جی سی یونیورسٹی کی علمی روایات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے!

جی سی یونیورسٹی کی علمی روایات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے!

  



پروفیسر احمد علیم شعبہ انگریزی، گورنمنٹ ایم اے او کالج، لاہور سے منسلک ہیں۔ 10 مء 1962ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے، سینٹ میری کونونٹ، ساہیوال سے پرائمری تعلیم حاصل کی اور پھر 1978 میں ماڈرن سٹینڈرڈ ہائی سکول، لاہور سے میٹرک کر کے گورنمنٹ کالج، لاہور سے ایف اے، بی اے اور ایم اے انگریزی کیا۔ جی سی میں مدیر 'راوی'، مدیر اعلی 'پطرس' (ڈاکٹر سید نزیر احمد نمبر)، سیکرٹری مجلسء اقبال، انجمن صوفی تبسم، اور سینیرز کلب رہے۔ جی سی اور نیو ہوسٹل سے تین رول آف آنر حاصل کرنے کے علاوہ جی سی کے تین 'سی ڈی ایس' ایوارڈ برائے میوزک سوسائٹی، کالج گزٹ اور مجلسء اقبال حاصل کیے۔ مسلسل پانچ برس جی سی سپورٹس کلب کی ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ اور باکسنگ ٹیمز کے بنیادی سپورٹس مین کی حیثیت سے ہمیشہ پنجاب یونیورسٹی اور پاکستان یونیورسٹی کے مقابلوں میں کامران رہے، تین جی سی' کالج کلر' بھی حاصل کیے۔ روزنامہ نوائے وقت اور امروز میں جی سی ڈائری بھی لکھتے تھے، اور لاہور ریڈیو سے یونیورسٹی پروگرام بھی کنڈکٹ کرتے تھے۔

جی سی کی روایت میں ہونے والے اقبال ڈے کے مقابلہء اس مضمون نویسی میں مسلسل چار برس جی سی کے 'بیسٹ مضمون نگار' کے ریکارڈ ہولڈر رہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے 1981 میں تھرڈ ائیر کے سٹوڈنٹ کی حیثیت سے اپنے طور پہ جی سی کی روایت کی ادبی اور ثقافتی زندگی کو شعورنو سے مزین کیا۔ اس وقت جی سی مارشل لا کے دنوں کی گرفت میں ادبی اور علمی جمود کا شکار تھا، جی سی میں نئے پرنسپل ڈاکٹر عبدلمجید اعوان آ گئے تھے، اور شعبہ اردو میں ڈاکٹر سید معین الرحمان ھیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تھے۔ احمدعلیم نے اپنے طور پہ چند دوستوں ایاز محمود، محمد مالک بھلہ کو ملا کر اپنے طور پہ مجلس اقبال، انجمن فارسی، پنجابی مجلس اور نزیر احمد میوزک سوسائٹی کو متحرک کیا۔ اس زمانے میں سر فضل حسین ریڈنگ روم کی ایک چابی احمدعلیم کی تحویل میں ہوتی تھی اور وہ خود یہاں تسلسل سے علمی و ادبی تقاریب کا باوقار انعقاد کراتے رہتے تھے۔ اساتذہ میں سے ڈاکٹر حامد خان حامد، ڈاکٹر سید معین الرحمان، پروفیسر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر مظفر عباس، ڈاکٹر آغا یمین، ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی، پروفیسر افضل علوی، ڈاکٹر حسن اختر، ڈاکٹر عبدالحمید خیال، پروفیسر مشرف انصاری، ڈاکٹر سعید مرتضی زیدی، پروفیسر عبدل عزیز بٹ، ڈاکٹر اظہر علی رضوی اور دیگر کی کریمانہ مشاورت اور معاونت سے احمدعلیم نے گورنمنٹ کالج لاہور کی ادبی، علمی اور ثقافتی روایت کو ڈاکٹر سید نذیر احمد کی روایت کے سنہری دور کی بازیافت کا تسلسل بنا دیا۔

یکم نومبر 1987ء کو احمدعلیم نے بطور لیکچرار انگریزی، گورنمنٹ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور سے سروس کا آغاز کیا۔

1989ء میں جی سی لاہور کے ایک سو پچیس سالہ جشنء تاسیس کی مناسبت سے جی سی کے تاریخی تدرج و ارتقا کے حوالہ سے جی سی کی اردو میں تاریخ پہ مشتمل ریفرینس بک، "روایت کا سفر۔۔ ایک تاریخی جائزہ" لکھی۔

1992ء میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور کے صد سالہ جشنء تاسیس پہ کریسنٹ کے منتخبات پہ مشتمل غزل اور نظم پہ دو کتب اور کریسنٹ کا صد سالہ خصوصی شمارہ تدوین کیا۔ علاوہ ازیں روزنامہ نوائے وقت میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لاہور کی صد سالہ تاریخ بھی لکھی، اور ایک بک لیٹ بھی شائع کی، ایک کتاب میں اسلامیہ کالج، لاہور کی اردو میں تاریخ بھی لکھی۔ بعد ازاں اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور کے علمی و ادبی شمارے کریسنٹ کے چھ میگزین بھی تدوین کیے۔

یکم نومبر 1987ء تا 9 اپریل 2012ء اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور سے پھر تا حال گورنمنٹ ایم اے او کالج، لاہور منتقلی ہوئی۔ اسی اثنا میں قلمی روایت میں مزید آٹھ کتب کا اضافہ ہوا۔ کریسنٹ کے منتخبات پہ "تخلیقی روایت" اور "تخلیقی ورثہ"، شاعری کی کتاب "تجرید"، نقد و نظر کی کتاب "نظریہء تخلیق"، کہانیوں اور افسانوں پہ مشتمل "میں زندگی چاہتا ہوں "، انشائیوں پہ مشتمل "لذتء وصل کوئی کیا جانے"، دو کتب انگریزی میں بھی مندرجہ ذیل شائع ہوئیں:

"Don't kill my Children"

"The Riddle"

انگریزی زبان و ادب میں 'دی رڈل' نامی کتاب انشائیہ پردازی کی منفرد مثال ہے، جبکہ 'ڈونٹ کل مائی چلڈرن' پاکستانی معاشرے کی حالیہ دھائی کے قومی المیوں کی حقیقی منظر کشی کی شارٹ سٹوریز ہیں۔ احمدعلیم کی بیشتر کتب عظیم اکیڈمی پبلشرز، اردو بازار، لاہور سے شائع ہوئی ہیں۔

ہمارے روزنامہ پینل کے پروفیسر قاضی اکرام بشیر نے حسب روایت جوہرشناسی کی بازیافت کرتے ہوئے پروفیسر احمد علیم سے خصوصی انٹرویو کیا، جس کے مندرجات پیش خدمت ہیں:

قاضی اکرام بشیر: جناب احمدعلیم آپ سے 1984ء میں جی سی انجمن فارسی کی ایک تنقیدی نشست میں ملاقات ہوئی تھی، آپ ان دنوں انجمن فارسی اور مجلس اقبال کے سیکرٹری کی حیثیت سے بہت فعال تھے، ساتھ ہی سینئرز کلب کے سیکرٹری اور راوی کے مدیر بھی تھے، آپ اتنی ساری ذمہ داریوں سے کیسے عہدہ برا ہوتے تھے؟

قاضی صاحب! اپنا ایک شعر اس کے جواب میں پیش کرتا ہوں:

اس درجہ حسن ذوق سے بڑھنے لگا جنوں

اک نقطہء خیال میں رکھدی ہے کائنات

(علیم)

اصل میں ہماری زندگی اللہ کی رحمت ہے، ایک ایک لمحہ خوبصورتی کا لمحہ ہوتا، ہمارا وقت ہمارے پاس اللہ کی امانت ہوتا ہے، اسے لمحہ لمحہ زندگی سے بھر پور ہونا چاہیئے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ:

اس رقصء کائنات میں رقصاں ہوں بے خبر

اپنے ہی دائرے میں مگر کارساز ہوں

(علیم)

اللہ تعالٰی کی رضا میں اپنی مرضی کو محو کر دینے میں ہی زندگی کی احسن تکمیل سمجھتا ہوں، اسی لیے ہمیشہ اپنی کمٹمنت میں سرخرو رہا۔ جی سی کی پوری تاریخ میں شاید اور کوئی نہ ہو جو مجھ جیسا مکمل طالب علم رھا ہو، میری شخصیت سازی بھی تو جی سی کا کرشمہ تھی اور اسی لیے میں اپنے جی سی کو سنوارتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ اس وقت جی سی کے پرنسپل ڈاکٹر عبدلمجید اعوان مجھے اتنی اہمیت دیتے تھے کہ میرے کہنے پہ انہوں نے کالج ٹاور کے مدتوں سے رکے ہوئے کلاک کو نہایت عرق ریزی سے وقت کی رفتار سے ہم آہنگ کر دیا۔ ایک اعلی مثال یہ بھی ہے کہ میں واحد سٹوڈنٹ ہوں گا جسے کبھی کسی خرچے کا کوئی بل جمع نہیں کرانا پڑتا تھا، میں ہفتے میں تین تقاریب، سیمینار، مشاعرہ، قومی ایام کی تقریب، کتب کی تقریب رونمائی، شخصیات کے تاسیسی فنکشن، خصوصی لیکچرز اور کوئی بھی تقریب سر فضل حسین ریڈنگ روم میں منعقد کرتا رہتا تھا اور مہمانان کی باوقار تواضع کا لازمی اہتمام بھی ہوتا، لیکن کالج سے کبھی بازاری بل کا تقاضا ہوا نہ کوئی تحریری درخواست دینی پڑی، میں نے بھی کبھی ایک پیسہ زاید لیا نہ کالج نے ایک پیسہ کم دیا۔ میں جو اتنی ساری سرگرمیوں کو ایک ساتھ نبھا پاتا تھا، تو اس کی وجہ پرنسپل ڈاکٹر عبدلمجید اعوان صاحب کا مجھ پہ اعتماد تھا، میں تو انہیں جی سی کے شاہ جہاں کہتا ہوں، جی سی کی جو بنیادی شکل و صورت آج ہے وہ ڈاکٹر عبدلمجید اعوان کی محبت کا ہی مظہر ہے، اگرچہ ارتقائی عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔

س: احمدعلیم صاحب! آپ زمانہء طالبعلمی سے ہی منفرد انداز کی شاعری کرتے تھے، بانسری بھی بجاتے تھے، تقریر بھی کرتے تھے، آپ جی سی میں شجر کاری بھی کرتے تھے۔ آپ کے یہ سب کام آپ کی رومانوی شخصیت سے قوت حاصل کرتے ہوں گے، کیا آپ رومان پرور شخصیت ہیں؟

ج: عزیزم قاضی صاحب! میں انگریزی علم و ادب والے رومینٹیسزم کا قائل ہوں۔ دیکھیں اور سوچیں، کیا کائنات کے کسی عنصر میں کسی غم، دکھ اور درد کا تاثر ملتا ہے۔ غمی اور خوشی کی اصطلاحات انسانی معاشروں کے انفرادی تاثرات ہیں۔ ہمیشہ سے معاشرے جنگوں کے بعد ارتقا پاتے رہے، معاشرتی ارتقا ہمیشہ ہی کیوں انسانی خون پہ اپنی بنیادیں استوار کرتا ہے۔ ترقی یافتہ قومیں دوسری اور تیسری دنیا کی محنت چوری کر کے ترقی یافتہ کیوں کر ہو سکتی ہیں؟ شاید میری شخصیت کا رومانوی تاثر میرے نرم مزاج اندروں بیں نفسیاتی خوف کی تلافی کا ایک انداز ہو۔

س: اپنی ایک کتاب "نظریہء تخلیق" کے حوالے سے صراحت فرمایئے، آپ کے خیال میں نظریہء تخلیق کیا ہے؟

ج: نظریہ تخلیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بلا شرکت غیرے خالقء عظیم ہے۔ وہی ہر تخلیق کا سرچشمہ ہے اور تخلیق کی ہر ہیئت اسی کے ارادے اور عظیم ترین شعور کی پیداوار ہے۔ توانائی کی ہر موج، قوت کی ہر لہر اس کی ہی صفات اور اوصاف کی آئینہ دار ہے۔ تمام روح سے اور جان سے متصف اور بے جان تخلیقات و اجسام، ہر تخلیق اور اس کے مدارج و مراحل، سب اسباب و علل اسی قادرِمطلق کے تخلیق کردہ ہیں، سب کچھ اسی کا مرتب کردہ ہے۔

