کوئٹہ کا انتظام فوج کو دینے کا مطالبہ

کوئٹہ کا انتظام فوج کو دینے کا مطالبہ

جمعہ کے روز کوئٹہ میں تین بم دھماکوں میں104 افراد کے جاں بحق ہونے اور اسی روز سوات کے تبلیغی مرکز میں دھماکے اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے سے پورے ملک کی فضا سوگوار ہوگئی۔ کوئٹہ میں اس قدربڑے جانی نقصان کے بعد تمام مارکیٹیں سوگ میں بند کر دی گئیں اور سرکاری طور پر سوگ کا اعلان کردیا گیا، لیکن بہت بڑا صدمہ ہزارہ برادری کو پہنچا جن کے کوئٹہ کے دھماکوں میں 86 افراد جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے ان افراد کی جمعہ کے بعد نماز جنازہ اور تدفین کا پروگرام تھا، لیکن تدفین کے بجائے صدمے سے نڈھال شیعہ ہزارہ برادری کے سینکڑوں افراد نے ان نعشوں کے ساتھ علمدار روڈ پر دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ کوئٹہ کا انتظام فوج کے حوالے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں اور بالخصوص اقلیتوں کے جان ومال کی حفاظت میں قطعی ناکام ہوچکی ہے ۔ وہ اس وقت تک اپنے عزیزوں کی نعشیں دفن نہیں کریں گے جب تک کوئٹہ کا انتظام فوج کے حوالے نہیں کر دیا جاتا۔ شدید سردی اور بارش کے باوجود سوگوارخاندانوں کے سینکڑوں بوڑھے ،خواتین اور بچے علمدار روڈ پر دھرنا دیئے بیٹھے تھے۔ انتظامیہ نے ان سے مذاکرات کئے، لیکن ہر بار ان کو زندگی کا تحفظ دینے میں ناکام رہنے والی انتظامیہ ان کی نظروں میں اپنا اعتماد کھو بیٹھی ہے۔ کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کے لوگ باقی قبائل کے مقابلے میں زیادہ پڑھے لکھے اور محنتی ہیں ۔ ایوب خان کے بعد پاکستان آرمی کے سربراہ بننے والے جنر ل محمد موسی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے تھا۔ گزشتہ چند برسوںکی قتل و غارت میں اس قبیلے کے افراد کو بار بار نشانہ بنایا گیا او ر اب تک سب سے زیادہ جانی نقصان اسی کے افراد کا ہواہے۔

کوئٹہ کے سی ایم ایچ میں بم دھماکوں کے زخمیوں کی عیادت کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر ذوالفقار مگسی نے اعتراف کیا کہ کوئٹہ میں بم دھماکوں کے بعد موجودہ حکومت کا حق حکمرانی ختم ہو گیا ہے۔ صوبائی حکومت ہر شعبے میں ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صوبے کے آئینی سربراہ ہیں ،لیکن اصل اختیارات وزیر اعلیٰ کے پاس ہیں۔ گورنر کے اس اعتراف کے بعد تو موجودہ صوبائی حکومت کے باقی رہنے کی قطعاً کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان امن و امان اور اس کے بعد کراچی امن و امان کیس کی تفصیلی سماعت کے بعد تمام تر شواہد اور حقائق کے پیش نظر جو فیصلے دئیے تھے اگر ان پر عمل کیا گیا ہوتا تو آج نہ کوئٹہ کی صورتحال بگڑ کر یہاں تک پہنچتی نہ کراچی میں روزانہ ایک درجن سے زائد ٹارگٹ قتل کئے جانے کا سلسلہ اس تواتر سے قائم رہتا۔ اس وقت بلوچستان اور کراچی میں بے یقینی اور مایوسی اپنی انتہاﺅں کو چھو رہی ہے۔ اپنے لواحقین کی نعشیں اٹھاتے اٹھاتے بے گناہ اور بے بس مظلوم شہریوں کی کمریں ٹوٹ چکی ہیں ۔ حکمران صرف اپنے اقتدار سے چمٹے رہنے اور جمہوریت کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں ۔ آلام و مصائب کا شکار ایسے بد انتظام اور بے حس حاکموں کے منہ سے جمہوریت کے الفاط سن سن کر عام لوگ جمہوریت سے متنفر ہو چکے ہیں ۔ اب ان کے سامنے یہی حقیقت عیاں ہے کہ عوام کو عدل و انصاف سے محروم کرکے انہیں بھتے لینے والوں، اغوا برائے تاوان والوں، اوردہشت گردوں کے حوالے کردینے والے حاکم ان کے مسائل او ر مصائب سے کچھ تعلق نہیں رکھتے۔ وہ دن رات اپنے اربوں کو کھربوں میں بدلنے کی فکر میں غلطاں ہیں، اپنے تمام تر ظالمانہ افعال کے لئے نام نہاد جمہوریت کو انہوں نے اپنی ڈھال بنا رکھا ہے۔

