ترکی اور پاکستان کے مابین تعلقات تاریخی اور مثالی نوعیت کے ہیں،ہم نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی فورمز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا: شاہ محمود قریشی

ترکی اور پاکستان کے مابین تعلقات تاریخی اور مثالی نوعیت کے ہیں،ہم نے ہمیشہ ...
ترکی اور پاکستان کے مابین تعلقات تاریخی اور مثالی نوعیت کے ہیں،ہم نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی فورمز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا: شاہ محمود قریشی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ترک صدر رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہاہے کہ ترکی اور پاکستان کے مابین تعلقات تاریخی اور مثالی نوعیت کے ہیں،ہم نے ہمیشہ علاقائی اور عالمی فورمز پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے،امید ہے کہ صدر طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے دوران ہمارا دو طرفہ تعاون کا معاہدہ، باہمی تعاون کا ایک نیا فریم ورک تشکیل پائیگا،پاکستان اور ترکی کے مابین دو طرفہ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے دو طرفہ تعلقات مزید گہرے اور مستحکم ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ترک صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بہت گرمجوشی پائی جا رہی ہے، وزیر اعظم عمران خان کی خواہش تھی کہ ہماری ترکی کے ساتھ اقتصادی سٹریٹیجک پارٹنرشپ بن جائے چنانچہ جب وزیر اعظم عمران خان ترکی تشریف لے گئے تو ہماری ترک حکومت سے ساتھ تفصیلی گفت و شنید ہوتی رہی۔ انہوں نے کہاکہ امید ہے کہ صدر طیب اردگان کے دورہ پاکستان کے دوران ہمارا دو طرفہ تعاون کا معاہدہ طے پا جائے باہمی تعاون کا ایک نیا فریم ورک تشکیل پائے گا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے مابین دو طرفہ اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے حوالے سے دو طرفہ تعلقات مزید گہرے اور مستحکم ہوں گے، ترک صدر کے ساتھ ترکی کے موثر کاروباری حضرات کا ایک وفد بھی تشریف لایا ہے جن کے ساتھ بزنس ٹو بزنس ملاقاتیں ہوں گی اور پاکستان اور ترکی کے مابین اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

انہوں نے کہاکہ ترک صدر طیب اردگان ان عالمی رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں کے کشمیر کے مسئلے پر واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کیا اور پاکستان کے نقطہ نظر کی تائید کی،ترک صدر طیب اردگان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنی تقریر میں کھل کر کشمیر کے حوالے سے آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ ہم ان گہرے دو طرفہ سیاسی روابط کو اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کریں،آج پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے چنانچہ معاشی سفارت کاری کو پیش نظررکھتے ہوئے ہم ترکی کی طرف سے آنے والی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کریں گے،دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات موجود ہیں ، پاکستان کی سرمایہ کاری کے حوالے سے دوستانہ پالیسیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ہماری کوشش ہے کہ آئندہ دو روز میں ترکی کے کاروباری وفد کے ساتھ ہونیوالی نشستوں میں بہترین معاشی منصوبوں پر اتفاق ہو جن سے دونوں ممالک مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی ترکی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور ترکی نے کھل کر پاکستان کو سپورٹ کیا ہے۔

مزید : قومی