غلط فہمیوں کا ازالہ

غلط فہمیوں کا ازالہ
غلط فہمیوں کا ازالہ

مَیں نے ڈاکٹر طاہر القادری کے لانگ مارچ پر ”پاکستان“ کی دو اشاعتوں(7 اور 8 جنوری) میں اظہار خیال کیا۔ اس میں نقطہءنظر یہ پیش کیا کہ لانگ مارچ کے پروگرام کو غیر قانونی اور غیر دستوری اقدام سمجھنے یا ڈاکٹر صاحب کی ذات میں کیڑے نکالنے کی بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا حالات ہیں جن کے نتیجے میں لانگ مارچ تک نوبت آپہنچی ہے؟....ہمارا معاشرہ ایک مدت سے بے لنگر جہاز کی مانند وقت کے طوفانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں بے ضابطگیاں در آئی ہیں۔ کرپشن عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ریاستی مشینری امن و امان پر قابو پانے سے عاجز آگئی ہے۔ بیرونی دہشت گرد تو اپنی جگہ، اندرونی طور پر قتل و غارت کرنے والے بھی قانون کی گرفت سے آزاد ہو چکے ہیں۔ عدالتیں بے بسی کی تصویر بنی ہوئی ہیں۔ سپریم کورٹ ایسی بڑی عدالت ملزموں کو بلاتی ہے، لیکن ملزمان حاضر نہیں ہوتے۔ خود ریاستی مشینری انہیں تحفظ دیتی ہے، انہیں عدالت کے سامنے پیش کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے۔

سکے کی قیمت مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ آئے روز کے دھماکوں سے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ پانی، بجلی اور گیس جیسی روز مرہ استعمال کی چیزوں کی عدم فراہمی سے ہر شہری پریشان اور بدحال ہے۔ ان سب خرابیوں کے ذمہ دار دندناتے پھرتے ہیں، ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ سرکاری زمینوں پر دن دہاڑے قبضے ہوتے ہیں، لیکن قابضین کو لگام دینے والا کوئی نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ با اثر طبقات نے سرکاری مشینری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ غریب اور بے وسیلہ لوگ ہر جگہ دھکے کھاتے پھرتے ہیں، ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ سیاست کا حال یہ ہے کہ اس پر چند خاندانوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ لیڈروں کو ٹکٹ دینے کے لئے سوائے اپنے بیٹوں، بھتیجوں، بھانجوں، بیٹیوں اور بیویوں کے اور کوئی شریف اور لائق آدمی نظر نہیں آتا۔ کروڑوں میں ٹکٹ خریدے جاتے ہیں، آخر یہ اندھیر گردی کب تک چلے گی!

مَیں نے تاریخ سے چند مثالیں دے کر اپنا نقطہءنظر پیش کیا تھا کہ جب معاشرے اندرونی سطح پر اس حد تک زوال کا شکار ہو جائیں تو پھر دشمنوں کو مداخلت کا موقع مل جاتا ہے۔ اندرونی کمزوریوں کی بنا پر معاشرہ غیروں کا غلام ہو جاتا ہے.... جو قومیں داخلی طور پر مضبوط اور اپنی دفاعی قوتوں کی پشت پر ہوں، وہی بیرونی یلغار کا مقابلہ پوری طاقت سے کر سکتی ہیں۔ مَیں نے ایران اور روم کا مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھانے کا ایک بڑا سبب ان دونوں سلطنتوں کی اندرونی خرابیاں بتائی تھیں۔ حکمران طبقات عیاش اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل تھے۔ عوام ان کی چیرہ دستیوں سے عاجز آچکے تھے۔ ان حالات میں محض افواج کب تک ملک کا دفاع کرتیں، حالانکہ وہ تعداد اور اسلحے کے اعتبار سے مسلمانوں کے مقابلے میں زبردست حیثیت کی مالک تھیں۔

