کرونا وائرس اور پاکستان

کرونا وائرس اور پاکستان
کرونا وائرس اور پاکستان

  



مَیں کل کے ”دی نیو یارک ٹائمز“ کے صفحہئ اول پر شائع ہونے والا ایک مضمون دیکھ رہا تھا۔ مغرب کی اخباری صحافت ہم سے کہیں آگے نکل گئی ہے۔ہم اپنے اُردو اخباروں میں اول و آخر کے دو صفحات پر زیادہ سے زیادہ خبروں کی کوریج دینے اور دیکھنے کے عادی ہیں۔ان صفحات پر تین چار کالمی خبر میں دو تین سطریں اور ڈیک وغیرہ میں خبر کا خلاصہ دے دیا جاتا ہے اور اس کی تفصیل کے لئے کہا جاتا ہے کہ صفحہ نمبر فلاں پر بقیہ نمبر فلاں دیکھئے۔

لیکن مغرب میں شائع ہونے والے اخباروں میں یہ ”رواج“ اب قصہ ئ پارینہ بن کر متروک ہو چکا ہے۔ وہاں کے اول و آخر صفحات میں مختصر خبروں کی جگہ مفصل اور باتصویر رپورٹیں ہوتی ہیں، جو سیر حاصل تبصروں سے مملو ہوتی ہیں ……ہم نجانے کب اس حقیقت کو سمجھیں گے۔ہمارے صفحاتِ اول و آخر آدھے رنگیں تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں،جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے اخبارات میں صفحہ اول پر شاید ایک آدھ رنگین تصویر ہو تو ہو،باقی صفحات میں بلیک اینڈ وائٹ تصاویر سے خبروں کی تفصیل مزین ہوتی ہے جو متعلقہ خبر کو ”اعتبار“ عطا کرتی اور اسے معتبر بناتی ہے۔جس خبر کا مَیں نے اوپر ذکر کیا ہے اس کا عنوان تھا: ”کرونا وائرس اور بڑے سوالات“……

اس خبر کا نامہ نگار گبریل لنگ(Gabriel Leung) نام کا ایک شخص ہے جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) میں متعدی امراض کے شعبے کا ڈائریکٹر اور ہانگ کانگ یونیورسٹی میں میڈیسن کے شعبے کا ڈین (Dean) بھی ہے۔ اس کا دوسرا اختصاص میں ہے کہ وہ ہانگ کانگ اور چین کے حکومتوں کے لئے اس نئے کرونا وائرس کا مشیر بھی ہے۔اور اس کا تیسرا اختصاص یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس نے2003ء میں چین میں پھیلنے والے اس وائرس کی رپورٹنگ کی تھی، جس کا نام SARS تھا اور جس میں 800 افراد لقمہ ئ اجل ہو کر زخمی ہوئے اور باقی زندگی مریضانہ کیفیات میں گزاری تھی۔لیکن اس موجودہ کرونا وائرس میں تو اب تک1000اموات ہو چکی ہیں اور42000 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ظاہر ہے اس قسم کی کوئی رپورٹ یا ایسی کوالی فیکشنز کا کوئی مصنف اگر کوئی مضمون /رپورٹ لکھے گا تو اس کی تحریر معتبر تو ضرور گردانی جائے گی…… اس نے جن ”بڑے سوالات“ کا ذکر اپنی رپورٹ کے عنوان میں کیا ہے وہ واقعی بنیادی قسم کے اور بڑے اہم سوال ہیں۔مثلاً یہ کہ کیا اس وائرس کی اصل وجہ جمگادڑوں کا گوشت کھانے اور ان کا شوربا پینے سے ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے؟……

دوسرا سوال یہ تھا کہ اس مرض کی تشخیص کیسے ممکن ہے اور اس کا تیز تر پھیلاؤ کس طرح روکا جا سکتا ہے؟……

تیسرا سوال یہ تھا کہ2003ء میں SARS والے وائرس میں کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں اور انسانی تاریخ کے اس عظیم ترین طاعون کو روکنے کے لئے کیا کیا اقدامات بروئے عمل لائے گئے تھے؟……

چوتھا سوال یہ کہ کیا اب چین اور ہانگ کانگ کے تمام تعلیمی اداروں کو اس وقت تک بند کر دیا جائے جب تک اس وائرس کا تدارک نہ ہو یا کھلا رکھا جائے۔؟……

پانچواں سوال یہ کہ اس وائرس کا حملہ کیا 60، 65 سال کے افراد پر ہی زیادہ ہوتا ہے اور ان میں بھی وہ لوگ شامل ہتے ہیں جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا نوجوان اورکم عمر لوگ بھی اِس کا شکار ہوتے ہیں؟……

اور چھٹا سوال یہ کہ اگر ایک آدمی پر یہ وائرس حملہ آور ہو تو اس سے کتنے مزید افراد متاثر ہوتے ہیں؟……

مسٹر لنگ نے کہا ہے کہ ہم ان پانچ سات سوالوں پر کام کر رہے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں اس وائرس کو روکنے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوئی۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس تیزی سے یہ متعدی وائرس پھیل رہا ہے اس تیزی سے اس کو روکنے کے اقدامات نہیں کئے جا سکتے۔یہ وائرس جس ناگہانی انداز میں حملہ آور ہوتا ہے اس کے حفظ ِ ماتقدم کی تدابیر کسی بھی انسانی معاشرے کے بس میں نہیں۔