س: آپ زندگی اور موت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

ج: کہاں مجال کہ اک موت مارتی مجھ کو

فنا کے بعد مجھے لافنا میں جانا تھا (علیم)

میں زندگی کو بہت خوبصورت اور آسان فہم انداز سے دیکھتا ہوں۔ زندگی کا آسان ہونا محض پرآسائش ہونا نہیں ہے، یہ تو زندہ رہنے کا ایسا قرینہ ہے جو زندگی کو باعث رحمت بناتا ہے۔اپنی ذات کے خول سے نکل کر دوسروں کی دلجوئی کریں۔ دوسروں کے درد کم کرنے کی کوشش کرتے رہیں، تبھی زندگی کا سکھ پا سکیں گے، ایسی ہی آسان زندگی سے موت کا روایتی خوف لافانی زندگی کو خوش آمدید کہنے پہ منتج ہوسکتا ہے۔

س: تو کیا ایسی آسان زندگی کے لیے اپنی ذات کی مسلسل قربانی درکار نہیں ہوتی؟

ج: نہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی کیوں کہ پریشانی ہمیشہ پشیمانی سے جنم لیتی ہے۔ دوسروں کے لیے مخلص سوچ رکھنے والا اپنی شخصیت کی پاکیزگی پہلے کرتا ہے۔ یہ سلسلہ نہ صرف شخصیت کا مثبت ارتقا کرتا ہے، بلکہ ذات کے حصول کا باعث بھی بنتا ہے۔ مسلسل قربانی تو ذات کے حصول کا بنیادی مرحلہ ہے،اور ضمنا" عرض کرتا چلوں کہ محبت اور خلوص ذات کے ادراک کے وجدانی عناصر ہیں۔

س: ذات کیا ہے؟

ج: ذات وہ حقیقی میں ہے، جو بنیادی طور پہ تخلیقی صفت ہے۔

س: کیا محبت اور خلوص سے علم کو بروئے کار لا کر جامع اور مکمل شخصیت کی ترویج ممکن ہوتی، آپ علم کو کیسے دیکھتے ہیں؟

ج: محبت اور خلوص سے علم کو بروئے کار لا کر، جامع اور مکمل شخصیت کے شعور سے ہی ذات کا شعوری ادراک جنم لیتا ہے۔ میرے خیال میں علم اللہ کی صفات اور اوصاف کا ادراک و انکشاف ہے۔ انسان ہی فی الوقت بے شمار خدائی صفات سے معمور شاہکار تخلیق ہے۔ علم ان خدائی صفات کا شعور ہے۔ علم سے ذات کا شعوری ادراک بیدار ہوتا ہے۔

جو بھی اپنی ذات سمجھا وہ خدا کو پا گیا

فرد خود سمجھے خدا خود ہی سمجھ آنے لگے (علیم)

س: آپ جب جی سی کے طالب علم تھے تو کالج کے معروف شاعر تھے، کیا بعد میں یہ شوق قائم رہا یا مرورء زمانہ کی نظر ہو گیا؟

ج: قاضی صاحب ایک تو سچائی یہ ہے کہ میں نے خود کو کبھی شاعر کی حیثیت سے پیش نہیں کیا، دوسرے یہ کہ میں شاعری صرف اپنے لیے کرتا ہوں، اپنے ذہنی ارتقا کی مختلف کیفیتوں کے موسیقارانہ اظہار سے خود لطف اندوز ہو کر اپنی فکری جہتوں سے حظ اٹھاتا ہوں۔ میری شاعری کے دو انداز ہیں: بے نیازی اور رومانوی، اور فکری اور کلاسیکی۔ یہاں قارئین کی تفریح طبع کے لیے چند اشعار پیش خدمت ہیں:

میں پر لگائے اڑتا رہا آسماں در آسماں

رکھ دیا اس نے میرا خاک میں ہونا شامل

……٭……

کہاں مجال کہ اک موت مارتی مجھ کو

فنا کے بعد مجھے لافنا میں جانا تھا

٭٭٭

……٭……

کہ جب سے تو نہیں ہے تو ہی تو ہے

میں اپنے آپ ہوں گویا نہیں ہوں

……٭……

بہت دنوں سے یہ ارمان میرے دل میں ہے

میں جس سے پیار کروں اس کو ٹوٹ کر چاہوں

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1