کسی کولانا،کسی کو باہر رکھنے والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے،جاوید لطیف

کسی کولانا،کسی کو باہر رکھنے والا معاملہ نہیں ہونا چاہیے،جاوید لطیف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اسلام آباد(آن لائن) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماء میاں جاوید لطیف نے کہا ہے الیکشن سے 15، 20 دن پہلے ایک طاقتور بندے نے کہا آپ پر کراس لگا ہوا ہے، کسی کو گرانے اور کسی کو اٹھانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، 9، 10مئی والی جماعت کو کیوں ووٹ پڑا؟ یہ ریاستی اداروں کیلئے الارمنگ چیز ہے، پیراپگارا نے بھی کہا ریاستی اداروں کیخلاف ووٹ پڑا ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا بیلنس کرنے کا طریقہ یا دلیل کسی بھی ادارے اور ریاست کے فائدے میں نہیں، جب ہم اداروں میں بیٹھے لوگوں پر تنقید کرتے تھے تو ایک وقت آیاہمیں کہا گیا غیرسیاسی ہوگئے ہیں، ہاں درست ہے 2018 میں اداروں کے سربراہان کی مشاورت سے ایک فریق کو دبایا گیا اور ایک فریق کو لایا گیا، اس بار ادارو ں میں بیٹھے لوگوں نے پسند ناپسند کی بنیاد پر کسی کو باہر رکھا اور کسی کو لے آئے، یہ اختیار ان کا نہیں ہونا چاہیے، اسی وجہ سے ریاست کمزور ہوتی ہے اور انتخابا ت پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ میری خاموشی اگر ریاست، اداروں یا جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے تو میں خاموش ہوں، میں نے ابھی تک کوئی اپیل نہیں کی کہ چلو میری قربانی سے اگر فائدہ پہنچتا ہے تو ٹھیک ہے۔ابھی ایسے نام بھی ہیں جو گمنام ہیں، جن کا ٹی وی پر ذکر نہیں کرتا، میں سمجھتا ہوں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ آج جو کچھ ہورہا ہے تو ایسی ایکسرسائز کی گئی ہے جس سے سسٹم بدنام ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کو ووٹ کس بنیاد پر پڑا، یہ خوشی کی بات نہیں، اس کا مطلب ہوا لوگ سمجھتے ہیں اداروں میں بیٹھے لوگ عقل کل نہیں ہوتے۔جاوید لطیف نے کہا اگر الیکشن جیتا ہوتا تو کہتا نوازشریف کو وزیراعظم نہیں بننا چاہیے، جس کے نام پر ہم ووٹ لیتے ہیں کیا جو مانسہرہ اور لاہور میں خبریں چلتی جاتی رہیں؟ کیا یہ بائی ڈیزائن نہیں تھا؟ یہ کیسے ممکن ہے مانسہرہ سے کیپٹن (ر)صفدر نوازشریف کے نام پر ووٹ لے کر جیتے اور اگر وہ خود الیکشن لڑیں تو ہارنے کی باتیں ہوں؟ یہ سب سمجھ میں آرہا ہے انہیں چوتھی بار وز یر اعظم نہ بننے دیا جائے۔ 

جاوید لطیف

مزید :

صفحہ آخر -