مَیں سوچ رہا تھا کہ اسلام میں حلال و حرام کی تمیز میں جو تاکید کی گئی ہے اور جس تفصیل سے کی گئی ہے اس کا اعجاز دیکھئے کہ اس قسم کے وائرس کسی بھی اسلامی ملک میں آج تک نہیں پائے گئے۔ البتہ یہ دیکھنا اب ہماری ذمہ داری ہے کہ یہ اور اس قسم کے دوسرے متعدی وائرس غیر اسلامی ممالک کے مریضوں سے اسلامی ممالک کے مریضوں تک پہنچنے کی رفتار کے آگے کون کون سے بند ہیں جو باندھے جا سکتے ہیں۔…… پاکستان اُن اسلامی ممالک میں پیش پیش ہے جن میں اس وائرس کے پھیلنے کے امکانات ”وافر“ ہیں …… وجہ یہ ہے کہ گزشتہ کچھ برسوں سےCPEC کے حوالے سے پاکستان میں چینی باشندوں کی آمد آمد ہو رہی ہے اور اس تعداد میں پاکستانی باشندوں کی چین کے مختلف شہروں میں ”رخت رخت“ بھی جاری ہے۔صوبہ ہوبی کا صدر مقام ووہان(Wuhan) بھی ان چینی شہروں میں شامل ہے جہاں پاکستانی طلباء اور عام شہری بغرضِ حصولِ تعلیم اور بغرضِ تجارت گئے ہوئے ہیں۔وہ اگر ووہان(Wuhan)کی حرام جانوروں کی مارکیٹ میں نہ بھی جائیں تو وہاں کی آبادیوں کو جب یہ وائرس لاحق ہو گا تو پاکستانی اس سے کیسے بچ سکیں گے؟یہ ہمارے لئے بڑا اہم سوال ہے اور اس پر پاکستانی حکومت کو بڑی عجلت سے اپنا ردِعمل ظاہر کرنا ہو گا،جو میرے خیال میں نہیں کیا جا رہا۔

پاک چین دوستی کی گہرائی، بلندی اور مٹھاس ایک طرف رہی، پاکستان کو اپنی22کروڑ آبادی کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے عاجل (Rapid) اقدامات کی ضرورت ہے۔افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستانی حکومت اور پاکستانی میڈیا وہ اقدامات نہیں اٹھا رہا جو حفظ ِ ماتقدم کی ذیل میں آتے ہیں اور اگر یہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تو ان کی خاطر خواہ تشہیر کی ضرورت ہے۔ہمارے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی اپنا فرض نبھانے کے لئے کسی مصلحت یا تاخیر سے کام نہیں لینا چاہئے۔میرے خیال میں پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے:

٭…… چین سے پاکستان آنے والی پروازوں پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔

٭…… جو پاکستانی چین میں کسی بھی جگہ/ شہر میں مقیم ہوں ان کو وہیں ٹھہرنے کے انتظامات کئے جائیں۔چین میں حکومتی سطح پر یہ اقدامات اٹھائے جائیں کہ چینی شہروں میں (بالخصوص ووہان میں) جو پاکستانی طلبا اور پاکستانی شہری گئے ہوئے ہیں ان کو باقی چینی آبادیوں سے الگ تھلگ (Isolate) کر دیا جائے۔ اگرچہ ایسا ہو رہا ہے لیکن چین میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصل خانوں کو مزید تاکید کر دی جائے کہ وہ پاکستانی باشندوں کو مزید تاکید کر دی جائے کہ وہ پاکستانی باشندوں کو چینی باشندوں سے انٹرایکشن کرنے سے روکیں اور وہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کریں جو اس سلسلے میں وہاں کی حکومت اپنے شہریوں سے کر رہی ہے۔

٭…… پاکستان کو اپنے شہریوں کی جانوں کی حفاظت کے لئے اگر حفاظتی کِٹوں (Kits) وغیرہ کی ضرورت ہو تو ان کی فراہمی کے لئے خصوصی گرانٹ(پاکستان کے خزانے سے) جاری کی جائے۔

٭…… خنجراب کی راہداری ویسے تو موسم سرما میں مارچ اپریل تک بند رہتی ہے۔لیکن پھر بھی اِکا دُکا آمدورفت کی کڑی نگرانی کی جائے اور خنجراب چوکی پر مطلوبہ حفاظتی کیٹس (Kits) فراہم کرنے کا بندوبست کیا جائے۔

٭…… کچھ روز پہلے بتایا گیا تھا کہ ملتان اور لاہور میں تین چار چینی مریض آئسولیشن میں رکھے جا رہے ہیں۔ان پر شک ہے کہ وہ کروانا وائرس کے حملے سے فائر ہوئے ہیں اور ماضی ئ قریب میں ووہان(Wuhan)بھی گئے تھے۔ان کی آئسولیشن (Isolation) کی کڑی نگرانی کی جائے۔

٭…… پاکستانی میڈیا پر ہر روز ایک مخصوص وقت میں چین میں مقیم پاکستانی باشندوں کی صحت کا خصوصی بلیٹن آن ائر کیا جائے اور اخبارات میں اس کی کوریج کا بھی اہتمام کیا جائے۔ایسے مریضوں کی تمام تفصیلات بھی میڈیا پر جاری کی جائیں جن پر اس کرونا وائرس کے حملے کا شبہ ہو۔

٭…… جس طرح یورپی اور امریکی ممالک میں اس وائرس کو روکنے کی تدابیر کی جا رہی ہیں،ان کی تقلید کی جائے۔مثلاً بیرون ملک سے پاکستان آنے والی تمام پروازوں کی خصوصی چیکنگ کی جائے اور ہوائی اڈوں پر خصوصی میڈیکل ٹیمیں اس غرض کے لئے متعین کی جائیں اور ہر ائر پورٹ پر آئسولیشن وارڈز(Isolation Wards) بھی (ہنگامی بنیادں پر) قائم کئے جائیں۔

مزید : رائے /کالم