حکومتی اتحادی الطاف اور شجاعت کا قادری سے رابطہ ،پنجاب حکومت اپنی ”آئی “پر آگئی ، لانگ مارچ کے راستے پر موبائل سروس بند،قافلہ اسلام آباد کی طرف رواں دواں

حکومتی اتحادی الطاف اور شجاعت کا قادری سے رابطہ ،پنجاب حکومت اپنی ”آئی “پر ...
  • حکومتی اتحادی الطاف اور شجاعت کا قادری سے رابطہ ،پنجاب حکومت اپنی ”آئی “پر آگئی ، لانگ مارچ کے راستے پر موبائل سروس بند،قافلہ اسلام آباد کی طرف رواں دواں
  • حکومتی اتحادی الطاف اور شجاعت کا قادری سے رابطہ ،پنجاب حکومت اپنی ”آئی “پر آگئی ، لانگ مارچ کے راستے پر موبائل سروس بند،قافلہ اسلام آباد کی طرف رواں دواں
  • حکومتی اتحادی الطاف اور شجاعت کا قادری سے رابطہ ،پنجاب حکومت اپنی ”آئی “پر آگئی ، لانگ مارچ کے راستے پر موبائل سروس بند،قافلہ اسلام آباد کی طرف رواں دواں
  • حکومتی اتحادی الطاف اور شجاعت کا قادری سے رابطہ ،پنجاب حکومت اپنی ”آئی “پر آگئی ، لانگ مارچ کے راستے پر موبائل سروس بند،قافلہ اسلام آباد کی طرف رواں دواں

لاہور،کراچی،پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) الطاف حسین اور چوہدری شجاعت نے ٹیلی فون پر طاہرالقادری سے رابطہ کیاہے اور ایجنڈے کے دونکات پر تفصیلی گفتگو ہوئی جس دوران حکومتی اتحادیوں نے حکومت کیساتھ بات چیت کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ پنجاب حکومت بھی لانگ مارچ کے شرکاءسے نمٹنے کے لیے اپنی آئی پر آگئی ہے جس کے تحت مختلف مقامات پر راستے سیل کردیئے گئے ہیں تاہم طاہرالقادری کی سربراہی میں لانگ مارچ ماڈل ٹاﺅن لاہور سے اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے اور مارچ کے راستے میں آنیوالے لاہور کے مخصوص علاقوں میں موبائل سروس بند کردی گئی ہے جبکہ مارچ کے راستے میں آنیوالے تمام علاقوں میں موبائل سروس بند کیے جانے کاامکان ہے۔دوسری طرف منہاج القرآن انتظامیہ نے کہاہے کہ حکومت نے بسیں روک لی ہیں تاہم صوبائی وزیرقانون نے اُن کے دعوے کی تردید کردی ۔اُدھر ٹرانسپورٹر زنے بھی لانگ مار چ کے شرکاءکو گاڑیاں فراہم کرنے سے انکار کردیاہے ۔تحریک منہاج القرآن کے ترجمان کے مطابق راوی ٹاﺅن میں پچیس اورواہگہ ٹاﺅن میں پندرہ بسیں روک لی گئی ہیں جس کے بعد لانگ مارچ کے شرکاءپیدل ہی روانہ ہورہے ہیں ۔ صوبائی وزیرقانون رانا ثناءاللہ نے کہاکہ منہاج القرآن کے الزامات بے بنیاد ہیں ، طاہرالقادری کے بینرز ہر سڑک پر لگے ہوئے ہیں ، روٹ پرمٹ منسوخ کیے نہ ہی کسی کو ہراساں کیاگیا۔اُدھر وزیرقانون کے دعووں کے برعکس فیصل آباد، فیروز والا، شیخوپورہ اور مریدکے سمیت کئی مقامات پر راستے سیل کرکے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے ۔فیصل آباد کے گٹ والا چوک میں لانگ مارچ کے شرکاءکی گاڑیاں پہنچ گئی ہیں جہاں پولیس نے حصار بناکر گاڑیاں روک لیں اور خواتین کارکنان کی کثیر تعداد بسوں سے اُتر آئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔اُدھر بھکر میں لانگ مارچ کے شرکاءکو بھکر پل پر روک لیاگیاہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان پولیس نے بھی گاڑیوں کے عملے کے لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔روات میں بھی گاڑیوں کو روک لیاگیاہے جبکہ راولپنڈی میں فیض آباد کے علاقے میں شاہراہ اسلام آباد بند کرنے کا کام جاری ہے ۔میڈیا پرگفتگو میں علامہ طاہرالقادری نے کہاہے کہ شرکاءنے نماز کی وجہ سے تیاریاں روک دیاتھا ، ملک میں پرامن انقلاب کا آغاز ہوچکاہے ۔ اُن کاکہناتھاکہ میری سیکیورٹی کی دس گاڑیوں سمیت لانگ مارچ کی پچیس ہزار گاڑیوں کو روک لیاگیاہے، اسلام آباد میں تیزاب سے بھرے کنٹینر کھڑے کر دیے گئے ہیں،خندقیں کھودی گئی ہیں تاہم لانگ مارچ کے لیے نکل رہے ہیں اور آئین کی بالادستی تک جاری رہے گا، انقلاب آکر رہے گا، یہ مارچ غریب عوام اور انسانی حقوق کا ہے۔اُنہوں نے بلوچستان حکومت کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ مارچ موجودہ حکومت کے خاتمے کا مارچ ہے اور اقتدار لاہور والے ہمیشہ محروم ہونے والے ہیں ۔اُنہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹرز نہ ڈریں اور لائسنس کے بغیر گاڑیاں لے آئیں ۔ذرائع کے مطابق لاہور کے مخصوص علاقوں شاہراہ قائداعظم ، راوی ، شاہدرہ ، ماڈل ٹاﺅن ، نیوکیمپس ، اچھرہ، گڑھی شاہو، نولکھا، مینار پاکستان اور امامیہ کالونی میں موبائل سروس بند کردی گئی ہے جبکہ لانگ مارچ کے راستے میں آنیوالے دیگر تمام علاقوں میں بھی موبائل سروس بند کیے جانے کا امکان ہے ۔دوسری طرف خیبرپختونخواہ کے ٹرانسپورٹرز نے بھی منہاج القرآن کے لانگ مارچ کے لیے گاڑیاں دینے سے انکار کردیاہے ۔ٹرانسپورٹرز کا کہناتھاکہ قیمتی گاڑیاں ہیں اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے رسک نہیں لے سکتے ۔

مزید : لاہور /Headlines