مہنگائی مخالف مہم،کامیابی کے امکانات؟

مہنگائی مخالف مہم،کامیابی کے امکانات؟
مہنگائی مخالف مہم،کامیابی کے امکانات؟

  



یہ کوئی زیادہ دیر کی بات نہیں،تھوڑا پہلے کا قصہ ہے،جب پنجاب میں سستی روٹی سکیم شروع کی گئی اور روٹی کی قیمت دو روپے مقرر کر کے تنور والوں کو سستا آٹا فراہم کیا گیا۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف تھے اور ان دِنوں بھی مہنگائی کی بات ہوئی۔ یہ گندم کی فصل کا سیزن تھا۔حکومت نے گندم کی خریداری کے مراکز بنا کر نہ صرف بار دانہ تقسیم، بلکہ کاشت کاروں سے گندم نقد خریدنا شروع کی تھی،ایک روز ہم دفتر میں تھے کہ وزیراعلیٰ ہاؤس سے فون آیا اور ہمیں بتایا گیا کہ صبح8بجے پرانے ایئر پورٹ پہنچ جائیں، کہیں جانا ہو گا،ہم بروقت پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی ہمراہی ہو گی کہ میڈیا منیجر حضرات نے یہ مناسب جانا تھا کہ کچھ پرانے صحافیوں کو اکیلے بُلا کر ساتھ کیا جائے،وقت پر وزیراعلیٰ بھی آ گئے اور سلام دُعا کے بعد ایئر پورٹ پر کھڑے وزیراعلیٰ کے خصوصی طیارے پر روانگی ہوئی۔معلوم ہوا کہ سرگودھا جانا ہے جہاں گندم کے خریداری مراکز کا معائنہ ہو گا، وزیراعلیٰ کے خصوصی سیکرٹری ڈاکٹر قدیر بھی ساتھ تھے،جہاز سے اڑان بھری، پرواز سیدھی ہوئی تو غیر رسمی بات چیت بھی شروع ہو گئی،جلد ہی بات سستی ر وٹی پر آ گئی، ہم نے مودبانہ گذارش کی کہ یہ چل نہیں سکے گی اور جن لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے کیا گیا ہے ان کو کچھ حاصل نہیں ہو گا،اِس لئے بہتر ہوتا کہ آٹے پر سبسڈی دے دی جائے،وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اپنے مخصوص انداز میں تردید کر دی اور موقف بتایا کہ وہ یہ سب عام اور غریب لوگوں کی سہولت کے لئے کر رہے ہیں،

سبسڈی سے تو بڑے لوگوں کو بھی فائدہ ہو گا، ہم نے پھر گذارش کی کہ یہ تصور درست نہیں،جہاں تک بڑے (امیر) لوگوں کا تعلق ہے تو وہ روٹی کہاں کھاتے ہیں،ان کے لئے پھلکا پکتا اور اس میں سے بھی کم ہی کھاتے ہیں، جیسا کہ خود میاں محمد شہبازشریف کی خوراک ہے، جبکہ غریب،مزدور اور دیہاڑی دار کا گذارہ ہی روٹی پر ہے وہ ایک وقت میں تین سے چار روٹیاں کھاتا ہے،لہٰذا اس کے لئے تو آٹا ضروری ہے،جو سستا ہو گا تو اس کے گھر میں روٹیاں پک جائیں گی۔بہرحال میاں صاحب نے اس سے اتفاق نہ کیا،سرگودھا کے فضائی اڈے پر اترنے کے بعد کئی مراکز کا دورہ ہوا اور معائنہ کے بعد واپسی ہوئی، آتے وقت اس گاڑی میں ضلع سرگودھا مسلم لیگ کے صدر بھی ساتھ بیٹھ گئے اور ایئر پورٹ تک آئے،راستے میں انہوں نے سستی روٹی منصوبے کی زبردست تعریف کی اور پیشکش کی کہ وہ خود سے میکنیکل تنور بنا کر دیں گے،ان میں ڈیڑھ دو سو روٹی بیک وقت پک سکیں گی۔میاں صاحب ہماری طرف دیکھ کر مسکرائے اور آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ”اب بولو“ ہم نے کیا بولنا تھا، چُپ رہے،لیکن بھٹو دور کی پکی پکائی تازہ روٹی ضرور یاد آئی۔ وہ ایک کمرشل نظام تھا اور پیکٹ بنا کرروٹی بیچی جاتی تھی،لیکن وہ بھی نہ چل سکی۔بہرحال بات آئی گئی ہو گئی اور پھر جو ہونا تھا ہوا، شکایات کی بھرمار ہوئی اور بالآخر یہ سودا بند کرنا پڑا۔ ہمیں یاد ہے کہ خود وزیراعظم عمران خان سستی روٹی منصوبے پر تنقید کرتے اور قومی خزانے سے خرچ کی جانے والی رقم کا حساب مانگا کرتے تھے۔اب وہی یہ رعایتی منصوبہ شروع کر چکے ہیں۔

جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے کہ وزیراعظم نے مہنگائی کے خلاف جہاد شروع کیا ہے، ہم ان کو سلام پیش کرتے ہیں، چلو ان کو احساس تو ہوا کہ مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی اور بقول ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اب وزیراعظم مہنگائی کی ٹانگ توڑ رہے ہیں،لیکن نہ تو ڈاکٹر فردوس عاشق اور نہ ہی محترم وزیراعظم عمران خان زمینی حقائق سے مکمل طور پر واقف ہیں،جس کا تفصیلی ادراک ہونا چاہئے،پہلی بات تو یہ ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے لئے ایسی تجویز بنا کر منظور کرانا بھی ”بڑے ذہین“ لوگوں کا کام ہے کہ انہوں نے مزید دس سے پندرہ ارب روپے کی سبسڈی لے لی، حالانکہ ابھی گذشتہ دِنوں ہی چھ ارب روپے حاصل کر چکے ہیں،ان چھ ارب روپے کے عوض اشیاء تو سستی کیا ہونا تھیں، ان کے نرخ بڑھا دیئے گئے، غالباً ان کو مزید سبسڈی کی توقع تھی، چنانچہ ویسا ہی ہوا اب وزیراعظم نے احساس کیا اور مہنگائی کے خلاف مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تو اس کو کامیاب بھی ہونا چاہئے،لیکن سکیم/تجاویز تیار کرنے والے حضرات کو شاید ادراک نہیں کہ مارکیٹ کے مقابلے میں یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاء کے نرخوں کا موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہو جاتا ہے کہ ریلیف کچھ زیادہ نہیں،جبکہ اشیاء کے معیار پر احتجاج ہی کیا جا سکتا ہے، اب اگر مزید بڑی رقم یہاں دی گئی ہے تو اس کے استعمال اور جائز استعمال پر بھی غور کرنا چاہئے۔

دلچسپ امر صرف ایک شے کا ذکر کر کے بتا دیتے ہیں۔آٹا سرکار کی ہدایت کے مطابق 804 روپے(20کلو) تھا، یوٹیلیٹی سٹور والوں نے اس کی قیمت820روپے کر دی اور اب نئی سبسڈی کے بعد وہی آٹا اب 805 روپے(20کلو تھیلا) میں ملے گا۔یوں حقیقتاً اسے ایک روپیہ فی تھیلا مہنگا کیا گیا ہے، جہاں تک عام آدمی اور مزدور کا تعلق ہے تو زمینی حقائق یہ ہیں کہ مزدور،دیہاڑی دار ہے،اسے تنور سے روٹی خرید کر کھانا ممکن نظر نہیں آتا، کہ اس کو اپنے اور اپنے بچوں کے لئے زیادہ روٹیوں کی ضرورت ہے اور پھر اس کا یوٹیلیٹی سٹور بھی جانا نہیں ہوتا کہ وہ گروسری اکٹھی خرید ہی نہیں سکتا، وہ تو کلو دو کلو آٹا خرید کر گھر روٹیاں بنواتا ہے کہ اسی طرح گذارہ ہوتا ہے۔ اس کے پاس805روپے کہاں؟ کہ پورا تھیلا خرید سکے ایسا ہی کچھ دوسری ضروریات کا بھی معاملہ ہے، البتہ سفید پوش طبقہ ضرور ان سٹوروں پر جاتا ہے اور ان کو خاصہ وقت صرف کر کے راشن خریدنا ہوتا ہے۔اس طبقے کو زیادہ فرق نہیں پڑا کہ قیمت بڑھا کر کم کی گئی ہے،جس کا مقابلہ اب بھی مارکیٹ سے ممکن نہیں،بہتر عمل تو یہ ہے کہ ان اشیاء کے نرخوں پر کنٹرول کیا جائے اور یہ سب مارکیٹ میں آنے تک منافع خوری کا ذریعہ نہ بنیں، جب تک مارکیٹ کو ٹھیک نہیں کیا جاتا یہ سب نظام نہیں چلے گا،اِس لئے مارکیٹ کی ضرورت کو پورا کیا جائے۔ یہ نہیں کہ سب رعایت یوٹیلیٹی سٹوروں کے حوالے سے ہو،اصل تعلق مارکیٹ کا ہے کہ ضرورت اور رسد میں توازن رکھا جا سکے۔

مزید : رائے /کالم