بچپن کا ساون

بچپن کا ساون
 بچپن کا ساون

  



مٹی سے انسان کا رشتہ ابدی بھی ہے، ازلی بھی، پنجاب کی مٹی میں پلے بڑھے لوگ، دھرتی ماں کے بیٹے بھی کہلاتے ہیں اور دھرتی کے لعل بھی۔ پنجاب تقسیم ہوا تو ہمارے اباواجداد جانتے ہیں، ان پر کیا گزری۔آج اس تقسیم پر بہت باتیں ہوتی ہیں اچھی بھی، بری بھی مگر دھرتی ماں تو تقسیم ہوئی۔ اسی طرح اپنی جنم بھومی کو بھلانا بھی بس سے باہر ہے۔ اللہ رب العزت کی یہ قدرت ہے کہ بچپن اور لڑکپن تب بھی انسان کی یاد داشت میں زندہ رہتا ہے جب بڑھاپے میں اس کی یادداشت متاثر ہو جاتی ہے چند منٹ قبل کی باتوں کو محو کرنے والے شخص کے لاشعور میں پچاس ساٹھ قبل کا بچپن ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے۔ میرا بچپن دیہاتوں اور چھوٹے شہروں میں گزرا۔

دیہی اور چھوٹے شہروں کی زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی سادگی، اپنائیت، احترام اور خلوص و ایثار ہے ایک گھر میں خوشی ہو تو سارا گاؤں سرشار ہوتا ہے کسی گھر میں ماتم ہو تو سارا گاؤں غمزدہ افسردہ رہتا ہے، متاثرہ گھر میں کئی روز چولہا نہیں جلتا مگر کوئی بھوکا نہیں سوتا، اہل گاؤں اور محلہ صرف سکھ کے ہی نہیں دکھ کے بھی ساتھی سانجھی ہوتے ہیں، خوشحالی ہی نہیں مفلسی میں بھی ایک دوسرے کے ممد ومعاون ہوتے ہیں، بزرگ گاؤں اور محلے کے ہر بچے جوان کا بزرگ ہوتا۔ اس کے برعکس شہری زندگی بہت تیز رفتار ہو چکی جس میں اب رشتوں کا بھی احترام بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے شہر میں تعلقات مفادات سے جڑے ہوتے ہیں مگر گاؤں کے لوگوں کا تعلق خلوص ایثار، احترام کا ہوتا ہے۔

جنم بھومی سے کسی بھی شخص کا ذہنی قلبی تعلق ہر عمر میں برقرار رہتا ہے، ادھیڑ عمری میں جنم بھومی دل کا روگ بن جاتی ہے خاص طور پر تب جب کوئی غریب الوطن ہوتا ہے، بچپن کے شب و روز، ہم جولی، کھیل کود، زمانہ طالب علمی کی ایک ایک تفصیل جزئیات کے ساتھ لاشعور میں چنگاری کی طرح دبی رہتی ہے، لاہور کے قریب ہی پتوکی اور اس سے جڑا ایک گاؤں بہڑوال مجھے کیسے بھول سکتا ہے۔ پتوکی میری جائے پیدائش ہے اور اس کے قریبی گاؤں بہڑوال سے بڑی یادیں وابستہ ہیں۔ طالب علمی میں ہی مزید تعلیم کے حصول کے لئے اسے خیر بادکہہ کر لاہور میں سکونت اختیار کرنا پڑی، تکمیل علم کے بعد پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی کے لئے دنیا بھر میں ملک ملک کی سیر کی مگر پتوکی اور بہڑوال نہاں خانہ ذہن و دل میں آباد رہتا ہے، بعض مرتبہ کئی کئی ماہ گاؤں جانے بچپن کے دوستوں، بزرگوں سے ملنے، جن گلیوں میں بچپن گزرا ان میں گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملتا مگر یاد ماضی کا گزر ذہن میں ہمیشہ رہا۔

بچپن کے دوستوں میں سے رانا طارق آج بھی ساتھ ساتھ ہے، جعفر شاہ پتوکی میں سکول ماسٹری کر رہا ہے، عرفان بھنگو، رضوان بھنگو اور فاروق ارشد چودھری کینیڈا میں جا بسے، اعجاز پپی شاہ امریکی بن چکا ہے۔ شفقت صدیقی نے درویشی اختیار کر رکھی ہے۔ کس کس کو اور کیا کیا یاد کروں۔ نہر اور ٹیوب ویل کے پانی میں تربوز آم ٹھنڈے کر کے کھانے، دوستوں کے ساتھ حوض میں نہانے کا اپنا ایک منفرد سواد تھا، مکئی کے بھٹے،گندم کے آبو بھوننے، چلتے چلتے کسی بیل سے کھیرا، خربوزہ توڑ کر کھانا، لوگوں سے چھیڑ چھاڑ، درختوں کے سائے میں آرام اور کھیل کود، بوڑھ، پیپل کے گھنیرے سائے، ٹاہلی اور کیکر کی مسواک کرنا، شہتوت، امرود کے درختوں سے پھل نوچنا اور بغیر دھوئے کھانا، پتھر مار کر درخت سے جامن گرانا، رات کو لکن میچی کھیلنا، والدہ محترمہ کے ہاتھ سے بنا اچار دیسی گھی کے پراٹھے پر رکھ کر کھانا، مکئی کی روٹی سرسوں کا ساگ، چاٹی کی لسی، مکھن کا پیڑا، گاؤں کے حلوائی کی بنائی جلیبیاں کس کس سوغات کو یاد کیا جائے۔

گاؤں اور محلے کے بوڑھے مرد و خواتین جو آتے جاتے بچوں کو ٹوکتے، جھڑکتے، آنکھیں نکالتے مگر دل میں بچوں کے لئے محبت کا سمندر موجزن رکھتے، بڑے بزرگ بغیر کسی امتیاز و تفریق کے بچوں سے شفقت کے ساتھ پیش آتے اور بچے بغیر پیشہ ذات پات کا لحاظ کئے بزرگوں کا احترام کرتے، گاؤں اور محلے کی ہر لڑکی بہن اور بہو بھابھی ہوتی تھی ہر بزرگ چاچا اور خاتون پھوپھو یا خالہ، شہر آ کر اس ماحول، ایسے چھتر چھایہ لوگوں کی یاد بہت ستاتی ہے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد ان یادوں کو تازہ کرنے گاؤں چلا جاتا ہوں۔

بھارتی شاعر نے بچپن کی یادوں کو بڑی خوبصورتی سے سمیٹ کر نظم کی شکل دی، کہتے ہیں:

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

پنجابی شاعر نے اپنے جذبات کی یوں ترجمانی کی۔

اپنا گراں ہووے توتاں دی چھا ں ہووے

وان دی منجی ہووے سر ہیٹھاں بانہہ ہووے

شہر میں اللہ کی ہر نعمت اور جدید سہولت دستیاب ہے آرام دہ گاڑی، گھر، وسیع تعلقات مگر گاؤں میں تانگے اور ٹریکٹر پر سواری، چلتے سہاگہ یا جھلہار والے کنویں کے بیل کے ساتھ گادی پر بیٹھ کر جھولے لینے کا مزہ ہی اور ہے، وہ آبائی گھر جہاں سارا خاندان اکٹھے رہتا، اس گھر سے جڑی یادیں کھرچنے سے بھی نہیں مٹائی جا سکتیں، اس گھر کی ایک ایک خشت سے الگ الگ یادیں جڑی ہیں، امریکہ، کینیڈا، چین، سوئٹزرلینڈ جیسے ممالک میں پائی جانے والی سہولتیں اور نعمتیں اس گھر کے سامنے ہیچ دکھائی دیتی ہیں، یہ گھر ہمارے خاندان کے اتحاد و یکجہتی کا ضامن تھا، اس گھر کی دیواروں اور چھت تلے وہ امن سکون شانتی اطمینان راحت ملی جس کا کسی محل میں بھی تصور کرنا ممکن نہیں۔ اب میں جب بھی گاؤں جاتا ہوں پرانی یادوں کا ہجوم بے کراں ذہن و دل پر یلغار کرتا ہے، کھٹی میٹھی تلخ شیریں ان یادوں میں بچپن، لڑکپن، جوانی کی انمٹ، تسکین بخشنے والی یادیں بھی شامل ہوتی ہیں یہ یادیں کبھی چہرے پر مسکان لاتی ہیں تو کبھی دل کو افسردہ کر جاتی ہیں۔

مزید : رائے /کالم