجینئر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے کہا ہے کہ جامعہ اسلامیہ کو ملک کی ٹاپ پانچ جامعات میں شامل کرنے کے لیے میگا ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ تاریخی جامعہ جلد ہی اعلیٰ تعلیمی معیار اور تحقیق کے حوالے سے وطن عزیز کا اہم ترین سنٹر آف ایکسی لینس بن جائے گی۔ وائس چانسلر نے ان خیالا ت کا اظہار ریڈیو پاکستان کے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔(بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

یونیورسٹی میں جدید رحجانات اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیمی پروگرام شروع کر دئیے گئے ہیں اور پہلے سے موجود پروگراموں کے نصاب کو نئے نظر ثانی کے ذریعے عالمی معیارات کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں کو قومی ا?منگوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے تاکہ ملک کی سماجی اور معاشی ترقی میں بھرپور حصہ ڈالا جائے۔ اِسی طرح دیگر جامعات، تحقیقی اِداروں اور سول سوسائٹی سے اشتراک وتعاون بڑھایا جا رہا ہے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات اس تعلیمی ترقی میں یونیورسٹی کے شانہ بشانہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ا?ن کا پہلا مقصد جامعہ کے وسائل کو پوری طرح استعمال میں لا کر تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی میں عرصہ دراز سے بند ایوننگ پروگراموں کو کھولا گیا، بہاولنگر اور رحیم یار خان کیمپسز میں زیادہ سے زیادہ مضامین میں داخلے فراہم کیے جا رہے ہیں اور مجموعی طور پر گزشتہ فال ایڈمیشن میں 8000نئے داخلے فراہم کیے گئے جبکہ درخواستوں کی تعداد 60ہزار سے زائد تھی۔ موجودہ سپرنگ ایڈمیشن میں بھی یہی صورتحال ہے جس کی بنا پر آئندہ سالانہ داخلوں کے موقع پر 10ہزار نئے طلبہ وطالبات کو خوش آمدید کہنے کے لیے منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ فیکلٹی کی تعداد 550سے بڑھا کر 800کر دی گئی ہے جبکہ اصل ٹارگٹ 40ہزار طلبہ وطالبات اور 1100فیکلٹی ہے کیونکہ یہ یونیورسٹی اپنے حجم کے اعتبار سے اس سے بھی زیادہ داخلے فراہم کر سکتی ہے۔ موجودہ عمارات کی تعمیر ومرمت مکمل کر لی گئی ہے اور نئی عمارات پر بھی کام شروع ہو گیا ہے۔ حال ہی میں 9نئی بسوں کا اضافہ کیا گیا اور بسوں کے روٹ قریبی قصبوں تک بڑھا دئیے گئے ہیں تاکہ ہاسٹلز پر بوجھ کم ہو۔ 1000گنجائش کے چار نئے ہاسٹلز فوری طور پر آباد کر دئیے گئے ہیں۔ حکومتی ویڑن کے مطابق ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں صحت مند افراد خصوصاً نوجوان بہت اہم حیثیت کے حامل ہیں۔ حکومت پنجاب کے تعاون سے ہیپا ٹائٹس کے خاتمے کے لیے ایک ماہ دورانیے کی بڑی مہم شروع کی گئی اور 22ہزار سے زائد طلبہ وطالبات اور فیکلٹی ممبران وملازمین کو ویکسین دی گئی۔ جامعہ اسلامیہ کو ملک کی پہلی ہیپا ٹائٹس فری یونیورسٹی قرار دیا جا سکتا ہے۔ جامعہ میں نرسنگ اور الائیڈ سائنسز کے پروگرام آئندہ فال ایڈمیشن سے شروع کیے جا رہے ہیں۔ انجینئرنگ، ویٹرنری، ایگریکلچر، مینجمنٹ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں درجنوں نئے پروگرام شروع کرائے جار ہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی سیاحت کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسی کے مطابق اقدامات کر رہی ہے۔ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ساتھ اشتراک عمل بڑھایا جا رہا ہے اور نئے ڈپلومہ کورسز شروع کیے جا رہے ہیں۔ اِسی طرح چولستان جیپ ریلی میں بھی یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء پوری طرح شریک ہیں۔بہاول پور چیمبر آف کامرس سے اشتراک عمل بڑھا کر علاقے میں صنعتی اور تجارتی ترقی کے لیے یونیورسٹی اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ بہاول پور ٹریڈ فیئر میں یونیورسٹی ایک پارٹنر اِدارے کے طور پر شریک ہے جہاں ہمارے سینکڑوں اساتذہ اور طلبہ وطالبات اپنی نوعیت کے پہلے کاروباری میلے کو کامیاب بنانے کے لیے کلیدی کردار ادا کریں گے۔

پروگرام

مزید : ملتان صفحہ آخر