سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین (3)

سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین (3)
سر ہند شریف، اللہ والوں کی سرزمین (3)

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ آستانہ عالیہ روضہ شریف1922ءمیں صوبہ بمبئی سے تعلق رکھنے والے حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے پیروکاروں نے تعمیر کیا تھا۔زائر جو نہی صدر دروازے سے آستانہ عالیہ روضہ شریف میں قدم رکھنے کی سعادت حاصل کرتا ہے تو اس کے اندر ایمان کی روشنی نورونکہت بکھیر دیتی ہے اور وہ اپنے ایمان کو مستحکم اور محکم محسوس کرنے لگتا ہے، جونہی صدر دروازے سے داخل ہوں تودونوں طرف حجروں کی ایک لمبی قطار ہے، یہ کم وبیش سو سال پہلے کے تعمیر کرد ہ ہیں، جہاں روشنی، بیت الخلاءاور دوسری کوئی سہولت میسر نہیں ، لیکن ان حجروں کی اصل اہمیت یہ ہے کہ سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم معماروں نے ان حجروں میں قرآن حکیم کی تلاوت کی اور دنوں، ہفتوں اور مہینوں یہاں اپنے معبود حقیقی کی عبادت میں شب و روز بسر کئے۔، آج بھی ہر امیر و غریب، ہر چھوٹا و بڑا، ہر زاہد و گنہگار ان حجروں میں اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت کرتا ہے۔ افغانستان خاص طور پر حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات سے متاثر ہے اور وہاں سے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ روضہ شریف آتے ہیں اور یہاں سے ایک نیا عزم اور ایمان لے کر واپس جاتے ہیں ۔ ان کا بسیرا انہی شکستہ و خستہ حجروں میں ہوتا ہے۔ بے شمار لوگ رمضان المبارک کا پورا مہینہ ان حجروں میں بسر کرتے ہیں۔

 سالانہ عرس کے زمانے میں یہ حجرے زائرین سے بھر جاتے ہیں اور روضہ شریف کے پورے احاطہ میں کوئی جگہ ایسی نہیں بچتی، جہاں زائرین نے ڈیرے نہ ڈالے ہوئے ہوں۔ روضہ شریف کی فضا اور ماحول برصغیر کی دیگر درگاہوں اور مزاروں کے مقابلے میں بہت ہی مختلف ہے۔ یہاں آکر انسان بہت سکون و عافیت محسوس کرتا ہے۔ عرس کے دنوں میں یہاں کوئی شوروغوغا ہوتا ہے اور نہ ہی دوسری درگاہوں کی طرح ڈھول پیٹے جاتے ہیں، نہ بھنگڑا ڈالا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی بلند آواز سے بولتا ہے۔ حجروں سے قرآن حکیم کی تلاوت کی روح افزاءآوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ سال کے باقی دنوں میں برصغیر کے طول و عرض سے زائرین روضہ شریف آتے ہیں، چند روز یہاں قیام کرتے ہیں اور یہاں سے ولولہ تازہ لے کر اپنے گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں۔ روضہ شریف کی محبت صرف سلسلہ نقشبندیہ کے بزرگوں تک ہی محدود نہیں ہے، خانقاہی نظام کے دوسرے سلسلوں کے وابستگان بھی روضہ شریف آکر اپنی عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرنے میں فخرو سعادت محسوس کرتے ہیں۔ بے پایاں عقیدت و ارادت کے جذبات اب بزرگ نسل سے نوجوانوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں اور وہ بھی روضہ شریف میں حضرت مجدد الف ثانی ؒ کے چشمہ فیض سے اپنا دامن بھرنے آتے ہیں۔

