فاقہ کشی، شیر خوار سمیت ماں کی خودکشی!

فاقہ کشی، شیر خوار سمیت ماں کی خودکشی!

  



معاشی ابتری، کم تر آمدنی، مہنگائی اور فاقہ کشی نے مبینہ طور پر ایک ماں کو کمسن بچے سمیت جان دینے پر مجبور کر دیا۔ مکہ کالونی نصیر آباد کی روبینہ دو بچوں کو بلکتا چھوڑ کر تیسرے شیر خوار کو اپنے ساتھ لے کر اللہ کے دربار میں فریاد کے لئے پہنچ گئی ہے۔ خاتون کے خاوند اسلم کے مطابق وہ ایک جوس کارنر پر ملازم ہے۔ کاروبار میں مندے کی وجہ سے اس کی آمدنی بہت کم ہے، کرائے کا مکان اور بیوی سمیت تین بچوں کا خرچ پورا نہیں ہو پاتا کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔اس وجہ سے بسا اوقات گھر میں کھانا نہیں پکتا چہ جائیکہ کہ کرایہ مکان اور بچوں کے لئے مسلسل دودھ ملتا رہے، گزشتہ روز مالک مکان نے عدم ادائیگی کے باعث سخت بے عزتی کی تھی۔ روبینہ گھر سے شیر خوار کو ساتھ لے کر اپنی بہن سے قرض لینے نکلی لیکن ریل گاڑی کو آتے دیکھ کر یکایک اس کے سامنے کود کر بچے سمیت جان دے دی۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ بچے کے لئے دودھ نہیں تھا وہ رو رہا تھا، ماں برداشت نہ کر سکی۔ حقائق اس سے معمولی مختلف بھی ہو سکتے ہیں لیکن شواہد یہی ہیں کہ بھوک نے روبینہ کو جان دینے پر مجبور کیا۔ یہ بہت دردناک سانحہ ہے۔ اس سے پہلے بھی غربت، بے روزگاری اور فاقہ کشی کے باعث خودکشی کے واقعات ہوئے ہیں۔ تب بھی کہا گیا اور اب بھی یہی عرض کیا جا سکتا ہے کہ حکمران، اشرافیہ، اس ملک کے منتظم اور چلانے والے احساس کریں۔ یہ درست کہ وزیراعظم نے نوٹس لے کر یوٹیلٹی سٹوروں پر اشیاء سستی کی ہیں، لیکن ماہرین معاشیات و اقتصادیات کی نظر میں یہ کوئی حل نہیں اور نہ ہی اس سے غربت اور فاقہ کشی جائے گی۔ ضرورت معاشی استحکام اور مجموعی حالات کو درست کرنے کی ہے، جس سے لوگوں کو روزگار ملے اور اتنی آمدنی ہو کہ فاقہ کشی کے باعث کوئی خودکشی نہ کرے کہ ریاست مدینہ میں ایسی اموات کا ذمہ ”خلفاءؓ“ خود لیتے تھے۔

مزید : رائے /اداریہ