تبدیلی کی لہر اور بیورو کریسی کا کردار

تبدیلی کی لہر اور بیورو کریسی کا کردار

ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ کامیاب ہو یا ناکام، عمران خان کا سونامی آئے یا نہ آسکے، انتخابات وقت پر ہوں یا نہ ہوں، ایک بات طے ہے کہ اب پاکستان کو اس گل سڑے نظام کے تحت نہیں چلایا جاسکتا، جو 65 سال سے اس قوم کا مقدر بنا ہوا ہے۔ تبدیلی اب نوشتہ دیوار ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک شہر میں 92 لاشیں گریں اور حکومت صرف سوگ کا اعلان کرکے بیٹھ جائے۔ ایسا بھی نہیں ہوسکتا کہ بانی پاکستان کے بارے میں نازیبا خیالات کا اظہار کیا جائے اور سیاسی مصلحتیں حکمرانوں کو بولنے کی اجازت نہ دیں۔ یہ بھی ممکن نہیں کہ ریاستی نظام کے اداروں میں براجمان کارندے خلق خدا پر عذاب ڈھاتے رہیں اور لوگ خاموش بیٹھے رہیں۔ یہ جو تلاطم برپا نظر آ رہا ہے، اب اسے کسی نہ کسی شکل میں ڈھلنا ہے۔ بہت عرصے سے خونی انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں، مگر اسے روکنے کے لئے کبھی کسی نے کچھ کیا ہے۔ قانون نام کی شے ملک سے ناپید ہو چکی ہے۔ لوگ مر رہے ہیں، کہیں گولیوں اور دھماکوں سے اور کہیں بھوک اور فاقوں سے۔ اب ایسے حالات کو تادیر کیسے برقرار رکھا جا سکتا ہے ،ایک بندے نے باہر سے آ کر اس استحصالی اور گلے سڑے نظام کے خلاف آواز اٹھائی ہے تو کاخ امراءکے درو دیوار ہل رہے ہیں۔ ہمیں تو اس موقع پر وہ نعرہ یاد آ رہاہے جو طالب علمی کے زمانے سے سنتے آئے ہیں۔”گرتی ہوئی دیواروں کو ۔ ایک دھکا اور دو“.... آج تک تو یہی سنا اور دیکھا ہے کہ یہ نعرہ حکومتوں کے خلاف لگتا رہا، مگر اب میَں سمجھتا ہوں یہ جعلی اور قوم کی آرزوﺅں سے لگا نہ کھانے والے اس نظام کے خلاف گونج رہا ہے، جس میں یہ سکت بھی باقی نہیں رہی کہ وہ ملک کو امن، فلاح، قانون اور انصاف کا گہوارہ بنا سکے۔

مَیں آج اس کالم میں یہ سوال اٹھانا چاہتا ہوں کہ جو تبدیلی زمین کے اندر پنپ رہی ہے اور باہر آنے کی منتظر ہے، کیا اس کے لئے ہماری ریاستی مشینری بھی تیار ہے، کیونکہ ا یک عام خیال یہ ہے کہ سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی” سٹیٹس “کو چاہتی ہے ، کیونکہ اس سے زیادہ بے لگام نظام کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ وہ نظام ہے جس میں ہر سرکاری افسر مغل شہنشاہ بن جاتا ہے اور قانون قاعدے اس کی ذات میں سکڑ جاتے ہیں،اس لئے جب تک عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والی تبدیلی کے اشاروں کو اگر وہ ریاستی مشینری نہیں سمجھتی اور خود کو بدلے ہوئے حالات کے مطابق نہیں ڈھالتی ،اس وقت تک معاملات خونی انقلاب کی طرف بڑھتے رہیں گے، کیونکہ یہ ریاستی مشینری جسے عرف عام میں بیورو کریسی کہا جاتا ہے، عوام اور حکمرانوں کے درمیان پل کا کام دیتی ہے۔ اگریہ پل کمزور ہے تو عوام کی امیدیں پوری ہوتی ہیں اور نہ سیاستدان چاہنے کے باوجود اچھے کام کرسکتے ہیں ۔ ریاستی مشینری کی نااہلی اور بے حسی کے حوالے سے یہ سوال بہت اہم ہے کہ انتظامی افسران اور پولیس کے باوجود انصاف کی فراہمی کے لئے سپریم کورٹ کے جج یا صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو موقع پر کیوں پہنچنا پڑتا ہے؟اس سے کیا یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ریاستی مشینری زنگ آلود ہو چکی ہے۔ یہ زنگ آلود مشینری بھلا کیونکر ایک فلاحی معاشرے کے قیام میں معاون ثابت ہو سکتی ہے؟

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ قائد اعظمؒ نے جس ریاستی مشینری کو ریاست کا وفادار رہنے کی تلقین کی تھی، وہ حکمرانوں کی کاسہ لیسی پر اتر آئی۔ دونوں نے قومی وسائل کو شیر مادر سمجھ کرتقسیم کیا، مملکت اور قوم کے مفادات کو یکسر پس پشت ڈال دیا۔ یہ ایک سیدھا سادہ فارمولا ہے کہ جب افراد کی وفاداری مملکت کے ساتھ ہوتی ہے، تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں، کیونکہ ریاست ایک سداقائم رہنے والی قوت ہے، جبکہ حکومت کا عرصہ محدود ہوتا ہے ۔جب سرکاری عمال کی وفاداریاں کسی وقتی فائدے یا خوف کی وجہ سے حکمرانوں کے ساتھ وابستہ ہو جا تی ہیں تو ادارے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں ،کیونکہ اس قسم کے طرز عمل میں انہیں بائی پاس کیا جاتا ہے۔ اب کوئی سیاسی منچلا اور مروجہ جمہوریت کا داعی یہ سوال بھی داغ سکتا ہے کہ اداروں کے کمزور ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اداروں کو بائی پاس کریں اور قواعد و قوانین کو واقعات و حالات نیز ضرورتوں کے مطابق نرم کرتے چلے جائیں، آج کل اس بات کو تکیہ کلام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات ماورائے آئین ہیں، چلیں ٹھیک ہے، وہ ماورائے آئین مطالبات کر رہے ہیں، مگر جو کچھ ہو رہا ہے یا انتخابات میں ہو گا، کیا اسے ہم آئین کے مطابق قرار دے سکتے ہیں۔ کیا آئینی ہے اور کیا غیر آئینی؟ اس کی بحث اس لئے شروع ہوئی کہ ہمارے ماضی و حال کے حکمرانوں نے صوابدیدی اختیارات کے نشے میں قانون، ضوابط اور اداروں کو پامال کرنے کا جورویہ اختیار کیا، اس نے اس تصور کو عام کردیا کہ ہمارے ہاں ہر چیز موم کی ناک ہے، جسے جب اور جہاں چاہو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ اب جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ادارے کمزور ہونے سے کیا ہوتا ہے، تو اس کا جواب خود 65 سال کا یہ پاکستان ہے، جو مسائل کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔ ہمیں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا اور اب خود قوم کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو رہا ہے کہ تبدیلی کی بنیاد رکھنی ہے۔

پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سرکاری افسران کو تحفظ دینے کے ضمن میں آئین کا ذکر کیا تھا اور یہ فیصلہ دیا تھا کہ سرکاری افسران کو غلط کام پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔یہ ریمارکس بھی دیئے تھے کہ سرکاری افسروں کو قوم اور مملکت کے مفاد میں کام کرنا چاہئے۔ اگر ایساکرنے میں انہیں کوئی مشکل پیش آتی ہے تو آئین انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آج کل ایسی جرات مندانہ مثالیں تواتر کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں، جو بعض سرکاری افسران اپنی جرات مندی سے قائم کر رہے ہیں او رعہدہ بچانے کی بجائے ملک کے مفادات کو بچانے کے راستے میں گامزن ہیں سرکاری افسران اگر اپنے ارد گرد بدلنے والے حالات پر نگاہ ڈالیں تو انہیں اندازہ ہو گا کہ اب پاکستان میں مغلیہ عہد جیسی افسر شاہی کی گنجائش نہیں رہی۔ اب مکھی پر مکھی مارنے کا زمانہ نہیں، نہ ہی اس پہیئے کو پچھلی سمت گھمایا جا سکتا ہے، جو بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس لئے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ وقت کی ضرورتوں اور چیلنجوں پر پورا اترنے کی کوشش کی جائے۔ حکومت چاہے کوئی بھی آ جائے، عوام کوبری حکومت، کرپشن اور ناانصافی سے نجات کا احساس اسی صورت میں ہوسکتا ہے، جب سرکاری مشینری اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور ایک عام پاکستانی پر حاکمیت کا کلہاڑا چلانے کی بجائے اس کی خدمت اور مددکا راستہ اختیار کرے۔ بیورو کریسی کو اس لئے بھی نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ اب عوام میں شعور بہت زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد میڈیا نے ایک محتسب کا کردار اپنا لیا ہے۔ سب سے بڑھ کر سپریم کورٹ ہے، جو افسران کی طرف سے روا رکھی جانے والی نااہلی، کرپشن یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر گرفت کرنے میں دیر نہیں کرتی۔

پاکستان آج جن خطرات میں گھرا ہوا ہے، وہ اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ ایک فلاحی نظام اور فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی جائے،کیونکہ کوئی استحصالی یا نامنصفانہ نظام پر قائم معاشرہ چیلنجوں سے نہیں نمٹ سکتا۔ اس کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیورو کریسی چونکہ مملکت کا سب سے اہم کل پرزہ شمار ہوتی ہے کہ اس نے براہ راست عوام تک ثمرات پہنچانے ہوتے ہیں ،اس لئے اگر وہ مشنری جذبے سے کام کرے اور بداعتمادی کی وہ دیواریں گرا دے جو عوام اور اس کے درمیان موجود ہیں، تو ایک نئے دور کی ابتدا ہو سکتی ہے۔ میری رائے میں وقت آ گیا ہے کہ بیورو کریسی بھی سیاستدانوں کی طرح صورت حال کی نزاکت کا احساس کرے۔ قوم جس تبدیلی کا شدت سے انتظار کر رہی ہے، اس کے لئے سرکاری مشینری کو بھی اپنا ذہن تیار رکھنا چاہئے۔ پانی کا جو ریلہ فراز سے نشیب کی طرف آتا ہے، اس میں ہر شے کو خش و خاشاک کی طرح بہا لے جانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ بیورو کریسی عوامی توقعات کے سیلاب کی راہ میں بند باندھنے یا رکاوٹ ڈالنے کی بجائے، قومی جذبے کے ساتھ پاکستان کو ترقی یافتہ، خوشحال، پُرامن اور متمدن پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کا عزم کرے تاکہ ہم جس منجدھار میں گھرے ہوئے ہیں، اس سے نکلنے کے لئے اجتماعی کوششوں کا آغاز کر سکیں۔  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...