الیکشن کمیشن تحلیل کرنے سے قبل آئین تحلیل کرناپڑے گا

الیکشن کمیشن تحلیل کرنے سے قبل آئین تحلیل کرناپڑے گا

 ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے لانگ مارچ کے جو مقاصد بیان کئے ہیں اور جو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے اس میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ موجودہ الیکشن کمیشن کو تحلیل کیا جائے، ان کے خیال میں موجودہ چیف الیکشن کمشنر تو بہت اچھے آدمی ہیں لیکن الیکشن کمیشن بے بس ہے، اس کی جگہ نیا آزاد الیکشن کمیشن ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر طاہر القادری 23 دسمبر سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ان کے مطالبات آئین کے منافی نہیں ہیں جبکہ حقیقت میں ان کے مطالبات پورے کرنے کے لئے آئین کے کئی آرٹیکلز کو نہ صرف نظر انداز کرنا پڑے گا بلکہ ان سے روگردانی بھی یقینی ہو گی، جیسا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے الیکشن کمیشن سے قبل آئین کو تحلیل کرنا پڑے گا ، آئین کے آرٹیکل215 (2) کے تحت حکومت الیکشن کمیشن کو تحلیل کرنے یا چیف الیکشن کمشنر کو سبکدوش کرنے کی مجاز ہی نہیں ہے، چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا وہی طریقہ کار ہے جو آئین کے آرٹیکل209 میں اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے لئے مقرر ہے، یعنی اگر چیف الیکشن کمشنر پر کوئی ایسا الزام ہو جس کی بنیاد پر وہ اس عہدے کے لئے نا اہل تصور کئے جائیں تو ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا جائے گا جو معاملے کی تحقیقات کر کے اپنا فیصلہ سنائے گی۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ماضی کی طرح ان کا حال بھی بے داغ ہے ان کے خلاف ریفرنس کا تو کوئی جواز ہی نہیں ہے، انہیں5 سال کے لئے چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا گیا ہے آئین میں ان کے عہدے اور ملازمت کو تحظ دینے کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ غیر جانبداری سے آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دیں، بادی النظر میں انہیں برطرف نہیں کیا جا سکتا، یہ الگ بات ہے کہ وہ خود ہی اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیں لیکن سردست اس کے آثار بھی نظر نہیں آتے اور سوال یہ بھی ہے کہ وہ کیوں مستعفی ہوں گے؟ نہ جانے طاہر القادری کو آئین میں کون سا آرٹیکل نظر آ رہا ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن تحلیل کر کے چیف الیکشن کمشنر کو گھر بھیجا جا سکتا ہے ، آئین اور قانونی طور پر الیکشن کمیشن کو وسیع تر اختیارات حاصل ہیں، علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں نے الیکشن کمیشن کے ہاتھ مزید مضبوط کئے ہیں۔ طاہر القادری کو اگر الیکشن کمیشن بے بس اور ” غلام“ نظر آتا ہے تو انہیں ان عوامل کے خاتمے کی بات کرنا چاہیے جن کے باعث الیکشن کمیشن کو اپنے اختیارات کے استعمال میں دشواری کا سامنا ہے۔ طاہر القادری کو اگر چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمیشن کے اختیارات کے حوالے سے قانون میں کوئی جھول نظر آتا ہے تو انہیں اس کی نشاندہی کرنی چاہیے نہ یہ کہ وہ الیکشن کمیشن ہی تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیں۔

طاہر القادری جو مطالبات کر رہے ہیں انہوں نے ایسے مطالبات کا حق کسی آئین سے لیا ہے؟ انہیں آئین سے متصادم مطالبات کا حق کس نے دیا ہے؟ کیا ان کی خواہشات آئین سے بالاتر ہیں؟ آخر وہ چاہتے کیا ہیں؟ ان کی منزل کیا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج زبانِ زد عام ہیں۔ ان کے حوالے سے نت نئے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں ، ان سوالات کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ قادری صاحب کے اقدامات، اعلانات اور سرگرمیاں مبہم ہیں۔ ان کا مقصد آئندہ انتخابات میں صاف ستھری قیادت سامنے لانا بیان کیا جاتا ہے لیکن ان کے مطالبات سے تو ایک اور ہی تصویر بنتی دکھائی دیتی ہے جس میں مستقبل قریب میں عام انتخابات کہیں نظر نہیں آ رہے۔

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...