اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بڑا حکم جاری کر دیا 

اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بڑا حکم ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد کے حوالے سے بڑا حکم جاری کر دیا 

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے تعلیمی اداروں میں بچوں پر تشدد پر پابندی عائد کرتے ہوئے فریقین کوجواب کیلئے نوٹس جاری کرکے وفاقی اداروں میں بچوں پر تشدد کی قانونی گنجائش کو تاحکم ثانی معطل کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران درخواست گزار معروف گلوکار  شہزاد رائےاپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی پینل کوڈ کے سیکشن 89 میں بچوں پر تشدد کی گنجائش بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے،گزشتہ سال بھی لاہور میں تشدد سے طالبعلم جاں بحق ہوا۔وکیل نے موقف اپنایا شہزاد رائے نے تعلیم میں ریفارمز کے لئے فاونڈیشن بنائی ہوئی ہے، بچوں پر تشدد کا خاتمہ سب کے مفاد کا معاملہ ہے،جس پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دئیے اس معاملے پر اسمبلی نے کوئی قرارداد بھی منظور کی تھی،جس پر وکیل نے موقف اپنایا ہم چاہتے ہیں جب تک قانون سازی ہو نہیں جاتی تشدد کو تو روکا جائے کیونکہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت تشدد سے بری طرح متاثر ہوتی ہے اور بچوں پر تشدد سے معاشرے میں تشدد بڑھتا ہے،عدالت نے فوری طور پر تعلیمی اداروں میں بچوں کے حقوق یقینی بنانے کے لئے اقدامات کرنیکا حکم دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر کے5 مارچ تک جواب طلب کر لیا ہے۔

بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گلوکار شہزاد رائے کا کہنا تھا پاکستان میں پیدا ہوتے ہیں تو والدین پٹائی کرتے ہیں،سکول جاتے ہیں تو استاد اچھے انسان بنانے کے لیے پٹائی کرتے ہیں جبکہ معاشرے میں ایس ایچ او بھی مارتا ہے تحقیق بتاتی ہے تشدد سے صرف تشدد ہی بڑھتا ہے اور جب بچے پر تشدد ہوتا ہے تو دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو جنسی زیادتی سے ہوتا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد