شہری کو جس بے جامیں رکھنے پر ذمہ دار پولیس افسران کیخلاف مقدمہ دعج کرنیکا حکم

  شہری کو جس بے جامیں رکھنے پر ذمہ دار پولیس افسران کیخلاف مقدمہ دعج کرنیکا ...

  



لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے شہری کو 17 روز تک حبس بے جا میں رکھنے کے پنجاب پولیس کے ذمہ دار افسروں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کاحکم دے دیا۔عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہائیکورٹ کے بیلف کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیاہے۔ جسٹس چودھری مشتاق احمد نے یہ حکم شہری امجد علی کی درخواست پر جاری کیاہے،فاضل جج نے چار صفحات پر مشتمل اپنے تحریری حکم نامہ میں قراردیاہے کہ ایسا رویہ اختیار کرنے والے پولیس افسران سرکاری نوکری کرنے کے قابل نہیں ہیں،جو لوگ ہائی کورٹ کے بیلف کے ساتھ لاقانونیت کا مظاہرہ کرسکتے ہیں وہ عام لوگوں کے ساتھ کیاسلوک کرتے ہوں گے،آئی جی پنجاب شعیب دستگیر ذمہ دار پولیس افسروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کو یقینی بنائیں۔ درخواست میں امجد علی نے اپنے بھائی ارسلان کی شیخوپورہ پولیس سے بازیابی کی استدعا کر رکھی تھی اور موقف اختیار کیا کہ شیخوپورہ پولیس نے 21 جنوری کو ارسلان کو عشاء کی نماز کے بعد مسجد سے اغوا کیا،مغوی بھائی ارسلان کسی بھی مجرمانہ سرگرمیوں ملوث نہیں۔ اس کے باوجود شیخوپورہ پولیس نے غیر قانونی طور پر مسجد سے اٹھا لیا تھا۔ عدالتی حکم پر بیلف اعجاز احمد نے مغوی ارسلان کو بازیاب کروا کر رپورٹ سمیت عدالت میں پیش کیا،بیلف نے اپنی رپورٹ میں قرار دیا کہ 6 فروری کو شام 5 بجے تھانہ صدر شیخورہ پورہ کی چوکی باغ میں پہنچاتو ارسلا ن کو پولیس چوکی کے وائرلیس روم میں بیٹھا ہوا پایا،پولیس روزنامچہ کا رجسٹر قبضہ میں لینے پر محرر محمد افضال نے رجسٹر چھین لیا،شام 5 بج کر 55 منٹ پر تھانہ صدر شیخوپورہ پہنچنے پر مغوی کی چوری کے مقدمہ میں 6 فروری صبح ساڑھے 11 بجے کی گرفتاری ڈال دی گئی،تحریری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ6 فروری صبح ساڑھے 11 بجے کی گرفتاری ڈالنے کے باوجود شام پانچ بجے تک ارسلان کو کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیااہم بات یہ ہے کہ مغوی ارسلان کو پولیس چوکی باغ میں گرفتار رکھا گیا اور گرفتاری کی کارروائی تھانہ صدر شیخوپورہ میں ڈالی گئی، پولیس کی جانب سے جس مقدمہ میں مغوی کی گرفتاری ڈالی گئی وہ اس میں مقدمہ میں نامزد ہی نہیں تھا۔

شہری حبس بے جا

مزید : پشاورصفحہ آخر