ٹریڈ پالیسی فریم ورک کا خیر مقدم کرتے ہیں، میاں زاہد حسین

ٹریڈ پالیسی فریم ورک کا خیر مقدم کرتے ہیں، میاں زاہد حسین

  



کراچی(آن لائن) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کیلئے پانچ سالہ اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک 2020-25 کا اعلان خوش آئند ہے۔اس سلسلہ میں نجی شعبہ سے بھرپور مشاورت کی جائے تاکہ یہ پالیسی کامیاب ہو سکے جس سے ٹیکسٹائل کی برآمدات پر انحصار کم ہو سکے گا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اس پالیسی سے ایس ایم ای سیکٹر اور چھوٹے کاروبار بھی ترقی کریں گے اس لئے اسے بیوروکریسی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے ورنہ اسکا حشر بھی سابقہ پالیسیوں جیسا ہو گا۔ ملک کو قابل عمل پالیسیوں کی ضرورت ہے نہ کہ وقت ضائع کرنے اور کاروباری برادری سے تالیاں بجوانے تک محدود فیصلوں کی جن کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اگر اس پالیسی پر سنجیدگی سے کام کیا گیا اور اسے زمینی حقائق کے مطابق بنایا گیا تو اسکے نتائج ٹریڈ، انڈسٹریل، ایگری کلچرل اور دیگر پالیسیوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔

چند سال قبل ایک تجارتی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا جس میں برآمدات کو35 ارب ڈالر تک بڑھانے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی اور بعد ازاں حکومت نے خود ہی اسے ناقابل عمل قراردے دیا۔ٹیکسٹائل کے شعبہ میں پاکستان کے حریف ممالک بشمول چین، بھارت،بنگلہ دیش، ویتنام اور تھائی لینڈ وغیرہ خوبصورت الفاظ اور بلندو بانگ دعووں کے بجائے کام پرتوجہ دیتے ہیں۔

جسکی وجہ سے انکی برآمدات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور پاکستان بین الاقوامی منڈی میں اپنا مقام بتدریج کھو رہا ہے۔ کپاس کی فصل کی بھاری مقدار ضائع ہو جانے سے جہاں کاشتکاروں کی زندگی مشکل ہو گئی ہے وہیں کپاس درآمد کرنے سے ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر 5 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ اور برآمدات متاثر ہونگی۔ انھوں نے کہا کہ پالیسی ساز دیگر ممالک سے ترجیحی تجارت اور آزادانہ تجارت کے معاہدوں کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ملک میں پیداوار مسلسل گر رہی ہے اور صنعتیں و دیگر کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ان معاہدوں کا فائدہ سمجھ سے بالا تر ہے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ کمزور زرعی اور صنعتی پالیسیوں، توانائی کی قیمتوں اور ٹیکس اقدامات کی موجودگی میں نئی پالیسی کی کامیابی مشکل ہے۔ #/s#

مزید : کامرس