قومی اسمبلی، مسٹر 10پر سنٹ کے ذکر پر شور شرابا، اراکین گھتم گتھا، تمام مسائل کی جڑ 30ہزار ارب روپے کا قرض ہے، حفیظ شیخ حکومت 5سال رہی تو قرضہ دگنا ہو جائے گا: شاہد خاقان

  قومی اسمبلی، مسٹر 10پر سنٹ کے ذکر پر شور شرابا، اراکین گھتم گتھا، تمام مسائل ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں مسٹر 10 پرسنٹ کے ذکر پر اپوزیشن ارکان نے وفاقی وزیر عمر ایوب کی نشست کا گھیراؤ کر لیا۔ آغا رفیع اللہ حکومتی ارکان سے گتھم گتھا ہوگئے، عمر ایوب کی تقریر کے دوران پیپلزپارٹی نے شدید احتجاج کیا۔ اس سے قبل ا وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا حفیظ شیخ نے تفصیل سے اعدادو شمار کے ساتھ بات کی، دوسری طرف بدقسمتی سے اپوزیشن نے بغیر دلیل کے بات کی، خیال تھا اپوزیشن سے حکومت کو تجاویز ملیں گی، اپوزیشن کو سمجھنا ہوگا کہ حقائق سے آپ آنکھ نہیں چرا سکتے، خیال تھا ماضی کی غلطیوں پر شرمندہ ہو کر اچھی تجاویز دیں گے۔عمر ایوب کا کہنا تھا زیادہ نوٹ چھاپنے کا خمیازہ عمران خان حکومت نے بھگتا، اپوزیشن کے ارکان اپنا ماضی بھول گئے ہیں، ن لیگ نے 5 سال میں 101 فیصد زیادہ نوٹ چھاپے، مسلم لیگ (ن) 30 ہزار ارب قرض چھوڑ کرگئی، پیپلزپارٹی کی حکومت نے قرض 15 ہزار ارب تک پہنچا دیا، 30 ہزار قرض لینے کا خمیازہ سب بھگت رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے مزید کہا پیپلزپارٹی نے وہ معاہدے کیے جو آج گلے پڑے ہوئے ہیں، رینٹل پاور پلانٹ کا بھی خمیازہ پاکستان نے بھگتا، سابق حکومت نے بجلی چوری پر قابو نہیں پایا، کرپشن کی وجہ سے یہ لو گ پھنس گئے، اس وجہ سے چیخ رہے ہیں، ماضی میں کاشتکاروں کو چکما دیا گیااور صنعتوں کا بیڑاغرق کر دیا گیا۔اس سے قبل مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ تمام مسائل کی جڑ 30 ہزار ارب کا قرض ہے، حکومت آئی تو جاری کھاتوں کا خسارہ ریکارڈ سطح پر تھا، ملک میں ڈالر کا نہ ہونا بحران کی بڑی وجہ ہے، روپے تو چھاپ سکتے ہیں ڈالر نہیں، گزشتہ 7 ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا 72 سال میں کوئی وزیراعظم مدت پوری نہ کرسکا، اس دوران ہم ٹیکس کولیکشن اور سرمایہ کاروں کو راضی کرنے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے، سوچنا ہوگا ایسا کیا ہے کہ گروتھ ریٹ برقرار نہیں رہ سکتا؟ معیشت کے اثرات براہ راست لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا ترقی کرنی ہے تو اپنے لوگوں پر دھیان دینا ہوگا، ہمیں طے کرنا ہے ملک کو آگے لے کر جانا ہے یا نہیں، معاشی استحکام کیلئے حکومت کام کر رہی ہے، کوشش کروں گا سیاسی بحث اور پوائنٹ سکورنگ نہ کروں، ترقی یافتہ ممالک نے تجارت کیلئے ماحول پیدا کیا، 1960 کے دوران معیشت میں بہتری آئی جو 4 سال میں ختم ہوگئی۔ مشیر خزانہ نے مزید کہا کہ فیصلہ ہوا تھا ایکس چینج ریٹ کو فکس رکھنا ہے، وزیراعظم کتنا بھی طاقتور ہو کرنسی کی قدر کو حکم سے نہیں روک سکتا، کرنسی کی قدر میں کمی روکنے کیلئے ڈالر پھونکے گئے، 2 ہزار 300 ارب روپے آمدن سے زیادہ خرچ کیے گئے، بحران کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں ڈالر نہیں، ہم نے قرض بھی ڈالرز میں لیے۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا سابق حکومت میں ایکسپورٹ کی گروتھ زیرو تھی، 95 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض اور سالانہ 20 ارب کا بوجھ تھا، جاری کھاتوں کا خسارہ ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر بتاتا ہے، اقدامات نہ اٹھائے تو ہم بھی ناکام ہو جائیں گے، ملکی زراعت نے بھی اس انداز میں ترقی نہیں کی، زراعت کا گروتھ ریٹ بھی زیرو ہے۔