صرف کوئٹہ ہی نہیں کراچی میں بھی حالات دگرگوں ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں نہ صرف اپنے عوام کے جان ومال کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری میں ناکام رہی ہیں بلکہ انہوں نے بدترین مصائب اور عذاب کے شکار افراد کی داد فریادکی طرف سے بھی اپنے کان بند کر رکھے ہیں ۔ نہ کسی نے قتل و غارت بند کرنے کے لئے سنجیدگی سے کچھ سوچا نہ اپنے عمل سے اپنے اخلاص کا ثبوت دیا۔ ایسے حالات میں کوئٹہ کے مظلوم اور لٹے پٹے عوام کی طرف سے شہر کا انتظام فوج کے سپرد کرنے کا مطالبہ بے جا نہیں ۔ گورنر بلوچستان نے اگر حکومت کی ناکامی کا اعتراف کر ہی لیا ہے تو انہیں اس سے آگے بڑھ کر اپنے منصب کی ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآ ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اس سے پہلے ہی بلوچستان حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مکمل ناکام قرار دے کر وفاقی حکومت سے کہہ چکی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، لیکن اس سلسلے میں نامعلوم مصلحتوں کے تحت کچھ نہیں کیا گیا۔ اب عوام کے اس مطالبے کے بعد گورنر صاحب کو چاہئے کہ فوری طور پر صدر کو بلوچستان حکومت ختم کرکے گورنر راج قائم کرنے کے لئے لکھیں اور کوئٹہ کا انتظام فوج کے سپرد کرنے کے لئے کہیں۔

جمہوری حکومت کو کسی بھی چیز سے بڑھ کر دہشت گردوں کے بم دھماکوں اور لٹیروں کی فائرنگ سے عوام کی زندگیوں کو تحفظ دینے پر توجہ دینی چاہئے۔ اس پر واضح ہونا چاہئے کہ بے گناہ شہریوں کی زندگی کو عذاب میں ڈال کر جمہوریت کی مالا جپنے والے عام لوگوں کو پسند نہیں۔سچ بات تو یہ ہے کہ ان حالات میں اب ان سب کی حکمرانی کا حق ختم ہو چکا ہے۔ اس طرح کے حالات میں ان کا زیادہ دیر ٹھہرنا لوگوں کے دلوںمیں جمہوریت کے خلاف نفرت بھر دے گا۔ عوام کی یہ حالت بنا کر اقتدار سے چمٹے رہنے والوں کو جمہوری نہیں، بلکہ عام شہری ہٹ دھرم حکومتیں جان رہے ہیں۔ اگرجمہوریت کا کچھ بھی درد ان کے سینوں میں ہے تو انہیںجلد سے جلد آئین کے مطابق نگران حکومتیں تشکیل کرکے رخصت ہو جانا چاہئے ۔ انتخابات کے سب کام اور عوام کو سکھ کے لمحات مہیا کرنے کی ذمہ داری نگران حکومت والے خود ہی نبھاتے رہیں گے۔ آخر ہمارے ہاں حکومتوں سے چمٹے ہوئے لوگ یہ سمجھ کیوں نہیں پا رہے کہ اگر وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری بھی ادا نہیں کر سکتے تو پھر ان کا حقِ حکمرانی کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ مظلوم اور پسے ہوئے لوگ ان سے نجات کے لئے دُعا کررہے ہیں ۔ آنے والا ہر نیا دن اُن کے لئے عوامی نفرت اور ناپسندیدگی کی مزید شدت لے کر آ رہا ہے۔ وہ اپنے روپے پیسے کے زور سے عوام کے دلوں سے یہ نفرت دُور نہیں کرسکتے ۔ ان حاکموں کی طرف سے تو عوام کو بڑے بڑے سنگین مسائل سے نکالنے کے لئے اہم قو می معاملات میں وسیع تر قومی اتفا ق رائے پیدا کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی گئی جس سے ان کی جمہوریت کے لئے لوگوں کے دلوں میں کوئی نرم گوشہ پیدا ہو سکتا تھا۔ مسلسل مایوسی اور مصائب سے دوچار لوگ نفرت سے بھرے پڑے ہیں اور خود پر جبر ، استحصال اور ظلم ہی کی حکومت محسوس کرتے ہیں۔

کیا ہمارے حکمران سیاستدان جنہیں اپنی سیاسی شعبدہ بازیوں پر بہت فخر ہے کبھی ان زمینی حقائق پر بھی توجہ دیں گے؟ جمہوری حکومت وہ ہوتی ہے جو ہر لحاظ سے شفاف ، منصفانہ اور آزادانہ فضا میں ہونے والے انتخابات کی ضمانت دے۔ عوام کے تمام طبقات کو حقیقی نمائندگی دینے والے نظام پر مشمل ہو۔ اگر کوئی لانگ مارچ یا شارٹ مارچ کے ذریعے بہت سے لوگوں کے دل لگنے والی ایسی باتوں کی آئندہ انتخابات میں ضمانت چاہتا ہے ، تو منصفانہ انتخابات کے لئے ایسا کرنے اور ملکی فضا سے بے یقینی ختم کرنے میں آخر تاخیر کا سبب کیا ہے؟ اپنے جان و مال کو بے یقینی کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا دیکھنے والے عوام امن چاہتے ہیں۔ انصاف کے متمنی ہیں ۔انہیں اب کسی کے خالی خولی نعروں اور سیاسی مخالفین کو دلفریب نعروں سے لتاڑنے والوں سے کچھ غرض نہیں ہے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...