ریوالی سینما میں اپنی زندگی کی پہلی فلم دیکھی، وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چیف میٹروپولٹین پلانر بن کرلاہور کی عمارتوں کو نئے نئے روپ دوں گا

 ریوالی سینما میں اپنی زندگی کی پہلی فلم دیکھی، وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ...
 ریوالی سینما میں اپنی زندگی کی پہلی فلم دیکھی، وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چیف میٹروپولٹین پلانر بن کرلاہور کی عمارتوں کو نئے نئے روپ دوں گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:13
 ہائی سکول کے ابتدائی برسوں میں مجھے ایک بار پھر لاہور جانے کا موقع ملا۔ لیکن اس بار گھر والوں کے علم میں لانے اور اجازت لے کر گیا – لاہور میں اپنے ایک ماموں حکیم اللہ بخش کے گھر ٹھہرا،جو قدیم اندرون شہر لاہور میں موچی دروازے کے پاس قیام پذیر تھے۔ وہ ایک پڑھے لکھے شخص تھے اور حکمت کا کام کرتے تھے۔ مجھے ان کے ساتھ اپنے اس قیام کے بارے میں تو زیادہ کچھ یاد نہیں رہا، تاہم لاہور بارے ایک دو واقعات اب بھی میری یاد داشت میں محفوظ ہیں۔ اسٹیشن کے پاس ریوالی سینما میں، میں نے اپنی زندگی کی پہلی فلم دیکھی۔  ڈسکہ میں تو 2 وجوہات کی بنا ء پر یہ ممکن ہی نہ تھا، اول تو یہ کہ ڈسکہ میں کوئی سینما ہی نہ تھا دوسرا یہ کہ اگر ہوتا بھی تو میرے گھر والے مجھے کبھی بھی سینما دیکھنے کی اجازت نہ دیتے۔ بہرحال اس فلم کا نام ”داغ“ تھا۔(اداکار دلیپ کمار اور نمی کی یہ سپرہٹ فلم تادیر فلم بینوں کو یاد رہی)میں نے اپنے خاندان میں کسی کو بھی اس فلم بینی کی ہوا نہیں لگنے دی۔ دوسرا یادگار کام جو میں نے یہاں رہ کر کیا کہ میں ایک روز شاہ عالم مارکیٹ چلا گیا۔ یہاں کچھ عرصہ قبل ایک بھیانک آگ لگی تھی جس سے بہت نقصان ہوا تھا اور اب اس مارکیٹ کی تعمیر نو ہو رہی تھی۔ تب وہاں تین یا چار منزلہ عمارتیں تعمیر ہو رہی تھیں اور میں اُنھیں بڑی حیرت سے دیکھا کرتا تھا۔ اس وقت میرا چھوٹا سا ذہن ان کو ہی فلک بوس عمارتیں سمجھتا تھا۔ تب میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک روز اس شہر لاہور کو میں یہاں کا چیف میٹروپولٹین پلانر بن کر سنوارا کروں گا اور اس کو نئے نئے روپ دوں گا۔
مجھے اب اپنے ہائی سکول کے صرف اپنے چند ہم جماعتوں کے بارے میں ہی یاد رہ گیاہے۔ جن میں علمدار کاظمی، انور مرزا، محمد حنیف، ایک اور حنیف، افضل، مشتاق اور عزیز احمد شامل ہیں۔ بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی دوست کالج تک نہ پہنچ سکا۔ البتہ علمدار کاظمی اور انور اچھے مستقبل کی آس میں برطانیہ منتقل ہوگئے تھے جہاں اُنھیں مناسب زندگی گزارنے کے لیے بہت محنت کرنا پڑی۔تعلیم کے دوران امریکہ سے واپسی پر میری ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں۔ محمد حنیف نے پاکستان ریلوے میں ایک کلرک کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی تھی جب کہ حنیف اور مشتاق نے سکول میں استاد جیسے معزز پیشے کو اپنا لیا۔ افضل نے اپنی ملازمت کے سلسلے میں محکمہ ٹیلیفون کا انتخاب کیا۔عزیز احمد نے کاروبار کا سلسلہ شروع کیا اور اب ایک کامیاب کاروباری شخص بن چکے ہیں۔ مشتاق کے والد ڈسکہ کے ایک نواحی علاقے جیسر والا کے سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے۔ اور مشتاق کی خواہش تھی کہ وہ اپنے والد کے بعد ان کی جگہ اسی سکول کا ہیڈ ماسٹر بنے۔ کافی عرصے بعد جب وہ مجھے ملا تو میں نے اس سے اس کی اس خواہش بارے پوچھا تو اس نے مجھے بڑے تفاخر اور خوشی سے بتایا کہ وہ اب اسی سکول میں ہیڈ ماسٹر ہے گویا اس کا ایک دیرینہ خواب پورا ہو گیا تھا۔ میں نے ازراہ تفنن اس سے پوچھا کہ اس سکول میں تمہارے علاوہ کتنے استاد ہیں تو اس نے بتایا کہ ایک اور ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ انسان کو بڑے خواب دیکھنا چاہئیں اور پھر ان کی اچھی تعبیر کے لیے پر امید رہنا اور مسلسل کام کرنا چاہئے، اس کے بعد نتائج کو اللہ کی رضا پر چھوڑ دینا چاہئے۔ میں اپنے رب کا بے حد شکر گزار ہوں کہ اس نے نہ صرف مجھے پاکستان اور امریکہ کے بہترین اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا بلکہ بعد میں عملی زندگی میں بھی شاندار کامیابیاں عطا کیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -