حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ

حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی تعاون پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔سابق وزیراعظم شہبازشریف نے سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے بلاول ہاؤس، لاہور میں ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی صورتِ حال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں جماعتوں کے قائدین نے ملک میں سیاسی استحکام  کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا اور اِس حوالے سے مختلف تجاویز پر غور بھی کیا۔ پیپلزپارٹی کی قیادت نے کہا کہ وہ تمام تجاویز کو پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے رکھیں گے جبکہ لیگی قیادت کا کہنا تھا کہ عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے،وہ عوام کومایوس نہیں کریں گے۔ ملاقات کے دوران میاں شہبازشریف نے آصف علی زرداری کو میاں نوازشریف کا پیغام پہنچایا اورآزاد امیدواروں سے رابطوں کے حوالے سے گفتگو بھی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی قیادت کے درمیان بھی مل کر چلنے پر اتفاق ہو گیا۔ مسلم لیگ (ن)نے اس سلسلے میں ایک اعلامیہ جاری کیا جس کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان بنیادی نکات طے پا گئے ہیں،ملک و قوم کے مفاد میں دونوں سیاسی جماعتیں مل کر چلنے پرمتفق ہیں۔ مذاکرات میں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ شہبازشریف، مریم نواز، اسحاق ڈار، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب اور رانا مشہود بھی موجود تھے جبکہ ایم کیو ایم کے وفد نے مقبول  صدیقی کی قیادت میں ملاقات کی جس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری،ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال شامل تھے۔ تمام رہنماوں نے حکومت سازی کے مشاورتی عمل کے لئے مشترکہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا،یہ نمائندہ کمیٹی دیگر پارلیمانی جماعتوں سے بھی رابطے کرے گی۔ شہبازشریف نے حکومت سازی کے لئے مسلم لیگ (ن) کی کوششوں کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے قائد مولانا فضل الرحمن کو اعتماد میں لیا، مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کو نتائج پر اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔ اْنہوں نے بتایا کہ جے یو آئی ف کی مرکزی مجلس عاملہ،صوبائی امرا ء اور ناظمین کا اجلاس 14فروری کو اسلام آباد میں ہوگا جن میں انتخابی نتائج سمیت وفاق اور صوبوں میں مشترکہ حکومت سازی پر غور ہوگا۔

ایک طرف تو یہ کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار بھی مرکز میں اپنی حکومت بنانا چاہتے ہیں، ان کے نزدیک خیبر پختونخواہ کے ساتھ ساتھ پنجاب میں حکومت بنانا بھی ان ہی کا حق ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما گوہرخان کہہ رہے ہیں کہ وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی پوزیشن میں ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں 101 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جن میں سے 92 پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ہیں جبکہ نو نے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑا،مسلم لیگ ن کے پاس 75 سیٹیں ہیں اور وہ اس وقت اسمبلی میں سب سے زیادہ سیٹیں لینے والی سیاسی جماعت ہے،بعض آزاد امیدوار اس میں شامل ہو چکے ہیں جن میں ایک پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار بھی شامل ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس 54 سیٹیں ہیں اور ایم کیو ایم نے 17 نشستیں حاصل کی ہیں۔ آزاد امیداوار اسمبلی میں تو پہنچ گئے ہیں لیکن انہیں جماعتی شکل میں ڈھلنے کے بہت سے مرحلے طے کرنے ہوں گے۔جہاں بہت سے امیدواروں نے اپنی شکست کو تسلیم کیا بلکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور پاکستان تحریک استحکام پاکستان کے چئیرمین جہانگیر ترین نے تو استعفے کے ساتھ ساتھ سیاست چھوڑنے کا بھی اعلان کر دیا۔ لیکن پی ٹی آئی ان نتائج کو ماننے سے انکاری ہے، اس کے رہنماوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے 170 سے 180 کے درمیان امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، ان کے پاس فارم 45 موجود ہیں اور وہ یہ ثابت بھی کر سکتے ہیں،اسی طرح میاں نواز شریف نے بھی مانسہرہ کا نتیجہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ بہت سے امیدوار عدالت کا رخ کر چکے ہیں۔انتخابات میں چند بے ضابطگیاں تو دیکھنے میں آئیں، موبائل سروسز بند کرنے اور انٹر نیٹ سروسز میں تعطل نے عوام کے لئے مسائل بھی کھڑے کئے، نتائج میں غیر معمولی تاخیر بھی سامنے آئی، ان سب معاملات کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر بہت سارے سوالات اٹھے جن کا بالآخر گزشتہ روز کمیشن نے جواب دے دیا۔الیکشن کمیشن نے اعلامیہ جاری کیاجس کے مطابق اسے جو بھی شکایات موصول ہوئی ہیں اس پر فوری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا آپریشن تھا جسے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا، ای ایم ایس نے آر اوز کے دفاتر میں تسلی بخش کام کیا، موبائل سروس کی بندش سے پریذائیڈنگ افسران الیکٹرانک ڈیٹا بھیجنے سے قاصر رہے۔اعلامیہ کے مطابق معمول کی کوآرڈی نیشن اور نقل و حمل کو موبائل سروس کی بندش نے بری طرح متاثر کیا، 2018ء انتخابات میں پہلا نتیجہ اگلے روز صبح 4 بجے موصول ہوا تھا، اس مرتبہ پہلا نتیجہ رات دو بجے موصول ہوا۔الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق کچھ حلقوں کے علاوہ انتخابات کے نتائج ڈیڑھ دن میں مکمل کیے گئے، 2018ء کے انتخابات میں نتائج کی تکمیل میں تین روز لگے تھے،تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن حلقوں میں بھی نتائج میں تاخیر ہوئی اس سے کسی مخصوص سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان نہیں پہنچا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابات کے روز اسی الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ موبائل سروسز بند ہونے سے ان کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی، وہ اس سلسلے میں کوئی ہدایات جاری نہیں کریں گے۔بہر حال اب وہ کہہ رہے کہ شکایات پر فیصلے کئے جا رہے ہیں تو امید ہے کہ جلد ہی شکایات کا مداوا ہو جائے گا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ ملک کے بعض حصوں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پشاور موٹر وے پر دھرنا دیا جس کی وجہ سے موٹر وے بند کرنی پڑی، لاہور میں بھی احتجاج کی کال دی۔ امیداواروں نے جب آئینی طریقہ استعمال کر لیا ہے، عدالت سے رجوع کر لیا ہے، درخواستیں دائر کر دی ہیں تو پھر معاملات کو قانونی طریقے سے ہی حل ہونے دیں جو بھی ثابت کرنا ہے وہ عدالت میں کریں، سڑکوں پر احتجاج پہلے کسی کام آیا ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی آئے گا۔

بہرحال ان انتخابات میں کسی بھی ایک جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اسی لئے سیاسی جماعتیں مل بیٹھی ہیں، جوڑ توڑ جاری ہے، حکومت سازی کے لئے میل ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں، انتخابات سے پہلے کا غبار بیٹھ چکا ہے، گرد صاف ہو رہی ہے۔سیاست میں کوئی بات قطعی نہیں ہوتی، کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا، کوئی بھی تعلق زندگی اور موت کا مسئلہ نہیں ہوتا، آج ایک دوسرے سے منہ موڑنے والوں کو کل ایک دوسرے سے ہاتھ بھی ملانے پڑتے ہیں اس لئے مخالفت بھی وضع داری کے ساتھ ہی کرنی چاہئے۔ بڑی بڑی جنگوں کو روکنے کے لئے بھی بالآخر مذاکرات کا سہارا ہی لینا پڑا، سیاست کی گلیاں کبھی بھی ”ڈیڈ اینڈ“ کی طرف نہیں جاتیں، یہ سبق ہر سیاسی  جماعت کو یاد رکھنا چاہئے۔ 

مزید :

رائے -اداریہ -