 جونہی حجروں کی دو رویہ قطار ختم ہوتی ہے، سلسلہ نقشبندیہ کے اسلاف کی قبریں شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے ہزاروں بزرگ اور علماءحضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی ابدی آرام گاہ کے چاروں طرف آرام فرما رہے ہیں۔اس کے بزرگوں کی یہ تمنا اور آرزو ر ہی ہے کہ جب وہ اس دنیا سے کوچ کر جائیں تو انہیں سرہند شریف میں حضرت مجدد الف ثانی رحمة اﷲ علیہ کی درگاہ کے سائے میں آسودہ خاک ہونا نصیب ہو۔ ہندوستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے سلسلہ نقشبندیہ کے بے شمار بزرگ یہیں تہ خاک آرام فرما رہے ہیں۔پا کستان کے لوگوں کو ہندوستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث یہ سعادت میسر نہیں، بعض خوش نصیب ایسے بھی ہیں، جنہیں خانقاہ کے اندرونی حصے میں قبر کے لئے دوگز جگہ مل جاتی ہے۔ ایسے خوش نصیبوں کی کون ہمسری کرسکتا ہے.... حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ میں داخل ہونے کے بعد ان کے مزار کی طرف جاتے ہوئے جس گلی سے گزرتے ہیں، اسے عقیدت مند فرط محبت سے بہشتی گلی کہتے ہیں۔ خانقاہ کے دروازے پر بسم اللہ الرحمن الرحیم یا اللہ یا محمد اور درج ذیل شعر درج ہیں:

چہ عالی شان دربار امام دین ربّانی

ملائک صف بہ صف اےستادہ ایں جا بہر دربانی

بہشتی گلی کے دائیں طر ف وسیع و عریض مسجد واقع ہے، جہاں پیرو ان اسلام خشوع و خضوع سے نمازیں ادا کرتے ہیں۔ عرس کے موقع پر نعت خوانی اور تلاوت قرآن حکیم (قرا¿ت) کی محفلیں اسی مسجد کے وسیع و عریض احاطے میں منعقد کی جاتی ہیں۔ زائرین اپنے مرشد و امام.... امام دین ربّانی حضرت شیخ احمد سرہندی کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے لئے زمزمہ ہائے نعت اور تلاوت آیات قرآنی میں مصروف رہتے ہیں۔ دربار امام دین ربّانی کے سجادہ نشین سید محمد یحییٰ نقشبندی مجددی کی عمر اس وقت بہت تھوڑی تھی، جب ان کے والد خلیفہ سید محمد صادق نقشبندی مجددی خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ ان کی جگہ عارضی طور پر جب تک خلیفہ محمد صادق کے بیٹے بالغ نہ ہو جائیں ، سید مقبول احمد کو خلیفہ نامزد کیا گیا تھا، خلیفہ سید محمد صادق کے بیٹے سید محمد یحییٰ1947ءمیں اپنی والدہ کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے تھے۔ 1977ءمیں جب ان کی عمر34سال ہو گئی، انہوں نے اپنے والدصاحب کی جانشینی کا منصب حاصل کرنے کے لئے پاکستان سے سرہند شریف کا سفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی منشاءسے وہ عدالتی فیصلے کی رو سے اپنے والد کے جانشین ٹھہرے۔ خلیفہ محمد یحییٰ سجادہ نشین بننے کے بعد اس درگاہ کی عظیم روایات کی پاسداری کے لئے شب وروز کوشاں رہے ۔2009ء مےں ان کی رحلت کے بعد اُن کے صاحبزادے سےد محمد صادق رضا خلےفہ مقرر کئے گئے ہےں ۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی ابدی آرام گاہ کی زیارت کے لئے جو شخص بہشتی گلی میں داخل ہوتا ہے، اسے سکون و عافیت کی غیر معمولی کیفیت کی سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ انسان چند لمحوں کے لئے اپنے تمام غم و آلام بھول جاتا ہے اور اپنے خالق حقیقی سے لولگا لیتا ہے اور ایسے معلوم ہوتا ہے کہ وقت کی رفتار تھم گئی ہے اور انسان اور اس کے معبود کے درمیان کوئی فاصلہ باقی نہیں رہا۔موجودہ روضہ شریف بمبئی (گجرات) کے حاجی نسیم اور حاجی ولی محمد نے1929ءمیں تعمیر کروایا تھا۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادے خواجہ محمد معصوم ؒ اور آپ کی ایک دختر بھی خانقاہ شریف کے احاطے میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ زائرین حضرت شیخ احمد سرہندی حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے بعد ان کے صاحبزادوں کی آرام گاہوں پر بھی حاضر ہوتے ہیں، جن کا مقام تصوف میںکسی بھی عظیم صوفی سے کم نہیں۔ یہاں پر ایک اور بزرگ حضرت رفیع الدین کا مزاربھی ہے، جو حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے اسلاف میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے والد ماجد حضرت شیخ عبدالاحد کا مزارمبارک درگاہ کے احاطے کے باہر کھیتوں میں واقع ہے۔ درگاہ پر حاضری کی سعادت حاصل کرنے والے حضرت شیخ عبدالاحد رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر بھی نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ درگاہ کے احاطے میں شاہ کابل شاہ زمان کے پوتے محمدیعقوب خان کا بھی مزار ہے، جسے سفید سنگ مر مر سے تعمیر کیا گیا ہے۔ شاہ زمان اور ان کی اہلیہ کی قبریں درگاہ کے احاطے میں واقع ہیں، ان قبروں کو ریاست رامپور کے نواب نے پختہ کیا تھا۔ روضہ شریف میں واقع مقبروں کی دیکھ بھال اطمینان بخش نہیں ہے، کیونکہ درگاہ کی آمدنی کے وسائل بہت محدود ہیں۔ درگاہ سے منسلک اراضی سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے، وہ سالانہ عرس کے اخراجات پر صرف ہوجاتی ہے۔ سجادہ نشےن درگاہ کی دیکھ بھال کے لئے کوشاں رہتے ہیں، لیکن درگاہ کے محدود ذرائع آمدنی کے باعث ان کی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے۔ حضرت مجدد الف ثانی کی ابدی آرام گاہ کے باہر پانی کا ایک نل سینکڑوں سال سے فیض کا چشمہ بنا ہوا ہے۔ زائرین بڑے ذوق و شوق سے اس نل کا پانی پیتے ہیں، اور ساتھ بھی لے جاتے ہیں۔ یہ بہت خوش ذائقہ پانی ہے اور زائرین کے لئے جسمانی اور روحانی تقویت کا باعث بنتا ہے۔

روضہ شریف کی مسجد مرجع خاص و عام ہے، اگرچہ پاکستان بننے کے بعد یہاں صرف سجادہ نشین خاندان ہی واحد مسلمان خاندان رہ گیا ہے، لیکن ہندوستان کے مختلف حصوں، بالخصوص مالیرکوٹلہ سے سینکڑوں مسلمان نماز جمعہ ادا کرنے روضہ شریف حاضر ہوتے ہیں۔ عرس کے موقع پر اس مسجد میں فرزندان توحید کا جم غفیر ہوتا ہے، عام دنوں میں بھی مسجد میں قرآن حکیم کی تلاوت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ روضہ شریف کی اندرونی آرائش مسلمانوں کی قدیم تعمیری روایات کی عکاس ہے۔ زائرین بے شمار آرائشی قطعات سے اندرونی احاطے کی تزئین میں اضافہ کرتے رہتے ہیں،جن میں خطاطی کے خوبصورت نمونے بھی شامل ہیں۔ یہ قطعات اللہ اوررسول کے اسمائے حسنہ سے آراستہ ہیں۔ المختصر روضہ شریف برصغیر پاک و ہندکے مسلمانوں کی تمناو¿ں اور آرزوو¿ں کا مرکز ہے۔ اس کے درودیوار حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی لافانی تحریک کے گواہ ہیں، جو اسلام کی نشاة ثانیہ کا ذریعہ بنی اور جس نے مسلمانوں کے دلوں میں نئی حرارت پیدا کی اور جس جدوجہد کے نتیجے میں اسلام ہندوستان میں زندہ وپائندہ دین بن گیا، جس کے پیروکاروں نے دنیا کے گوشے گوشے تک اسلام کا پیغام پہنچایا اور لوگوں کے دلوں میں اسلام کی روح پھونکی۔ سرہند شریف میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ اسلام کے پیرو کاروں کو نیا عزم اور نیا ولولہ اور نیا جذبہ عطا کرنے کا ایک ایسا چشمہ ہے، جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔(ختم شد)  ٭

مزید : کالم