لاشوں کے ساتھ ’زندہ لاشوں‘ کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری ،دنیا بھر میں احتجاج، رئیسانی منظر سے غائب ، گورنر نے استعفیٰ صدر کو پیش کردیا ، زرداری نے سر جوڑ لیا، بلوچستان حکومت کی برطرفی کا امکان

لاشوں کے ساتھ ’زندہ لاشوں‘ کا دھرنا تیسرے روز بھی جاری ،دنیا بھر میں ...

 کوئٹہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کی 90 میتوں کے ساتھ دھرنا مسلسل تیسرے روز میں داخل ہونے اور احتجاج کا دائرہ پاکستان کے ہر شہر کے علاوہ بیرون ملک تک پھیلنے  کے بعد صدر آصف علی زرداری نےبلوچستان حکومت کے خاتمے کیلئے صلاح مشورہ شروع کردیا ہے جس کے تحت کسی وقت بھی ایمرجنسی کے نفاذ، گورنرراج، اور اسمبلی سمیت صوبائی حکومت معطل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ لاشوں کے ساتھ ’زندہ لاشوں ‘ کا دھرنا شدید سردی اور خراب ترین موسم کے باوجود تیسرے روز میں داخل ہوگیا ہے جس میں اندرون و بیرون ملک کا احتجاج بھی شامل ہے اور یہ اپنی نوعیت کا تاریخی احتجاج ہے، ملک کے کئی شہروں میں سڑکیں بلاک ہیں اور کوئٹہ کا کنٹرول فوج کے حوالے کرنے کے مطالبے میں کمی نہیں آئی۔ دھرنا ختم کرانے کیلئے وفاقی حکومت کی کوششیں بھی کارگر ثابت نہیں ہوئیں جبکہ حکومتی حلیف جماعت ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے رہنماء اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین ندیم افضل چن نے بھی وزیراعلیٰ بلوچستان کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی نااہل حکومت مستعفی ہوجائے اور وہاں کا انتظام گورنر کے سپرد کردیا جانا چاہئے جبکہ ندیم افضل چن کا کہنا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کرپٹ اور نا اہل ہیں،انہیں استعفیٰ دےدینا چاہئے اور اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو وہاں گورنر راج لگا دینا چاہئے۔ ہزارہ قبیلے کے سربراہ سردار سعادت علی نے چیف جسٹس سے اس معاملے کا از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ اپنی نوعیت کے اس تاریخی احتجاج کے بعد بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ایم کیو آج  اتوار کو یومِ سوگ منا رہی ہے۔متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے بھی بلوچستان اسمبلی اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے اور صدر پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کے مطالبے پر کوئٹہ کو فوج کے حوالے کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ سانحہ کوئٹہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی کابینہ کی بے حسی ہے لہٰذا بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کو برطرف کیا جائے۔ الطاف حسین نے کہا کہ وفاقی حکومت ہزارہ کمیونٹی کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی تو اقتدار چھوڑ دے۔ صدر آصف علی زرداری نے  اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں بلوچستان کے بارے میں اہم فیصلوں کا امکان ہے۔ تازہ ترین اطلاعات  کے مطابق  صدر نے اسلم رئیسانی کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔ صدر نے وزیرقانون اور سینئر قانونی مشیر وسیم سجاد کو ہنگامی طور پر طلب کرلیا ہے  تاکہ  ایمر جنسی لگانے، بلوچستان حکومت کی برطرفی  سمیت تمام آپشنز پر غور کیا جاسکے، نجی ٹی وی سماء کے مطابق بلوچستان کے گورنر سردا ر ذوالقار مگسی نے صدر  کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ موجودہ حالات میں اپنے صوبے کے عوام کو تنہاء نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی کوئی جواب دے سکتے ہیں۔ اس لئے یا تو اس مسئلے کا حل نکالا جائے یا پھر ان کا استعفیٰ قبول کیا جائے۔

مزید : کوئٹہ /Headlines

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...