جنوبی پنجاب میں سیاحت کا فروغ

جنوبی پنجاب میں سیاحت کا فروغ
جنوبی پنجاب میں سیاحت کا فروغ

  



محکمہ سیاحت پنجاب چولستان میں مسلسل 14 جیپ ریلیاں منعقد کروا چکا ہے اور اس سال 15 ویں ریلی منعقد کروانے جا رہا ہے۔ یہ جیپ ریلی چولستان کی پہچان بن چکی ہے اور لوگوں کی سماجی اور معاشرتی ترقی بھی نظر آنے لگی ہے۔ یہاں پر تقریباً 5 سے 6 لاکھ سیاح پورے ملک سے آتے ہیں۔ ریلی کا دائرہ ضلع بہاولپور سے بڑھا کر مزید شہروں تک پھیلا دیا گیا ہے جس میں رحیم یارخان اور ضلع بہاولنگر شامل ہیں۔ ریلی کا روٹ 500 کلومیٹر کر دیا گیا ہے اور روٹ پر تقریباً 19 قلعے آتے ہیں۔ اس ریلی نے اس علاقے کی ترقی روزگار اور تمام لوگوں کی معاشی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں اور ان علاقوں کے لوگ اس ریلی کو ایک تہوار کی طرح مناتے ہیں اور سرا سال اس جیپ ریلی کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کامیابی کا سہرا محکمہ سیاحت پنجاب(TDCP)، ضلعی گورنمنٹ، دیگر CDA، آرمی، سپانسرز، ہوبارا فاؤنڈویشن پاکستان، نواب آف بہاولپور کی فیملی اور بہاولپور 4x4 کلب کے سر جاتا ہے۔

2005ء میں محکمہ سیاحت پنجاب نے پہلی مرتبہ چولستان میں قلعہ دراوڑ کے مقام پر ایک ڈیزرٹ ریلی منعقد کروائی جس کا بنیادی مقصد بہاولپور جہاں چولستان کی تاریخ و تمدن اور ثقافت کو دنیا بھر کی نظر میں لانا تھا وہیں چولستان کی معاشی ترقی اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی اور اس علاقے میں انفرا سٹرکچر کی بحالی شامل تھے۔ 2005ء میں یہ علاقہ پسماندگی کا شکار تھا جبکہ یہاں پر سیاحوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر تھی۔ چولستان ریلی کے انعقاد کے ساتھ ہی اس علاقے کی تقدیر بدلنا شروع ہو گئی اور یہاں پر سیاحوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا اور یہاں پربجلی، پانی، سڑکیں اور دیگر سہولیات کی فراہمی شروع ہوگئی۔

اس ریلی کے انعقاد اور انتظامات کیلئے محکمہ کو بہت سے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جس میں سب سے اہم فنڈز کی فراہمی ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے محکمہ اپنے وسائل، حکومت پنجاب اور سپانسر کے تعاون سے اکٹھا کرتا ہے جس سے اس ریلی کا انعقاد ممکن ہو پاتا ہے۔

سپانسرز عام طورپر (in kind) میں زیادہ تر اشیاء فراہم کرتے ہیں جس میں تشہیری مواد شامل ہوتے ہیں۔ محکمہ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے نہایت کفایت شعاری اور شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے ریلی کی تشہیر پورے پاکستان میں کی جاتی ہے اور ریلی کے انعقاد کے سلسلے میں لاہور، ملتان اور بہاولپور میں پریس کانفرنسز اور روڈشوز کے ذریعے ایونٹ کی آگاہی دی جاتی ہے۔ حکومت کے قواعد و ضوابط اور پیپرا PPRA کے قوانین کے مطابق ہر کام کا ٹینڈر اخبارات میں دیا جاتا ہے اور ٹینڈر میں کوالیفائی کرنیو الی فرمز/ حضرات کو کام دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ریلی کے اختتام پر تمام اکاؤنٹ کا آڈٹ بھی کروایا جاتا ہے۔ ٹی ڈی سی پی کے دراوڑ میں نہایت اعلیٰ درجہ کے ریزارٹ کی تکمیل جاری ہے جس کی زمین نواب آف بہاولپور فیملی کی جانب سے دی گئی ہے ریلی کے انعقاد میں نواب آف بہاولپور کی فیملی کا کلیدی کردار رہا ہے۔ ریلی میں کئی سالوں سے مقامی میڈیا کو ہی مدعو کیا جاتا ہے اور چولستان میں ان کے قیام و طعام کا ذمہ بھی محکمہ کے سپرد ہوتا ہے۔ محکمہ سیاحت کے علاوہ مختلف پرائیویٹ ٹور آپریٹرز چولستان میں اپنی الگ سے خیمہ بستیاں بساتے ہیں۔

