نواز شریف وزیراعظم ورنہ (ن) لیگ اپوزیشن میں بیٹھے گی، شہباز کا زرداری کو صاف جواب

  نواز شریف وزیراعظم ورنہ (ن) لیگ اپوزیشن میں بیٹھے گی، شہباز کا زرداری کو ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                لاہور (جاوید اقبال)باوثوق ذرائع نے بتایا ہے پاکستان مسلم لیگ نون نے مائنس نواز شریف فارمولا ماننے سے صاف انکار کر دیا ہے، ذرائع نے بتایا ہے پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف زرداری نے پہلی ہی ملاقات میں مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف پر واضح کر دیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نواز شریف کو بطور وزیراعظم قبول کرنیکی بجائے آپ یعنی شہباز شریف کو وزیراعظم قبول کرنے کی خواہاں ہے فی الحال نواز شر یف کو وزارت عظمی کے امیدوار سے پیچھے رکھا جائے اور اگر آپ شہباز شریف ان کی جگہ امیدوار کے طور پر سامنے آئیں تو ہم ہنسی خوشی آپ سے تعاون بھی کریں گے اور اہم حلقے بھی اس پر رضامند ہو جائیں گے، ذرائع کا کہنا ہے شہباز شریف نے کہا کہ زرداری صاحب اس کا مطلب یہ ہوا کہ نواز شریف مائنس فارمولا آپ لائے ہیں یا پھر آپ اسٹیبلشمنٹ کا پیغام دے رہے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے شہباز شریف کی یہ بات آصف زرداری نے ہنس کر ٹال دی جس کے جواب میں شہباز شریف نے دوبارہ کہا کہ اگر ایسی نوبت آئی یا فارمولاآ یا تو مسلم لیگ نون اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیگی، نون کی طرف سے وزارت عظمی کے امیدوار نواز شریف ہی ہوں گے، ذرائع کا کہنا ہے یہ بات مسلم لیگ نون کے صدر نے نواز شریف کو بتائی، آصف زرداری نے ہنسی میں یہ بات کہی ہے، ذرائع کا کہنا ہے مائنس نواز شریف فارمولا ملک کے طول عرض میں سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ نون لیگ کو بھی اہم حلقوں کی طرف سے یہ بات باور کروائی گئی ہے کہ یہ فارمولا اہم حلقوں کی طرف سے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے آصف زرداری اس کو ہوا دے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے نواز شریف کا نام بطور وزیراعظم قابل قبول نہیں ہے آصف زرداری درحقیقت دوہری چال چل رہے ہیں ایک طرف ان کے عمران خان کے قریبی ساتھیوں سے رابطے ہیں،دوسری طرف وہ  پی ٹی آئی کے اہم لوگوں سے رابطے ہیں، دوسری طرف وہ یہ فارمولا پیش کر کے اور بعض مخصوص اینکرز کی مدد سے عوام میں لا کر نون لیگ سے من مانی شرا ئط پر ان سے اتحاد کرنا چاہتے ہیں، دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے مسلم لیگ نون نے کسی صورت نواز شریف کو وزارت عظمی سے مائنس نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نون لیگ نے آصف زرداری مولانا فضل الرحمن سمیت اہم حلقوں کو پیغام دیدیا ہے کہ مسلم لیگ نون کی طرف سے وزارت عظمی کے امیدوار صرف اور صرف نواز شریف ہی ہونگے اور اگر کسی نے مائنس نواز شریف فارم اللہ مسلط کرنے کی کو شش کی تو مسلم لیگ نون اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیگی، دوسری طرف ملک کے حالات و واقعات سے ایک بات سامنے ائی ہے کہ فیصلہ ساز قوتیں بھی موجودہ حالات میں گھری ہوئی نظر آرہی ہے کیونکہ پیر کے روز تین بڑی اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی طرف سے ایک ہی دن میں اپنی جماعتوں کی سربراہی سمیت سیاست چھوڑنے کے اعلانات درحقیقت ان اہم شخصیات کا اسٹیبلشمنٹ سے ایک طرح کا ا حتجاج ہے کیونکہ ان میں سے دو سیاسی جماعتیں استحکام پاکستان پارٹی اور تحریک انصاف پارلیمنٹیرین عمران خان کیخلاف بغاوت کے نام پر قیام پذیر ہوئی اور انتخابات میں شکست کے بعد دونوں جماعتوں کے سر براہان پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کی طرف سے پارٹیاں چھوڑنے کے اعلانات سے ایک بات سامنے آتی ہے کہ ان کا یہ طرز عمل اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا ہے کہ انہوں نے ان کیخلاف احتجاجا پارٹیوں کی سربراہی اور سیاست چھوڑ دی اس سے لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بارے سیاستدانوں میں ایک لاوا پک رہا ہے اس لاوے کو ٹھنڈا کرنے میں مسلم لیگ نون اہم کردار ادا کر سکتی ہے ان حالات میں ذرائع کا کہنا ہے اسٹیبلشمنٹ مائنس نواز شریف فارمولا کامیاب نہیں ہونے دیگی

شہباز شریف جواب

مزید :

صفحہ اول -