ارشد ملک کو پی آئی اے یا ایئر فورس میں سے ایک میں رہنے کا آپشن دیں: چیف جسٹس

ارشد ملک کو پی آئی اے یا ایئر فورس میں سے ایک میں رہنے کا آپشن دیں: چیف جسٹس

  



اسلام آباد(آئی این پی) چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ائیرمارشل ارشد ملک کو پی آئی اے یا ایئر فورس میں سے ایک میں رہنے کا آپشن دیں،ارشد ملک ایئرفورس میں ملازم ہیں، انہیں نئی ملازمت کیسے دی جا سکتی ہے؟، کیا پی آئی اے کو کل وقتی سربراہ کی ضرورت نہیں؟، سپریم کورٹ ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کیخلاف پہلے ہی فیصلہ دے چکی، عدالتی حکم کیخلاف تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ایم ڈی پی آئی اے ارشد ملک کی تعیناتی کیس کی سماعت ہوئی تو حکومت اور پی آئی اے نے رپورٹس جمع کرائیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت اور پی آئی اے کی رپورٹس لگتا ہے ایک ہی بندے نے بنائی ہیں جن میں صرف ایئر مارشل صاحب کی تعریفیں کی گئی ہیں۔ پی آئی اے بورڈ کے وکیل نے کہا کہ ارشد ملک کی تقرری کیلئے شفاف طریقہ کاراپنایا گیا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ پی آئی اے کے سربراہ کے پاس کمپنی چلانے کا تجربہ نہیں، ہر بندے کو فنانس اور ایچ آر کا تجربہ نہیں ہوتا، پی آئی اے میں جہاز اڑانے والے کیپٹن کو بھی سربراہ لگایا گیا، پائلٹس کے دور میں بھی پی آئی اے کو اربوں کا خسارہ ہوا، جرمن سربراہ جو جہاز لیکر بھاگ گیا تھا اس کا کیا ہوا؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ کیا جرمنی میں سابق ایم ڈی کیخلاف مقدمہ درج کرایا گیا؟ کمرشل جہاز لیکر بھاگ جانا تو ہائی جیکنگ ہے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جہاز چوری سے متعلق انوکھی منطق پیش کی کہ جہاز چوری نہیں ہوا بلکہ پرانا ہو چکا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے انہیں ٹوکا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایسی بات نہ کریں جو ہضم نہ ہوسکے۔وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ارشد ملک کی تین سال کیلئے ڈیپوٹیشن پر تعیناتی ہوئی ہے اور انہیں بدنام کرنے کی باقاعدہ مہم چلائی جا رہی ہے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ارشد ملک کو پی آئی اے یا ایئر فورس میں رہنے کا آپشن دیں، کیا پی آئی اے کو کل وقتی سربراہ کی ضرورت نہیں؟، ارشد ملک پہلے سے ایئرفورس میں ملازم ہیں، انہیں نئی ملازمت کیسے دی جا سکتی ہے؟، سپریم کورٹ ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کیخلاف پہلے ہی فیصلہ دے چکی، عدالتی حکم کیخلاف تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے؟۔سلمان اکرم راجہ نے عدالت کی مزید معاونت کیلئے وقت طلب کرلیا جس پر کیس کی مزید سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

چیف جسٹ

مزید : صفحہ آخر