پاکستان میں کرکٹ کی بحالی پنجاب پولیس مبارکباد کی مستحق

پاکستان میں کرکٹ کی بحالی پنجاب پولیس مبارکباد کی مستحق

  

رپورٹر کی ڈائری۔۔۔یونس باٹھ 

آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے24 سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والی 18رکنی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لیے ہیں۔مہمان ٹیم کی سکیورٹی اور فول پروف انتظامات کے لیے میچ والے شہروں میں مشاورتی اجلاس شروع کردیے گئے ہیں۔ آسٹریلیا کے مجوزہ دورے کے حوالے سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق آسٹریلوی ٹیم 4سے 8 مارچ تک راولپنڈی میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔دوسرا ٹیسٹ 12 سے 16 مارچ تک کراچی اور تیسرا 21 سے 25 مارچ تک لاہور میں کھیلا جائے گا،جبکہ دونوں ٹیموں کے مابین تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے علاوہ ایک ٹی ٹونٹی میچ بھی کھیلا جائے گا حالانکہ ہماری دانست میں ٹی ٹونٹی کی مقبولیت ملحوظ رکھتے ہوئے اس سلسلے کی بھی کم از کم تین میچوں پر مشتمل سیریز ضرور ہونا چاہئے تھی اس سے گیٹ منی کے علاوہ دیگر ذرائع سے ہونے والی آمدنی سے دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کو بھی مالی فوائد ملتے اور کھلاڑیوں کو مالی فوائد کے ساتھ اپنے کرکٹ ریکارڈز بھی بہتر بنانے کے مواقع میسر آتے۔ بہر حال ICC کے دیئے گئے پروگرام کی بھی مجبوریاں ہوں گی جو ایسا پروگرام طے نہیں پاسکا۔ تاہم یہ دورہ پاکستان سمیت کرکٹ سے محبت کرنے والے تمام ممالک کے شائقین کے لیے خوشیوں کا باعث بنے گا۔دہشت گردی کے خوفناک دنوں میں بھی پاکستان میں کرکٹ کی سپر لیگ کرانے والوں نے پاکستان میں اس کھیل کی واپسی کے لئے شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ اس پْر خطرماحول کو پرامن بنانے اور کرکٹ کی بحالی میں جانیں تک دینے والوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔اس کے لیے تمام اداروں کی فورسزنے بے شمار اور یاد گار قربانیاں دی ہیں۔ قیام امن کی خاطر جان قربان کرنے والوں کو ہم ایک بار پھر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔یاد رہے کہ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والی نیوزی لینڈ کی ٹیم راولپنڈی میں عین میچ شروع ہونے سے پہلے اچانک یہ کہتے ہوئے دورہ منسوخ کرکے واپس چلی گئی کہ اس کے کھلاڑیوں کو جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور ان کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ بعد میں یہ سب مفروضہ ثابت ہوا کہ یہ سب ہمارے ازلی دشمن بھارت کا کیا دھرا تھا مگر حیران کن طور پر ہر معاملے کی چھان بین کرکے قدم اٹھانے والے برطانیہ نے بھی اس بار اپنی روایت کے برخلاف محض اسی مفروضے کو اپنا کر ایک ایسا قدم لیا جو کم ازکم برطانیہ جیسے ملک کے شایان شان نہیں تھا۔ کرکٹ کھیل کی روایات کے امین ان ممالک کے یہ دونوں فیصلے پاکستان کرکٹ کے لیے کسی سانحے سے کم نہیں تھے۔نیوزی لینڈ کے ساتھ میچ دیکھنے والے شائقین ہاتھوں میں ٹکٹ لئے سٹیڈیم میں نیوزی لینڈ کو پریکٹس کرتے دیکھ کر خوش ہوتے ہوتے اچانک دم بخود رہ گئے کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی ذرا سی دیر میں یہ کیا ہوگیا کہ جنگل کا جنگل ہی ویران ہوگیا۔پاکستانی عوام اور حکام کے لئے مہمان ٹیم کا یہ طرز عمل کسی صدمے سے کم نہیں تھا بالخصوص جبکہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کے سکیورٹی عملے نے سکیورٹی کے حوالے سے ہر طرح کا پہلے سے اپنا اطمینان کرلیا تھا۔اور انگلینڈ کے آفیشلز بھی پاکستان کا دورہ کرکے اپنے بورڈ کو سب اچھا کی رپورٹ دے چکے تھے۔اسی تناظر میں نیوزی لینڈ کے بعد انگلینڈ کے مجوزہ دورے کے حوالے سے پاکستان کرکٹ شائقین میں بڑا جوش و خروش پایا جارہا تھا۔نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے استقبال سے یہ جذبہ دیدنی تھا۔ معلوم ہوا کہ بین الاقوامی سکیورٹی ادارے فائیو آئیز نے معاملے سے پردہ اٹھایا۔ معاملہ واضح ہوا تو ہمیں غیروں کی سازشوں اور اپنی کوتاہیوں کا ادراک ہوا۔نیوزی لینڈ کے کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کو تو ٹیم کے پاکستان آنے سے قبل ہی بھارت سے چلنے والے سوشل میڈیا فیک اکاو ئنٹس اور آئی ڈیز سے دھمکیاں موصول ہورہی تھیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی ٹیم پاکستان آئی۔ تاہم میچ سے قبل ہماری پنجاب پولیس کی جانب سے کچھ ایسے نوٹیفیکیشن جاری کردیے گئے جنہوں نے کام بگاڑ دیا۔ ان نوٹیفیکیشنز میں صاف صاف لکھا ہوا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اور امام حسین کے چہلم کے جلوس پر حملے ہونے کا خطرہ ہے۔ظاہر ہے جب اپنے ہی لوگ پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) اور ٹیموں کی سکیورٹی کے ذمہ داروں سے مشورہ کیے بغیر ایسے نوٹیفیکیشن جاری کریں گے تو پھر کوئی بھی ٹیم یا فرد اپنی جان کو لاحق خطرات سے بچنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ اس نوٹیفیکیشن کی کاپی ٹیم منیجر اور نیوزی لینڈ کے ہائی کمشنر کے پاس پہنچنے کے بعد ٹیم کے رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دنیا کرکٹ کی ایک بہت بڑی ٹیم جسے سب سے زیادہ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے اس کی میزبانی کا اللہ نے ہمیں موقع فراہم کیا ہے،کرکٹ کے میدان سجنے سے جہاں شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑتی ہے وہاں ایسی سرگرمیوں سے ہماری معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔دیکھا جائے اس معاشی بحران کے دور میں کرکٹ ہی واحد گیم ہے جو ہمارے لئے کثیر زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ ہے اس سورس کو بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانے کے کرکٹر وزیر اعظم عمران خان کو زیادہ ٹھوس اور قابل عمل اقدامات کرنا چاہئیں!دوسری جانب آجکل لاہور میں پی ایس ایل کا ایونٹ جاری ہے اس کی سکیورٹی،ٹریفک اور انتظامات کے حوالے سے لاہور پولیس کے سربراہ فیاض احمد دیو اور ان کی پوری ٹیم بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد راجہ اور سی ٹی او منتظر مہدی مبارکباد کے مستحق ہیں 

مزید :

رائے -کالم -