کمشنر بہاول پور ڈویژن کے حکم کے مطابق چولستانی فوک میوزک کو پروموٹ کرنے کے لیے14 فروری کو ڈیراور فورٹ پر میوزیکل نائٹ منائی جائے گی جہاں صرف چولستانی اور علاقائی گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ چیمبر آف کامرس کے تعاون سے ڈیراور فورٹ پر ٹریڈ فیئر کا انعقاد کیا جائے جس میں صوبہ بھر کے چیمبر آف کامرس کے صنعتی زون شریک ہوں گے۔ اسی طرح خصوصی فوڈ سٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے گا جہاں چولستانی روایتی کھانے بھی دستیاب ہوں گے۔ ریلی کے دوران کیمل ڈانس، کبڈی اور سپورٹس کے دیگر ایونٹ بھی شائقین کی دلچسپی کے لئے منعقد کئے جائیں گے۔

محکمے کا بنیادی مقصد چولستان اور جنوبی پنجاب میں سیاحت کو فروغ دینا ہے اور محکمہ اس کوشش میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے جس سے قلعہ دراوڑ کی بحالی کا کام شروع ہو چکا ہے۔ وہاں پر سیاحوں کی آمدورفت جاری ہے اور ملک کے بڑے شہروں میں پیکج ٹورز متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح یہاں آئیں خرچ کریں جس سے اس علاقے میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور لوگ بہتر روزگار کما سکیں۔

چولستان ڈیزرٹ ریلی انٹرنیشنل موٹر سپورٹس ایونٹ ہے جس کی بدولت جنوبی پنجاب کے قدیم اور پرامن کلچر کو دنیا کے سامنے لانے کا موقع میسر ہوا۔ یوں پاکستان کے مثبت امیج کو فروغ دے کر خطہ میں سیاحت کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ممکن ہوگا۔ ویسے بھی 2020 ء پاکستان میں سیاحت کا سال منایا جارہا ہے۔ امریکی جریدے فوربز نے 2020ء میں جن اہم سیاحتی ممالک کو سرفہرست رکھا ہے ان میں پاکستان کا نام بھی پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔ بلاشبہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں فطرت کی خوبصورتی اور قدرت کی صناعی جابجا بکھری نظر آتی ہے۔

محکمہ سیاحت پنجاب نے جنوبی پنجاب میں بہت سی روایتی تاریخی جگہوں کو بطور سیاحت متعارف کروایا ہے۔ پنجاب میں بہت سے ایسے خوبصورت تاریخی مقامات موجود ہیں جو دنیا اور سیاحوں کی نظروں سے اوجھل تھے۔ محکمہ سیاحت نے ان مقامات کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کا عزم کیا اور پنجاب کے مختلف مقامات پر سیاحتی میلے، واٹر سپورٹس، موٹر سپورٹس اور دیگر ایونٹس کا انعقاد کیا۔

2005ء میں محکمہ سیاحت (TDPC) نے جنوبی پنجاب میں بہاولپور اور اس سے ملحقہ صحرا چولستان کو موسم سرما کا سیاحتی مقام بنانے کا عزم کیا۔ بہاولپور اپنے بے مثل محلوں، جگہوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چولستان جنوبی پنجاب کا خوبصورت اور زندگی سے بھرپور صحرا جو مقامی طور پر روہی کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں کئی تاریخی عمارات کی باقیات موجود ہیں اور ابھی خستہ حالت میں بھی اپنے شاندار ماضی کا پتہ دیتی ہیں۔ انہی میں سے چولستان کے ایک طرف بہاولپور کی جانب جاتے ہوئے شاندار قلعہ دراوڑ آج بھی اپنے جاہ و جلال اور وجاہت کے ساتھ شاندار ماضی کی تمام تر رعنائیاں سمیٹے کھڑا ہے۔ چولستان میں پائے جانے والی عمارتوں میں دراوڑ کا قلعہ سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے کہ جیسے ریت کے سمندر میں ایک تباہ کن بحری جہاز لنگر انداز ہے۔ 18ویں صدی بعدازمسیح کے اوائل میں فوجی طرز تعمیر کا بنایا گیا یہ قلعہ اب بھی بڑی اچھی حالت میں محفوظ ہے۔ قلعہ دراوڑ کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس کی بنیادیں اسلام سے قبل بنائے جانے والے قلعے کی بنیادوں پر رکھی گئی ہیں۔

جنوبی پنجاب کے شاندار اور تاریخی علاقے کو دنیا میں روشناس کروانے کیلئے ٹی ڈی سی پی نے باقاعدہ بروشرز، ویڈیورز، ٹور پیکجز متعارف کروائے ہیں جن کی بدولت کثیر تعداد میں سیاحوں نے بہاولپور اور چولستان کا رخ کیا اور الحمد اللہ اس وقت بہاولپور سرمائی سیاحت کے مقام کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔

مزید : رائے /کالم