نئے دریافت ہونے والے وائرس ’الاسکا پوکس‘ سے پہلی انسانی موت واقع ہو گئی

نئے دریافت ہونے والے وائرس ’الاسکا پوکس‘ سے پہلی انسانی موت واقع ہو گئی
نئے دریافت ہونے والے وائرس ’الاسکا پوکس‘ سے پہلی انسانی موت واقع ہو گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) نئے دریافت ہونے والے وائرس ’الاسکا پوکس‘ (Alaskapox)سے پہلی انسانی موت واقع ہو گئی۔ڈیلی سٹار کے مطابق اس وائرس سے پہلے انسان کی موت امریکی ریاست الاسکا کے شہر فیئربینکس میں ہوئی ہے۔ یہ وائرس ریاست الاسکا میں ہی 2015ء میں پہلی بار انسانوں میں دریافت ہوا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’الاسکا پوکس‘ رکھا گیا تھا۔
اب تک اس وائرس سے متاثرہ درجنوں لوگ سامنے آ چکے ہیں تاہم اس سے قبل کسی مریض کی موت نہیں ہوئی۔گزشتہ دنوں اس وائرس سے مرنے والے شخص کو ایک آوارہ بلی نے پنجہ مار کر زخمی کر دیا تھا، جس سے اس کے جسم میں یہ وائرس منتقل ہوا۔سائنسدان تاحال اس وائرس کے پھیلائو کے طریقوں پر تحقیق کر رہے ہیں۔
 ابھی تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے اس کے ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہونے کی تصدیق ہو۔ اب تک اس سے متاثرہ جتنے لوگ سامنے آئے ہیں انہیں یہ وائرس جانوروں ، بالخصوص چوہوں اور بلیوں سے لاحق ہوا۔اس کے علاوہ کئی لوگوں کو مکڑی اور کتے کے کاٹنے سے بھی یہ وائرس منتقل ہونے کے شواہد مل چکے ہیں۔