اخوت اسی کو کہتے ہیں

اخوت اسی کو کہتے ہیں
اخوت اسی کو کہتے ہیں

ترکش کوآپریشن اور ڈویلپمنٹ ایجنسی (ٹیقاTika) کے مطابق گزشتہ سال 2011ءمیں ترک عوام اور ترک حکومت نے دنیا کے 100سے زائد ممالک میں 2بلین 363ملین ڈالرز کی امداد بھیجی۔یہ امداد پاکستان سمیت100سے زیادہ ملکوں اور 5براعظموں میں مختلف فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کی گئی۔ان 2بلین اور 363ملین ڈالرکے امدادی کے فنڈ کی فراہمی میں ترک حکومت کا حصہ ایک بلین 273 ملین ڈالر ہے، جبکہ پرائیویٹ سیکٹرنے 879ملین ڈالر اور غیرسرکاری تنظےموں نے 199ملین ڈالر فراہم کئے،یعنی اس فلاحی اور امدادی پیکیج میں ترک حکومت نے کل 53.8فیصد فنڈ فراہم کئے۔ترکی حکومت اور عوام کی طرف سے بھیجے گئے اس فلاحی اور امدادی فنڈ کاجنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک میں 46فیصد، مشرق وسطیٰ میں 23فیصد ،افریقہ میں 22فیصد اور بلقان کی ریاستوں میں 6.3فیصد حصہ خرچ کیا گیا ۔اس امداد اور فنڈز کا سب سے زیادہ استعمال جن ممالک میں کیا گیا، ان میں پاکستان، شام، افغانستان، صومالیہ، کرغستان، لیبیا، قازقستان ،عراق، آذربائیجان اور فلسطین شامل ہیں۔غیر سرکاری تنظیموں کی امداد میں 85فیصد اضافہ ہوا ہے۔پرائیویٹ سیکٹر نے بھی گزشتہ سال اپنے اس امدادی پیکیج میں تقریباً 200ملین ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔

ترک بہت مخیر ہیں اور ان کی مالی اور معاشی حالت گزشتہ ایک عشرے سے بہت بہتر ہوئی ہے۔وہ اپنی زکوٰة، صدقہ،فطرانہ، قربانی اور منافع کی ایک کثیر رقم امداد کے طور پر دنیا کے کمزور اور کم ترقی یافتہ ممالک میں بھیجتے ہیں اور وہاں مختلف منصوبوں اور پراجیکٹس پر خرچ کرتے ہیں۔رمضان اور عیدین کے موقعوں پر ایسی رقم حکومت اور غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں اکٹھی کرکے ضرورت مند لوگوں اور ممالک میں بھیجتے اور خرچ کرتے ہیں۔دوسروں کی مدد اور امداد انہیں اپنے آباﺅ اجداد سے ورثے میں ملی ہے۔اپنی جیب سے ضرورت مندوںکی مدد کرنا ترکوں کی ایک نمایاں خوبی ہے۔

ترکی کی طرف سے بھیجی گئی اس امداد میں گزشتہ سال کی نسبت 32فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس امداد میں اضافے کا ایک سبب ہمسایہ ملک شام سے آئے ہوئے ہزاروں مہاجرین، صومالیہ اور دیگر اسباب شامل ہیں۔ترکی پاکستان کا برادر اور دوست ملک ہے۔پاکستان میں جب 2005ءمیں زلزلہ آیا تھا اور جب 2010ءاور 2011ءمیں سیلاب آئے تو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ امداد ترکی حکومت اور ترک عوام ہی کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ترکی کے وزیراعظم ،صدر اور خاتون اول نے بھی اس دوران خاص طور پر پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ ہر سال عید قربان رمضان اور دیگر موقعوں پر ملین ڈالرز کی امداد بھیجی جاتی ہے۔

فلسطین، عراق، لیبیا، تیونس اور میانمار کے مظلوم لوگوں کے لئے نہ صرف سب سے پہلے امداد بھیجی، بلکہ ترکی کے صدر ،وزیرخارجہ، وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ نے ان ممالک کے شورش زدہ علاقوں کا دورہ بھی کیا،امداد تقسیم کی اور ان ضرورت مند لوگوں کی آواز اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا تک پہنچائی۔امیر ممالک کے ضمیر کو جھنجھوڑا اور انہیں غریب ممالک کی امداد پر اُکسایا۔میانمار کے اراقان کے مظلوم و معصوم مسلمان ہوں یا فلسطین غزہ کے نہتے شہری۔افریقہ کے قحط زدہ انسان ہوں یا عرب ممالک میں شوڑش اور جنگ زدہ عوام کی صورت حال ، یہ ترکی حکومت اور عوام ہی تھے، جنہوں نے سب سے پہلے ان لوگوں تک امداد پہنچائی اور بین الاقوامی برادری کو بھی ان کی طرف توجہ دینے کی ضرورت پر زور ڈالا۔یہ امداد غذائی اشیاءکی فراہمی، صحت کی سہولتیں، علاج و معالجے اور ادویات ، پانی، تعلیم و تربیت، خیمے، کنوﺅں کی کھدائی، پلوں اور سڑکوں کی تعمیر، گھروں کی تعمیر، سکولوں کی تعمیر و مرمت، ٹرانسپورٹیشن، ٹیلی کمیونیکیشن، ہسپتال ،گوشت، راشن کے پیکٹ اور اس طرح کے دوسرے فلاحی کاموں پر خرچ کی گئی۔

لیبیا میں خانہ جنگی کے دوران ترکی کی طرف سے 682ٹن غذائی اشیاءاور دیگر سازوسامان،50بستروں پر مشتمل موبائل ہسپتال، علاج، ادویات اور میڈیکل کا سامان بھیجا گیا۔افریقہ میں 3ہزار ٹن غذائی اشیائ، صومالیہ میں 340صاف پانی کے کنویں تیار کئے گئے اور غزہ ،فلسطین میں ہزار ٹن غذائی ضروریات اور دیگر سازوسامان بھیجا گیا۔دنیا کے 95ممالک میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا گیا۔افریقہ میں 61ہزار 750لوگوں کے آپریشن کئے گئے۔اس امداد کا زیادہ تر حصہ ترک حکومت، ہلال احمر ترکی، انسانی یار دم وقف ،کم سایوک ما وغیرہ کی تنظیموں کی طرف سے 100سے زیادہ ممالک میں بھیجا گیا۔

ترکی کی کم سایوک ما ایسوسی ایشن نے دنیا کے 43ممالک میں کل 2لاکھ 37ہزار 352خاندانوں میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا۔اس تنظیم نے یوگنڈا میں 9ہزار 300بیمار مریضوں کے علاج و معالجے کا بندوبست کیا اور سوڈان میں 50ہزار 450لوگوں کا میڈیکل چیک اپ کیا۔موغادیشو میں روزانہ 500مریضوں کا میڈیکل چیک اپ اور 20زچہ بچہ کے کیس اور 10بڑے آپریشن کئے۔جان سیویو یار دم لشما ایسوسی ایشن آف ترکی کی طرف سے غزہ اور فلسطینی 600 یتیم بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لی۔ترکیہ دیانت وقف کی جانب سے سکول اور تاریخی مقامات کی تعمیر و مرمت اور آرائش کا کام کیا گیا۔اس کے علاوہ اس فاﺅنڈیشن نے 2ہزار 644بچوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست بھی کیا۔ترکی کی طرف سے فراہم کی گئی اس امداد سے افغانستان میں کئی سکولوں کی بھی تعمیر و مرمت کی گئی اور ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیم کا بندوبست کیا گیا۔ پاکستان میں ترکی کی مدد سے 7سکول اور ایک ہوسٹل کی تعمیر کی گئی۔ قازقستان، بوسنیا،سائبیریا اور آذربائیجان سمیت کئی ملکوں میں سکولوں کی تعمیر و مرمت کا کام کیا گیا۔ترکی کی وزارتِ تعلیم نے 100سے زیادہ ممالک سے اعلیٰ تعلیم کے لئے آنے والے ایک ہزار 929طلبہ و طالبات کو 73 ملین اور 56ہزار ڈالرز کے وظائف فراہم کئے گئے۔

ترکی کی مدد سے پاکستان میں 85،نائجیریا میں 104اور برکینا فاس میں 44پانی کے صاف کنویں اور چشمے کھودے گئے اور ہزاروں لوگوں کے لئے پینے کے لئے صاف پانی کا بندوبست کیا گیا۔افغانستان، بوسنیا، مقدونیہ اور صومالیہ میں نئی سڑکیں، روڈ اور پل بنائے گئے۔ ذرائع ابلاغ کو بہتر بنانے کے لئے بے شمار منصوبے مکمل کئے گئے.... بیان کئے گئے اعدادوشمار صرف گزشتہ سال کے ہیں اور ان میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترک قوم کو یہ توفیق،اعزاز، حوصلہ اور ہمت دی ہے کہ وہ اپنے مال میں سے ضرورت مندوں کی بھی خدمت کرے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر ہم اس کے دیئے گئے مال میں سے دوسروں پر خرچ کریں گے تو وہ اس میں اضافہ کرے گا۔اگر امیر اور صاحبِ استطاعت اپنے مال میں سے زکوٰة ،صدقہ اور خیرات نکالتے رہیں گے تو اس سے معاشرے میں بہت سی برائیوں کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اخوت ، بھائی چارے، رواداری اور ہم آہنگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اللہ سب کو اپنے حلال مال سے ضرورت مند انسانوں کی مدد کرنے کی توفیق دے ۔(آمین)  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...