ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور بوڑھے پینشنر

ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور بوڑھے پینشنر
ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور بوڑھے پینشنر

  



اس آیت کے ترجمے سے آپ اندازہ لگائیں جو شخص عمر کے اس حصے، یعنی ارذل العمر (نکمی عمر) میں پہنچایا جاتا ہے، اس کی ذہنی اور جسمانی حالت کیا ہوتی ہے؟ یعنی پہلے جانتے ہوتے ہیں پھر بڑھاپے کے باعث سب کچھ بھول جاتے ہیں اور کچھ نہیں جانتے۔ ردی عمر کا ہونا ایک عیب ہے، جس سے پناہ مانگی گئی ہے،جیسا کہ سیدنا حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ اس طرح کی دعا کیا کرتے تھے۔ ترجمہ: اے اللہ مَیں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل اور سستی سے، نکمی و خراب عمر سے اور قبر کے عذاب سے اور دجال کے فتنے اور زندگی اور موت کے فتنے سے ……(بخاری، مسلم)…… اسی لئے تو اسلام میں ایک فلاحی مملکت کا تصور دیا گیا ہے جس کی ایک عملی مثال ہمیں ریاست مدینہ میں ملتی ہے۔ یورپ والوں نے تو اپنے بوڑھوں کے لئے اولڈ ایج ہوم بنا لئے ہیں، لیکن ہمارے دین اسلام نے والدین کی خدمت کرنا ایک بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے: ”اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو“۔

تفسیر ابن کثیرمیں بحوالہ مسند حافظ ابویعلیٰ موصلی میں ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں، بچہ جب تک بلوغت کو نہ پہنچے اس کی نیکیاں اس کے باپ کے یا ماں کے نامہ اعمال میں لکھی جاتی ہیں اور برائی نہ اس پر ہوتی ہے، نہ ان پر (یعنی والدین پر) بلوغت پر پہنچتے ہی قلم اس پر چلنے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ فرشتوں کو اس کی حفاظت کرنے اور اسے درست رکھنے کا حکم مل جاتا ہے۔ جب وہ اسلام میں ہی چالیس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے تین بلاؤں سے نجات دیتا ہے۔ جنون سے، جذام سے، برص سے…… جب اسے اللہ کے دین پر پچاس سال گزرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے۔ جب وہ ساٹھ سال کا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی کے کاموں کی طرف اس کی طبیعت کا پورا میلان کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف راغب کر لیتا ہے۔ جب ستر سال کا ہو جاتا ہے تو آسمانی فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسی برس کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں تو لکھتا ہے، لیکن برائیوں سے تجاوز کر لیتا ہے۔ جب نوے برس کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔ اس کے گھر والوں کے لئے اس کی سفارش قبول کرتا اور اسے شفیع بنا دیتا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں امین اللہ کا خطاب پاتا ہے اور زمین میں اللہ کے قیدیوں کی طرح رہتا ہے، یعنی اسیر اللہ…… جب بہت بڑی ناکارہ عمر کو پہنچ جاتا ہے اور جب علم کے بعد بے علم ہو جاتا ہے تو جو کچھ وہ اپنی صحت اور ہوش کے زمانے میں نیکیاں کیا کرتا تھا، سب اس کے نامہ اعمال میں برابر لکھی جاتی ہیں اور اگر کوئی برائی اس سے ہو گئی تو وہ نہیں لکھی جاتی۔ یہ حدیث بہت غریب ہے اور اس میں سخت نکارت ہے۔ باوجود اس کے اسے امام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں لاتے ہیں۔حضرت انسؓ سے موقوفاً اور مرفوفاً بھی اور حضرت عبداللہ بن عمر الخطابؓ سے از فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پھر سید نا انسؓ سے ہی دوسری سند سے مرفوعاً یہی وارد ہے۔ حافظ ابوبکر بن بزارؒ نے بھی یہ روایت حضرت انس بن مالکؓ حدیث مرقوع میں بیان کی ہے اور مسلمانوں پر رب کی مہربانی کا تقاضا بھی یہی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری عمر میں نیکی کے ساتھ برکت دے۔

(آمین)

یاد رہے! ان ساری باتوں کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارذل العمر، یعنی بڑھاپے کی عمر کی قدر کرتے ہیں اور ان کو آخرت میں بھی سفارش کرنے والا، یعنی شفیع بنائیں گے ان کی خدمت کرنے کے لئے ان کی اولاد کو والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا درس دیا تاکہ اس بڑھاپے کے حکم میں ان کی اولاد ان کا سہارا بن کر ان کی زندگی کے اس مرحلے کی مشکلات کم کرنے میں ذریعہ بنے اور اپنے لئے ذخیرۂ آخرت کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔ اب یہی بوڑھا ایک ریاست میں رہتا ہے۔ اس میں حکمرانوں کے لئے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی رعایا کے لئے، آسانیاں پیدا کریں، مشکلات پیدا کرنے سے گریز کریں۔یاد رہے اسی عمر میں ایک طبقہ ایسا ہوتا ہے جو حکومت کے اندر رہ کر اپنی خدمات عوام کے لئے مختص کرتا ہے، گویا اپنی زندگی کا سنہری وقت وہ حکومت کی وساطت سے عوام کو دیتا ہے جس کے بدلے میں اس بوڑھے شخص کو اس کی بڑھاپے کی عمر میں آسانی پیدا کرنے کے لئے پنشن دی جاتی ہے، پھر پنشن دینے کا ایک طریقہ کار حکومت طے کرتی ہے، جس کے لئے مختلف محکمے اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ جب اس کی پنشن کے تمام مراحل ختم ہو جاتے ہیں تو اس کے لئے ایک خاص رقم بطور پنشن مقرر کی جاتی ہے۔ شروع شروع میں تو بنیکوں میں بھی ڈیجیٹل نظام نہیں تھا، کمپیوٹر کی ایجاد نے تمام امور میں آسانی پیدا کرنے کے لئے ڈیجیٹل نظام کو متعارف کرایا گیا۔

اب تمام پنشنرز اپنی اپنی پنشن کی رقم اسی طریق سے وصول کرتے ہیں۔ اب نہ جانے کن وجوہ کی بنیاد پر ہر دوسرے، چوتھے مہینے، گھوسٹ پنشنرز کو روکنے کے لئے بڑی عمر کے پنشنرز کو پریشان کیا جاتا ہے۔ وہ بیچارے خود بینک جاتے ہیں، اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں کہ مَیں ابھی زندہ ہوں۔ گویا اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہیں، یہ ایکسرسائز، چھ ماہ بعد ہوا کرتی ہے زندگی کا ثبوت (ذاتی طور پر) دینے کے بعد، بینک مینجر سے گزارش کرتے ہیں کہ مجھے میری پنشن عنایت کیجئے! کبھی ایف بی آر اور کبھی گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے کوئی نہ کوئی سرکلر بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے کہ تمام پنشنرز کی پنشن کی رقم بلاک کر دی گئی ہے۔ آپ ان کے انگوٹھے کا نشان بائیو میٹرک کے ذریعے چیک کرائیں۔ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ یاد رہے پینسٹھ، ستر برس کی عمر میں انگوٹھے کا نشان بھی مٹ جاتا ہے اور بائیو میٹرک نہیں ہو پاتا، چہ جائیکہ اسی، پچاسی برس کی عمر میں اسی ایکسرسائز کو بار بار دہرایا جائے۔

اب پنشنرز کو کہا جاتا ہے کہ نئے سرے سے ایک درخواست لکھیں کہ میرا انگوٹھے کا نشان بائیو میٹرک سسٹم میں نہیں آ رہا۔ ساتھ تازہ تصویر بھی اتروائیں۔ پھر کیس اوپر دفتر کو بھیج دیا جاتا ہے۔ کئی ہفتے گزر جاتے ہیں اور کوئی جواب نہیں آتا۔ کیا یہی فلاحی ریاست ہے؟ کیا یہی ریاست مدینہ (پاکستان) ہے؟ بڑھاپے کی عمر کے لوگوں کو تو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینا چاہئیں، چہ جائیکہ ان کے آسان ترین کاموں میں مشکلات کے پہاڑ کھڑے کئے جائیں۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ ایف بی آر اور گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان نے پنشن کے طریقہ کار کو آسان اور سہل کیوں نہیں بنایا؟ اگر سربراہ حکومت کے دل میں ذرا سا بھی اللہ تعالیٰ کا خوف ہے تو اس معاملے کو فوری طور پر اٹھائیں اور متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کریں کہ ان بوڑھے پنشنرز، جن میں وہیل چیئرز پر بھی آنے والے ہوتے ہیں، ان کی بددعائیں لینے کی بجائے، دعائیں حاصل کریں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا تو روز قیامت اللہ تعالیٰ بھی حیاء کرے گا۔ کیا آپ کے وزیروں، مشیروں سے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ آپ کو درست اور صحیح مشوروں سے نوازیں اور آپ ان بوڑھے پنشنرز کی دعائیں لیں تاکہ آپ کے لئے یہ ادائیگی فرض ذخیرۂ آخرت بنے، وگرنہ روز قیامت ان کے ہاتھ ہوں گے اور آپ کا گریبان …… ذرا سوچئے!(ختم شد)

مزید : رائے /کالم