مَیں نے جب داخلی حالات کی ویرانی کی بات کی تھی تو میرا مقصد یہ نہیں تھا کہ مَیں مسلمان فاتحین کی توہین کر رہا تھا۔ اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ اس وقت مسلمان جرنیل اپنے ذاتی اخلاق کے ساتھ ساتھ جنگی حکمت عملی کے بھی ماہر تھے۔ مَیں نے تو فقط مغلوب و مفتوح ہونے والے معاشروں کی داخلی کمزوریوں پر بات کی تھی۔ میرے بزرگ دوست جناب لیفٹیننٹ کرنل(ر) غلام جیلانی خان نے میرے نقطہءنظر کو سمجھے بغیر9 جنوری کی اشاعت میں لکھا ہے:”خالد ہمایوں صاحب نے اپنے ان اسلاف کے عسکری کارناموں کو، ایرانیوں اور رومیوں کی عیش پرستی یا تنگ دستی پر محمول کر کے نہ صرف تاریخ اسلام کے جنگی ہیروز کا مذاق اُڑایا ہے، بلکہ ان درجنوں غیر ملکی/ افرنگی مو¿رخین و مصنفین کے جائزوں اور تبصروں کا بطلان بھی کیا ہے جو قرونِ اولیٰ کے مسلمان لشکریوں اور سالارانِ لشکر کی عسکری صفات کا اعتراف کرتے نہیں تھکتے“....قارئین ہی فیصلہ فرمائیں کہ کیا میری گزارشات سے یہ مفہوم متبادر ہوتا ہے کہ مَیں نے مسلمان جنگی ہیروز کا مذاق اُڑایا ہے؟

محترم کرنل صاحب نے دوسری زیادتی یہ فرمائی ہے کہ مجھ پر الزام لگایا ہے کہ مَیں نے سلطان محمود غزنوی کو ڈاکو، لٹیرا اور رہزن قرار دیا ہے۔ مَیں قارئین کے سامنے اپنی اصل عبارت رکھتا ہوں.... مَیں نے لکھا تھا: ” متعصب ہندو سکالر سلطان محمود غزنوی کو تو لُٹیرا، ڈاکو اور معلوم نہیں کیا کیا خطابات دیتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت ہندی معاشرے کے نچلے طبقات کا کس قدر استحصال ہو رہا تھا“.... یہ تو اندھے کو بھی نظر آسکتا ہے کہ مَیں نے تو ہندو متعصب سکالروں کی بات کی ہے کہ وہ سلطان محمود غزنوی کو لٹیرا اورڈاکو کہتے ہیں۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سندھ کی فتوحات میں بُدھ آبادی نے بھی کردار ادا کیا تھا تو مَیں نے تاریخ پڑھنے کے بعد ہی یہ لکھا تھا کہ بُدھ آبادی برہمنوں کے ظلم و جبر سے تنگ تھی اور انہوں نے محمد بن قاسم کو ایسی معلومات فراہم کی تھیں، جن سے دیبل وغیرہ کو فتح کرنے میں مدد ملی تھی۔ اس وقت میرے لئے تاریخ کی کتابوں کے حوالے پیش کرنا ممکن نہیں، بعد میں جب بھی وقت ملا، مَیں اس مسئلے پر تفصیل سے عرض کروں گا۔

 محترم کرنل صاحب نے میری یہ غلطی بھی بتائی ہے کہ مَیں علاو¿ الدین سوز کی جگہ علاو¿ الدین خلجی لکھ گیا تو اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ مَیں نے اپنے مسودے میں علاو¿ الدین غوری ہی لکھا تھا۔ بعد میں جب پروف وغیرہ پڑھا گیا تو علاو¿ الدین غوری کی جگہ علاو¿ الدین خلجی چھپ گیا۔ مجھے دونوں شخصیات کے الگ الگ ہونے کا بخوبی علم ہے۔ کرنل صاحب نے یہ نہیں دیکھا کہ مَیں نے وہ کالم کیوں لکھا تھا، کاش! وہ میری تحریر کی روح تک پہنچنے کی سعی فرماتے تو انہیں اس حقیقت تک پہنچتے دیر نہ لگتی کہ ہم وہ قوم ہیں، جس نے زوال کی ساری نشانیاں قبول کر لی ہیں۔ جنگیں محض ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، جب تک پیچھے صالح، متحد اور منظم معاشرہ موجود نہ ہو۔ وما علینا الا البلاغ! ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...