چینی اور آٹے ما فیا کو حکومت نے سبسڈی کے نام پر فائدہ دیا، مصطفی کمال

چینی اور آٹے ما فیا کو حکومت نے سبسڈی کے نام پر فائدہ دیا، مصطفی کمال

  



کراچی (این این آئی) حکومت نے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سبسڈی کے نام پر اسی مافیا کو فائدہ دیا ہے جس نے چینی اور آٹے کا بحران کھڑا کر کہ عوام کی جیب پر بترتیب 20 ارب اور 40 ارب کا ڈاکا ڈالا۔ دوسری طرف حکومت نے خاموشی سے چینی 2 روپے اور گھی کی قیمت میں 5 روپے کا اضافہ کرکہ اپنی ہی دی ہوئی سبسڈی کی قلعی کھول دی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ملک بھر میں اتنے یوٹیلیٹی اسٹورز ہی نہیں ہیں کہ وہ غریبوں کو صحیح معنوں میں ریلیف فراہم کرسکیں اور جو یوٹیلیٹی اسٹورز موجود ہیں انکا بھی کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ دوسری جانب حکومت بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی ایسی ریگولیٹری باڈی ہے نہ ایسے باکردار اور قابل لوگ ہیں جو مافیا سے نمٹ سکیں۔ حکومت نے ان مافیاز کے سامنے گھٹنے ٹیک کر 73 سال کی تاریخ کی بدترین مثال قائم کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاس میں منعقد لیبر فیڈریشن کے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارٹی صدر انیس قائم خانی اور اراکینِ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی و نیشنل کونسل بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں، حکومت میں آنے سے پہلے اور آنے کے بعد وزیراعظم سمیت تمام وزرا سبسڈیز کو معیشت کیلئے تباہ کن کہتے رہے اور گیس، پیٹرول، بجلی اور حج سمیت تمام سبسڈیز کا خاتمہ کر دیا جسکا براہِ راست منفی اثر قومی معیشت پر پڑا اور انڈسٹریز بند ہونے لگیں لیکن اب حکومت نے اپنے اس موقف سے بھی یوٹرن لے لیا ہے تو حکومت کو سبسڈی بجلی اور پیٹرول پر دینی چاہیے تاکہ عوام کو اس کا فائدہ ہو نہ کہ عوام کے ٹیکسوں کا مزید پیسہ ان مافیاز کی جیبوں کی نظر ہو۔ اب اس حکومت کو سپورٹ کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ حکومت نے کھل کر اپنی نالائقی کا اظہار کر دیا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کی قیادت سیاست کو ناصرف عبادت سمجھتی ہے بلکہ کراچی کو بنانے کیلئے ہر طرح کے مافیا کا سامنا بھی کر چکے ہیں۔ پاکستان کیلئے اپنے آبااجداد کے طرز پر اپنی جان قربان کر سکتے ہیں۔ لوگوں کو پاکستان کی تعمیر کے لئے ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔ صرف پی ایس پی کی قیادت کے پاس وہ اہلیت اور صلاحیت ہے جس کے ذریعے ہم پاکستان کو موجودہ درپیش مسائل سے نکال سکتے ہیں۔

مصطفی کمال

مزید : صفحہ آخر