کھانے کے بعد جم کر پاکستان کی سیاست پرتبصرہ ہوا، کون جیتا کون ہارا، جواب نفی میں رہا کیونکہ سب باتیں دِل کی بھڑاس نکالنے اور وقت کٹی کیلیے تھیں 

کھانے کے بعد جم کر پاکستان کی سیاست پرتبصرہ ہوا، کون جیتا کون ہارا، جواب نفی ...
کھانے کے بعد جم کر پاکستان کی سیاست پرتبصرہ ہوا، کون جیتا کون ہارا، جواب نفی میں رہا کیونکہ سب باتیں دِل کی بھڑاس نکالنے اور وقت کٹی کیلیے تھیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
 قسط:46
اور ایک دعوت طعام
صبح 8 بجے چل دئیے۔ صبیح ریحان کو ٹیوشن سنٹر پر چھوڑا پھر بلیک ٹاؤن پہنچے۔ Richmond Rd پر واقع شو گراؤنڈ میں گئے۔ وہاں بڑے خوبصورت اور سلیقے سے انڈے کی سفیدی مائل ٹینٹس میں سٹال لگے ہوئے تھے۔ سٹالوں کے مالک ابھی ابتدائی تیاّریوں میں مصروف اور کچھ ابھی کار پارکنگ میں ہی تھے۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ آج محکمہ موسمیات نے بارش کی پیش گوئی کی ہوئی تھی۔ وہاں اگر فیسٹیول سے لطف اندوز ہونا لازمی ہوتا تو کم از کم 12 بجے تک انتظار کرنا پڑتا۔ ایک تو موسم کی خراب صورتحال اور دوسرے ابھی میلے کے شائقین کی آمد تو شروع ہی نہ ہوئی تھی۔ لہٰذا وہاں گراؤنڈ کا ایک چکّر لگایا اور حالات کا جائزہ لے کر واپسی کا ہی پروگرام بنا۔ لہٰذا گاڑی کا رُخ واپسی کی طرف کر دیا۔ راستے میں Coles کے سپر سٹور سے گھر کے لیے کچھ شاپنگ کی اور تقریباً ساڑھے دس بجے واپس آئے۔
ہمارے گھر 41-Rown Tree St. Quankers Hill میں 7 فیملیز دوپہر کے کھانے پر مدعُو تھیں۔ برخوردار ریحان لطیف نے موسمی صورتحال کو بھانپتے ہوئے گیراج کا سامان ذرا درست کیا اور پچھلی طرف گارڈن کا راستہ بھی کھول دیا تاکہ اگر بارش ہو تو کرسیاں وہاں ڈال کر مہمان بیٹھ سکیں۔ بار بی کیو گیراج کے سامنے نکال کر چکن پیسز اور کباب کو پراسیس کرنا شروع کردیا۔ جلد ہی ظہیر صاحب، نوید بھائی اوراُن کے برادر نسبتی مع فیملیز آگئے تو اِس طرح ظہیر صاحب اور نوید اور اُس کا برادر نسبتی بھی اِس کام میں جُت گئے۔ اور اُدھر ساتھ ہی میز لگا کر اُس پر مشروب رکھ دئیے گئے۔ اِس کے بعد ایک ایک کر کے فیملیز کا آنا لگا رہا۔ تقریباً ایک گھنٹہ میں سب مہمانوں کی آمد مکمل ہوئی اور پھر میز پر فش پلاؤ، باربی کیوکی دونوں ڈشز، سلاد، دہی بھلّے رکھ دئیے۔ 
ساتھ ساتھ مشروبات کا دَور بھی چلتا رہا۔ پھر کھانا کھول دیا گیا۔ پہلے مرد حضرات نے پیش قدمی کی۔ پھر بچّوں اور خواتین نے حاضری لگوائی۔ سبھی نے اپنے اپنے پیٹوں کی تنابیں کسیں۔ اور ساتھ ساتھ مشروبات کا دَور بھی چلتا رہا۔
سب فیملیز وقت مقررّہ پر آگئی تھیں۔ سوائے صباء کے میاں عمران صاحب جو اِس دعوت میں مصروفیّت کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔  اختتام پر کچھ کچھ بوندا بوندی کی صورتحال پیدا ہوئی تو سبھی حضرات اندر تشریف لے گئے۔
اندر پھر جم کر پاکستان کی سیاست پر ایک سَیر حاصل تبصرہ جاری رہا۔(ن) لیگ، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف کے حامیوں میں ایک طوفانی رَن پڑا۔ اِن میں آصف علی زرداری کو بابائے جمہوریت کہنے والے بھی…… مسلم لیگ کے حامی بھی…… اور عمران خان کی تحریکِ انصاف کا ساتھ دینے والے بھی۔ کون جیتا کون ہارا۔ جواب نفی میں رہا۔ کیونکہ یہ سب باتیں دِل کی بھڑاس نکالنے اور وقت کٹی کے لیے تھیں۔
چار بجے کے قریب  پھر مہمانوں کی روانگی شروع ہوئی۔ جو تقریباً 5 بجے مکمل ہوئی۔ تو اِس طرح یہ دِن ایک خوشگوار مصروفیّت میں گزرا۔ اور مہمانوں کو ہلکی ہلکی بوندا باندی میں رُخصت کیا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -