مےم اور مہر صاحب

مےم اور مہر صاحب
مےم اور مہر صاحب
کیپشن:   fiaz

  

مہر صاحب سے ہماری ملاقات کو زےادہ عرصہ نہےں گزرا ،لےکن لگتا ہے کہ وہ مدتوں سے ہمارے پرانے دوست ہےں ۔مہر صاحب شادی شدہ ہےں لےکن وہ ہمےشہ ےہ بات کہتے ہےں کہ شادی سے پہلے بھی ان کا شوق شادی کرناتھا اور شادی کے بعد بھی ان کا ےہی شوق بدستور قائم ہے ۔کچھ دن پہلے ہم مہر صاحب کی رفاقت مےں ۔۔۔۔اےک فائےو سٹار ہوٹل کی لابی سے گزر رہے تھے کہ سامنے ہوٹل کی لابی مےں کچھ انٹےک اشےا کے پاس اےک غےرملکی خاتون کھڑی نظر آئےں ۔ چٹی چمڑی والی خاتون تو مہر صاحب کی کمزوری ہے ۔۔۔مہر صاحب دل پھےنک نہےں ۔۔۔ معدے کے مرےض ہےں اور زےادہ تر سوچتے بھی معدے سے ہےں ۔خاتون کی طرف اس طرح لپکے جس طرح وہ بوفے مےں کھانوں پر ٹوٹ پڑتے ہےں ۔ہمارا اتنا ادب کےا کہ ہمےں آنکھوں سے اپنی خواہش کا اشارہ دے دےا اور انگرےزی بولتے ہوئے مےم کے پہلو مےں جاپہنچے ۔۔۔مہر صاحب ۔۔۔کی ےہ خوبی ہے کہ وہ جب غصے مےں ہوتے ہےں تو انگرےزی بولتے ہےں اور جب ۔۔۔پےار و محبت کی کےفےت طاری ہوتی ہے تو فر فر اےسی انگرےزی بولتے ہےں کہ انگرےز بھی ان کے سامنے گونگے بن جائےں ہم نے چونکہ ان کے ساتھ واپس گاڑی مےں آنا تھا ۔۔۔لہٰذا سامنے پڑے صوفے پر بےٹھ کر انتظار کرنے لگے ۔

ساتھ والے صوفے پر اےک غےرملکی براجمان تھے اور مےرے خےال مےں وہ اسی خاتون کے ساتھ تھے ۔وقت گزارنے کےلئے مےں نے ان سے ۔۔۔ہیلوھائے شروع کی تو انہوں نے اپنا نام جےمز بتاےا ۔ باتوں باتوں مےں ان سے پوچھا کہ انہےں ہمارا ملک کےسا لگا ؟لوگ کےسے لگے؟ ہماری رواےات ،ہماری ثقافت اورخاص طور پر انہوںنے ہمارے دےسی کھانوں کو کےسا پاےا؟غےر متوقع طور پر وہ صاحب ۔۔۔تھوڑے سے بڑبڑائے ۔۔۔ اور غصے سے بولے ۔۔۔شٹ ۔۔۔ بکواس ۔۔۔مہذب سمجھے جانے والے معاشرے کے اےک مہذب فرد سے اس طرح کے جملے ۔۔۔میرے ذہن کے درےچوں نے ان کو بالکل قبول نہ کےا اور مےں نے ٹوٹی پھوٹی انگرےزی مےں پھر سوال کےا ۔۔۔۔ جناب والا !! خےرےت تو ہے؟ لاہور پھر کر بھی دےکھا ہے ےا نہےں ؟ آخر اتنی بےزاری کی وجہ کےا ہے؟ پھر اس کے بعد جےمز جو انگلش مےں بولتے رہے ۔۔۔اس کا ترجمہ کچھ ےوں ہے ۔کہنے لگے ۔۔۔ ےہ کوئی شہر ہے۔۔ ۔ ےہاں کوئی لوگ ہےں کےا ےہ انسانوں کی بستی ہے؟ اپنی سڑکےں دےکھی ہےں !سڑکوں پر چلتی ہوئی گاڑےاں !موٹر بائےک !حتیٰ کہ پےدل چلنے والے لوگ! ےہ سڑکوں پر چلتے ہےں یا بھاگ رہے ہےں!

 اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کہا وہ نہ تو مجھے سننا چاہیے تھا اور نہ ہی لکھنا ۔۔۔!! لےکن مےں نے اُسے سنا بھی اور لکھ بھی رہا ہوں ۔زور سے کہنے لگے سڑکوں پر آپ کی گاڑےاں اور بندے” مےڈ ڈا گ“ ےعنی پاگل کتوں کی طرح بھاگ رہے ہےں ۔۔ہر آدمی سڑک کا مالک بنا ہوا ہے۔ ۔ہر شخص کی خواہش ہے کہ پچھلے والے کو کبھی آگے نہ گزرنے دوں ۔۔۔آگے آنے والے کو کچل کر رکھ دوں اور دائےں بائےں چلنے والوں کو گھسےٹ کر سڑک سے اٹھا کر دوکانوں کے اندر پھےنک دوں ۔گاڑےاں چلانے والے اےک دوسرے کو اس طرح گھورتے ہےںجےسے نسل در نسل اےک دوسرے کے دشمن ہوں۔ذرا سی غلطی پر اےک دوسرے کو اتنی گندی اور غلےظ گالےاں دےتے ہےں کہ سڑکےں پھٹ جانا چاہتی ہےں ،لیکن بات ےہاں تک نہےں ۔۔۔۔۔کئی جگہ تو باقاعدہ اےک دوسرے پر جسمانی طور پر حملہ آور ہوتے ہےں ۔ سر پھٹتے ہیں ۔۔۔ ٹانگیں اور بازو توڑے جاتے ہیں۔۔ےہ سڑکےں ہےں ےا مےدان جنگ ،ےہ راستے ہےں ےا اےک دوسرے کو روکنے کےلئے رکاوٹےں۔آپ کے ملک مےں تو کوئی بندہ کسی سے وعدہ کرکے ٹائم پر نہےں پہنچ سکتا ۔ آپ کی قوم کا کردار ۔۔۔سڑک پر چلنے والی ٹرےفک سے چھلک رہا ہے۔ جو اس بات کی دلےل ہے کہ اس قوم کانہ کوئی حال ہے ۔۔۔اور نہ ہی مستقبل ۔مےری اطلاع کے مطابق ان متحرک شاہراہوں پر ہر روز سےنکڑوں لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بےٹھتے ہےں اور ہزاروں افراد اپاہج بن جاتے ہےں ۔سڑکوں پر ٹرےفک رولز کی پاسداری کرنا تو آپ کے لوگ اپنی توہےن سمجھتے ہےں ۔کہنے لگے ےار اگر دنےامےں کہےں شےطان کا وجود ہے تو آپ کے ملک کی سڑکوں پر بھاگتا نظر آتا ہے۔

 موصوف نے اس سے بھی زےادہ سخت باتےں سنائےں جنہےں بےان کرنا غےرت ملی کے خلاف سمجھا جائے گا۔لےکن پتہ نہےں مجھے اس پر غصہ نہےں آ رہا تھا۔ مجھے لگا کہ وہ جوبھی بک رہا ہے ۔۔۔ کہہ صحےح رہا ہے ۔مےں نے مزےد سچائی سننے سے پہلے وہاں سے اٹھ جانا ہی غنےمت سمجھا اللہ بھلاکرے ۔۔۔مہر صاحب کا کہ وہ بھی اس وقت مےم سے رخصت ہونا چاہ رہے تھے کےونکہ انہےں بھی شاہد احساس ہو رہا تھا کہ مےم صاحبہ ان سے جان چھڑانا چاہتی ہےں اور پھر مہر صاحب نے اپنی آخری خواہش کے اظہار کے طور پر مےم سے مصافحہ کرنے کےلئے اپنا ہاتھ پھیلایا۔۔ ۔۔۔مےم نے مہر صاحب سے مصافحہ کےا ‘ تو مہر صاحب خوشی اور مسرت سے تقرےبا پاگل ہو رہے تھے اور ان کا جی چاہ رہا تھا کہ مےم کا نہےں ۔۔۔ تو کم از کم اپنا ہاتھ سو بار ضرور چومےں ۔۔۔اس کے بعد مےں اور مہر صاحب ان کے کٹھکارے مےں مال روڈ سے ہوتے ہوئے شملہ پہاڑی پہنچے تو ٹرےفک کا وہی حال بے ہنگم شور، گالےاں، مار دھاڑ حتیٰ کہ مجھے ہر وہ چےز نظر آ رہی تھی جس کے بارے مےں غےرملکی جےمز نامی شخص کی باتےں مےرے کانوں مےں سنسناہٹ پےدا کئے ہوئے تھےں ۔مےں نے بےزاری سے مہر کی طرف دےکھا اور کہا کہ ۔۔۔۔۔ےار جےمز ٹھےک کہہ رہا تھا ۔ اس ملک کی سڑکوں پر چلنے والوں کا کوئی حال نہےں ۔۔۔ےہ لا علاج ہو چکے ہےں ۔ہماری سڑکوں پر زندگی متحرک نہےں،بلکہ مفلوج ہوتی ہے،لےکن مہر صاحب نے مےری کسی بات کی پرواہ نہےں کی وہ اپنے وجود مےں مےم کے ہاتھ کا ”لمس “ ابھی تک محسوس کر رہے تھے ۔ کہنے لگے سر جی !۔۔۔مےم بہت پےاری تھی ۔۔۔ارد گرد کے ٹرےفک کے بے ہنگم شور کے باوجود مجھے مہر صاحب کا روےہ ۔۔۔اور ان کی ےہ بات ترو تازہ لگی اور بے اختےار مےرے منہ سے نکل گےا ۔۔۔مہر صاحب آپ بھی تو بہت پےارے ہےں ۔ ٭

مزید :

کالم -