انتخابات کا التوا.... قومی نقصان

انتخابات کا التوا.... قومی نقصان

پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے نگران وزیراعظم بننے سے انکار کردیا روزنامہ ”پاکستان“ سے انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی نے ان سے کہا تو وہ انکار کر دیں گے۔ گزشتہ چند دنوں سے محمود خان اچکزئی کے حوالے سے خبریں گرم تھیں اور مصدقہ طور پر کہا جا رہا تھا کہ نگران وزیراعظم کے لئے ان کے نام پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ان کی تردید نے نئی صورت حال پیدا کر دی ہے اور اب کسی دوسری شخصیت پر اتفاق پیدا کرنا ہو گا۔ محمود خان اچکزئی بنیادی طور پر سیاسی آدمی ہیں اور ان کے گریز کی بنیادی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس مرتبہ ان کی جماعت موجودہ انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہے اور محمود اچکزئی خود بھی امیدوار ہوں گے۔ اس لئے وہ یہ پیشکش قبول نہیں کرنا چاہتے کیونکہ نگران کابینہ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ خود امیدوار نہیں ہوں گے،

محمود خان اچکزئی کی ذات پر اتفاق رائے ہی سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ معتبر شخصیت ہیں۔ اس انٹرویو میں وہ بہت واضح ہیں اور کہتے ہیں کہ انتخابات ملتوی نہیں ہونا چاہئیں، اگر ایسا ہوا تو بہت بڑا قومی نقصان ہو گا ان کے خیال میں ڈاکٹر طاہر القادری الیکشن ملتوی کرانا چاہتے ہیں،یہ بات صرف محمود خان اچکزئی ہی نہیں اور بھی لوگ کررہے ہیں سپریم کورٹ بار کی آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ بھی یہی کہتا ہے۔ اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ عام انتخابات لازمی ہیں اور وقت پر ہونا چاہئیں ۔ اب اگر واضح اکثریت یہ کہتی ہے تو باقی حضرات کو بھی مان لینا چاہئے۔ ٭

مزید : اداریہ