مشیر خزانہ نے کہا توانائی کا شعبہ تباہی کا باعث بن سکتا ہے، ادارے بل اکٹھے کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے، ہم بحران میں داخل ہو چکے تھے، ملک دیوالیہ نظر آرہا تھا، ہمیں کوئی قرض دینے کو تیار نہیں تھا، پہلی ترجیح تھی کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچائیں، سعودی عرب سے قسطوں میں تیل خریدا، 2008 اور 2013 میں آنیوالی حکومتیں آئی ایم ایف کے پاس گئیں، کوئی بھی خوشی سے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتا۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا جاری کھاتوں کے خسارے کا بہت بڑا خطرہ تھا جسے ہم نے مینج کیا، پہلے سال میں جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب ڈالر سے 13 ارب ڈالر پر لایا گیا، ایکسپورٹرز کیلئے اقدامات سے پہلے 7 ماہ میں ایکسپورٹ میں قدرے بہتری آئی، ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کیے، ہم نے فیصلہ کیا جو بھی ایکسپورٹر ہوگا اس پر زیرو ٹیکس ہوگا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے آسان قرض فراہم کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کمزور اور غریب ترین طبقے کی مدد کریں، کمزور ترین طبقوں کیلئے پروگراموں کا بجٹ 192 ارب کیا جو تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔مشیر خزانہ کی تقرہر کے جواب میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت ملکی معیشیت کی جو تصویر دکھا رہی ہے عوام اس سے بے خبر ہیں، ماضی میں چینی 43 روپے کلو تھی، آج 90 تک پہنچ گئی۔ آٹے اور چینی کی قمیت میں اضافے کا حکومت کے پاس کوئی جواب نہیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ن لیگی رہنما شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ ایک وزیر نے بیان دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے سبب آٹا مہنگا ہوا، ایک خاتون وزیر نے اسلام آباد سے شاپنگ بیگ ختم کر دیئے، فواد چودھری ہمیں چاند پر لے کر جائیں گے، ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں، کسی ایک وزیر کی کارکردگی دکھا دیں۔ ان وزرا کی تقاریر سن لیں، کیا اس طرح ملک چلے گا۔انہوں نے کہا کہ قرض لے کر گزارہ کیا جا رہا ہے، موجودہ حکومت نے 5 سال پورے کر لئے تو قرضہ دگنا ہو چکا ہو گا۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں کہاں تک پہنچ گئی ہیں۔ آٹے اور چینی کے بحران پر خصوصی کمیٹی بنائی جائے، آئین کہتا ہے بجلی اور گیس کے معاملات صوبوں کے حوالے کر دیں۔ انہوں نے مہنگائی کے معاملے پر حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عوام سڑکوں پر نکل آئے تو جگہ نہیں ملے گی۔نوید قمر نے کہا کہ ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں، آج ہر شخص مہنگائی سے متاثر ہو رہا ہے، یوٹیلیٹی سٹورز اور راشن کارڈ کوئی حل نہیں، اگر آپ پیداوار نہیں بڑھائیں گے تو خسارہ ہو گا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا آج ہر گھر میں معاشی پالیسی زیر بحث ہے، ہر شخص مہنگائی سے متاثر ہو رہا ہے، اپنے لوگوں پر اعتماد نہیں کریں گے تو بحران پیدا ہوگا، 2008 میں بھی اس سے بدتر حالات تھے، نمبرز کا گورکھ دھندا ہوتا تو ان کے اور اپنے نمبرز بتا کر گھر چلے جاتے، کون سا ایسا شخص ہے جو ان کی پالیسیوں سے متاثر نہیں ہو رہا۔نوید قمر کا کہنا تھا جہاں آپ نے پروڈکشن، سپلائی کو دیکھنا تھا وہاں صرف ڈیمانڈ کو دیکھا، عام آدمی کو جو تکلیف مل رہی ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتاہے، جو سب سے غریب ہے ان پر مہنگائی کا زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا، ہم ان چیزوں کی قیمتیں بڑھاتے جا رہے ہیں جو ہماری اپنی پروڈکشن ہے، ہارورڈ کی پالیسی یہ نہیں کہتی کہ راشن کارڈ سے مہنگائی کم ہو گی۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول