جناب شیخ الاسلام کی خدمت میں!

جناب شیخ الاسلام کی خدمت میں!

والدین سے تربیت میں خود سے بڑوں اور بزرگوں کی عزت کی ہدایت ملی تو حضرت مولانا ابو الحسنات قادری ؒ کے بعد اساتذہ سے یہ ہدایت اور وصیت پائی کہ صاحب علم حضرات کی تعظیم لازم ہے کہ یہ لوگ قومی اور دینی سرمایہ ہوتے ہیں، گھٹی میں پڑی اس عادت کے سبب ہم نے آج تک عالم حضرات کی تکریم کو ہمیشہ مقدم رکھا اور اکثر اُن کی لغزشوں کو بھی نظر انداز کیا، بلکہ بعض اوقات اُن کی ایسی گفتگو کو بھی برداشت کر لیا جو ہمارے نزدیک لایعنی ہوتی تھی۔ اسی تربیت اور جذبے کے تحت ہی ہم حضرت علامہ شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری کا بھی احترام کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم ان کے متاثرین میں شامل ہیں کہ ہمارے نزدیک وہ پہلے ایسے دینی سکالر ہیں جنہوں نے دورِ جدید کی مواصلاتی سہولتوں سے استفادہ کیا اور دینی تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ ہم یہ بھی بتا چکے ہوئے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے منہاج القرآن کے تحت جو تعلیمی سلسلہ شروع کیا وہ قابل تعریف ہے اور اسی لئے ہم ذاتی طور پر یہی چاہتے تھے اور پسند کرتے رہیں گے کہ وہ اپنی تمام تر تو جہ اور توانائیاں اسی شعبے کے لئے وقف کئے رکھیں۔ اسی جذبہ ملی کے تحت ہم صحافی ہوتے ہوئے بھی ان پر زور دیتے تھے کہ وہ سیاست سے الگ ہو کر صرف اور صرف دینی محاذ پر جہاد کریں کہ سیاست میں تو پگڑیاں اچھلتی ہیں۔2002ءکے انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تو بھی ان سے یہی عرض کی اور مسلسل اصرار کیا کہ وہ سیاست کو تیاگ دیں اور بالآخر اس میں کامیابی ملی۔ ڈاکٹر طاہر القادری سیاست چھوڑ کر اسمبلی سے مستعفی اور دُور دیس جا مقیم ہو گئے وہاں دینی تحقیقی کام اور تصنیف کا سلسلہ جاری رکھے رہے۔ پھر نامعلوم کیا ہوا کہ چھ سال کے طویل عرصہ کے بعد وہ اچانک آئے اور ان کو پاکستان میں انقلاب کی سوجھی۔ 23دسمبر 2012ءکو جلسہ عام کے بعد انہوں نے لانگ مارچ (ماﺅزے تنگ والا نہیں) کا اعلان کر دیا اور بضد ہیں کہ اُن کے اِس اقدم سے ملک یکایک بُری شہرت کے لوگوں سے پاک ہو جائے گا اور نظام بھی تبدیل ہو جائے گا۔

ہم اب بھی ادب ہی کے دائرے میں کچھ گزارشات کریں گے کہ جمعہ کی شب دُنیا ٹی وی پر کامران شاہد اور اس سے پہلے محترم مجیب الرحمن شامی کے پروگرام نقطہ نظر میں ڈاکٹر طاہر القادری کو دیکھنے اور سننے کے بعد بہت دُکھ ہوا وہ سیدھے سادے سوالات کا جواب بھی اسی انداز فکر سے نہ دے سکے اور انٹرویو میں بھی خطابت ہی کے جوہر دکھاتے رہے، جمعہ کی شب والے پروگرام نے تو ہمیں سخت دُکھ پہچایا اور ہم رنجیدہ بھی ہو گئے کہ محترم قادری صاحب نے اپنے مقام سے نیچے آ کر بلا استثنیٰ ہر برسر اقتدار اور پارلیمنٹ کے کسی بھی فورم پر بیٹھی تمام تر شخصیات کو یزید، بددیانت، خائن اور بلیک میلر قرار دے دیا، ان کا زور بیان ایسا تھا کہ اُن کے منہ سے کف جاری ہو جاتا جسے رومال سے صاف کر لیتے تھے۔ دُکھ یہ بھی ہے کہ وہ اس تمام تر زور بیاں کے باوجود سوالات کے جواب واضح طور پر نہ دے سکے، حالانکہ اب تو ان پر فرض عائد ہو گیا ہے کہ وہ ان اقدامات کی تفصیل بتا دیتے، جن کے ذریعے ان کی پسند کا نظام آ سکتا ہے اور اس تفصیل سے بھی آگاہ کرتے کہ وہ نظام کیا ہے، اس کی تفصیل کیا ہے جو وہ لانا چاہتے ہیں، لیکن انہوںنے ایسا کچھ نہیں کیا۔ البتہ اسلام آباد میں عوامی عدالت لگانے کا اعلان کرتے رہے اور مقدمے کا عنوان عوام بنام ظالمان قرار دیا، جب کہا گیا کہ وہ اس عدالت کے جج بنیں گے تو جواب گول کر دیا گیا۔

تمام تر معذرت کے بعد اب یہ کہنے کی جسارت کا ارتکاب کیا جا رہا ہے کہ حضور علامہ صاحب ایک بڑے جلسے کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں۔ وہ جس جلسے کو 20لاکھ کا قرار دیتے چلے آ رہے ہیں اس میں شامل حضرات کی تعداد کسی آرکیٹیکٹ سے نکلوا لیں تو ان کو علم ہو جائے گا کہ کروڑوں روپے کے اخراجات اور ایم کیو ایم کے تعاون کے بعد حاضرین جلسہ کی تعداد پچاس پچپن ہزار سے زیادہ نہیں بنتی اور یہ تخمینہ مینار پاکستان کے سبزہ زار اور منسلک سڑکوں کا رقبہ ماپ کر لگایا جا سکتا ہے اور ایسا کیا بھی گیا۔ اگر کھلی رعائت بھی دی جائے تو اسے بڑھا کر 70،75ہزار کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ زیر بحث نہیں جلسہ بڑا تھا اور ہم نے اس کی تعریف کی تھی۔ سوال صرف یہ ہے کہ جمعہ کی شب والے انٹرویو میں انہوں نے جو لب و لہجہ اختیار کیا اور جو کچھ دوسروں کے بارے میں فرمایا وہ کسی بھی عالم دین کو زیب دیتا ہے؟ خصوصاً ایسے مصلح کو جو معاشرے کو پاک صاف کرنے کے لئے حسینیت کی راہ کا مسافر کہلا رہا ہے (بذات خود)۔ ہمارے قیاس کے مطابق ان کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا وہ جن کے بارے میں یہ سب کچھ کہہ رہے تھے ان کے الفاظ، لب و لہجے اور ان ارشادات کے معنی و مطلب کے لحاظ سے وہ سب قابل گردن زدنی ہیں۔ جب اسی حوالے سے استفسار ہو ا کہ اُن کے بقول عوامی عدالت نے ان حضرات کو جو مورد الزام ہیں پھانسی لگانے کا مطالبہ کیا تو کیا وہ ایسا کریں گے اور کیوں کر کریں گے؟ تو انہوں نے کہا نہیں ہم پُرامن رہیں گے۔

ہم نے اپنے دُکھ کا اظہار کر دیا ہے ہم ان لکھنے والے حضرات کی طرح ماضی کے پرت نہیں کھولنا چاہتے جو حضرت علامہ صاحب کی اپنی بیان کردہ تاریخ ہی کے بخیئے ادھیڑ ر ہے ہیں۔ کیا اس ملک کے 90فیصد سے زیادہ لکھنے والے لوگ بے عقل اور بے علم ہیں جو مسلسل ان سے اختلاف کرتے چلے آ رہے ہیں؟ ان کو تو ان تحریروں سے استفادہ کر کے اپنا لائحہ عمل تبدیل کر لینا چاہئے تھا، لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہوا اور وہ بضد ہیں کہ لانگ مارچ ہو گا۔

ہم پہلے بھی ذکر کر چکے اور آج پھر وضاحت کر دیں کہ عبدالرحمن ملک نے درست نہیںکہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو علامہ صاحب کو بہت پسند کرتی تھیں اور ان کی معتقد تھیں، بات اس کے برعکس تھی اور ان کی منہاج القرآن کی رکنیت والی بات بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر سیاسی ضرورت کے تحت کی گئی ہے یہ رکنیت خود ڈاکٹر طاہر القادری نے پیش کی اور محترمہ نے سیاسی اتحاد (جی ڈی اے) کی خاطر قبول کی اس سے پہلے جب جی ڈی اے بنایا جا رہا تھا اس وقت بھی محترمہ کے شدید تحفظات تھے، لیکن علامہ موصوف نے ضد باندھ کر اپنی بات منوائی اور نوابزادہ نصر اللہ نے محترمہ کی خفگی کو برداشت کیا تھا (یہ ہم اپنے پہلے ایک کالم میں بتا چکے ہوئے ہیں) محترم ڈاکٹر طاہر القادری جی ڈی اے کی سربراہی سنبھال کر بھی اسے نبھاہ نہیں سکے تھے اور چند ماہ بعد ہی چھوڑ چھاڑ کر الگ ہو گئے تھے۔ اپنی علالت اور مصروفیات کا عذر پیش کر کے صدارت چھوڑ دی تھی۔ یہ سب آج بھی اخبارات کے صفحات میں محفوظ ہے۔

حافظے ابھی اتنے کمزور نہیں کہ سب کچھ بھول جائے ، احترام آج بھی ملحوظ خاطر ہے اس لئے بہت سی باتیں نہیں کہہ سکتے۔ احتیاط لازم ہے۔  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...