ترکی کے حالات اور حکومت کا روّیہ

ترکی کے حالات اور حکومت کا روّیہ
ترکی کے حالات اور حکومت کا روّیہ
کیپشن:   aslam

  

آج کل ترکی کے حالات کچھ سازگارنہیں اور آئے دن مختلف نوعیت کی خبریں اخباروں اور الیکٹرانک میڈیا میں گردش کررہی ہیں ، خاص طور پر موجودہ ترک حکومت کے خلاف کرپشن،غبن، اقربا پروری، ناجائز کمیشن اور دیگر الزامات گھمبیر سے گھمبیر ہوتے جارہے ہیں۔ ترکی میں ان مخدوش حالات کے بہت سے اسباب اور وجوہات ہیں،جن کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے۔ ذیل میں مختلف پہلوﺅں سے ترکی کے موجودہ حالات ،ان کا پس منظر اور ا س سلسلے میں کی جانے والی کوششوں اور اقدامات پر روشنی ڈالی جارہی ہے تاکہ قارئین ترکی میں حالات کا صحیح اور درست ادراک کرسکیں۔

ترکی کی برسر اقتدار جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی یعنی اے کے پارٹی 2002ءسے برسر اقتدار ہے۔ اے کے پارٹی گزشتہ 12 سال سے بلا شرکت غیرے حکومت کرتی رہی ہے ۔ اس دوران چھوٹے چھوٹے معاملات ،کیسز اور مقدمے حکومت اپنی طاقت اور اثرو رسووخ سے زائل اورختم کرواتی رہی اور کوئی بڑا سکینڈل سامنے نہ آسکا۔ تاہم گزشتہ سال کی تفتیش اور حکومتی کرپشن کا سکینڈل منظر عام پر آجانے کی وجہ سے حکومت کے بارے میں شکوک و شبہات بڑھنے لگے حکومت نے ان کرپشن سکینڈلز کو دبانے کی کوشش کی ،لیکن وہ کافی حد تک میڈیا میں آگئے۔ اس سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔ خاص طور پر وزیر معاشیات ،وزیر ماحول اور وزیر داخلہ کے بیٹوں ، اقرباءاور دوستوں پر کرپشن ،کمیشن اور رشوت کے الزامات ثبوتوں کی ساتھ منظر عام پر آگئے تو اس سے حکومت پر بہت دباﺅ بڑھا اور اے کے پارٹی کی ساکھ بہت متاثر ہوئی۔

وزراءکے بچوں، اقرباءاور دوستوں پر رشوت اور کرپشن کے الزامات کے ثبوت منظر عام پر آنے کے بعد بالآخر وزیر تجارت، وزیر داخلہ اور وزیر ماحول کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا پڑا۔ کرپشن، رشوت اور کمیشن کے کیسوں کا دائرہ جب بڑھنے لگا تو حکومت مزید بدنام ہونے لگی اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے حکومت اور وزیراعظم رجب طیب اردگان نے پورے ملک کے تقریباً 2700 سے زائد ٹاپ پولیس آفیسروں اور ان کیسوں کو دیکھنے والی بیوروکریسی اور عدلیہ کے اعلی اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کرنا شروع کردیا اور ان کے تبادلے دیگر علاقوں اور شہروں میں کردیئے گئے، لیکن حالات سنگین سے سنگین تر ہوتے گئے اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ استنبول کے پراسیکیوٹر کے ہاتھ وزیر اعظم اردگان کے بیٹے بلال اردگان کے کرپشن سکینڈل کی فائلیں لگ گئیں اور کُھراوزیراعظم کے گھر تک جانے لگا تو وزیراعظم نے اسی رات اس پراسیکیوٹر کا تبادلہ کردیا اور کرپشن فائل اس سے واپس لے لی۔ عدلیہ کو وزارت قانون کے ماتحت کرنے کی کوششیں ہونے لگیں، اس سے ملک میں بے چینی اور انتشار پھیلنے لگا۔

 حکومت نے آزادانہ تفتیش، انکوائری اور عدلیہ کے ذریعے معاملات نمٹانے کے بجائے الٹا پولیس، عدلیہ بیوروکریسی، اور حکومتی سطح پر وسیع پیمانے پر تبادلے کرنا شروع کردیئے۔ کرپشن اور رشوت جیسے سنگین معاملات کی چھان بین کرنے والے افسروں کو نوکریوں سے برخاست کرناشروع کردیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے ان کرپشن اور رشوت سکینڈلوں کو حکومت کے خلاف منظر عام پر لانے کی ذمہ داری حزمت تحریک اوراس سے وابستہ لوگوں کے سر تھوپ دیا اور دعویٰ کیا کہ چونکہ حکومت حزمت تحریک کے ترکی میں پریپ سکول اور ادارے بند کرارہی ہے، اس لئے جواباً حزمت تحریک انتقامی طور پرکرپشن اور رشوت کے الزام حکومت پر لگا رہی ہے اور حزمت تحریک سے وابستہ میڈیا ان معاملات کو اچھال رہا ہے، تاہم حزمت تحریک کے نمائندوں اوراعلیٰ عہدیداروں نے ان الزمات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر ان الزامات کو رد کردیا۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت اپنے لوگوں کے خلاف مختلف سکینڈل منظر عام پرآجانے کے بعد مزید غلطیوں پر غلطیاں کررہی ہے اور بوکھلا ہٹ کا شکارہو رہی ہے ،اس لئے وہ دےگر قوتوں اور تنظےموں پر الزام لگاکر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔موجودہ کرپشن کے سکےنڈل بھی ماضی کے کےسوں کی طرح ہےں ۔درحقےقت موجودہ کرپشن کے کےس گزشتہ اےک دوسال سے جاری تفتےش اور تحقےق کا نتےجہ ہےں۔جو نہی ےہ کےس سامنے آئے، حکومت اور حکومتی سرپرستی مےں چلنے والے اورحماےت ےافتہ مےڈےانے بھی حزمت تحرےک کے خلاف لکھنا اور بولنا شروع کردےاتاکہ ان کےسوں کو متنازعہ بناکران کی گہرائی اور اہمےت کو کم کردےا جائے اور لوگوں کے دلوں مےں شک ڈال کر انہےں آپس کی لڑائی قرار دے دےا جائے، لےکن حقےقت اس کے برعکس ہے۔

جب 2003ءمیں عدلےہ اور فوج کے کچھ عناصر نے خفےہ طورپر برسرِ اقتدار پارٹی کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تو اس کا الزام بھی حزمت تحرےک پر لگانے کی کوشش کی گئی لےکن صاف شفاف انکوائری اور وقت نے ثابت کردےا کہ ےہ محض جھوٹ تھا اور ےہ حقےقت اور سچ سے کافی دورتھا، سچ یہ نکلا کہ فوج، عدلےہ اور مےڈےا کے کچھ نمائندے اے کے پارٹی کی حکومت کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ن پر ےہ الزام ثابت بھی ہوگےا اور بہت سے جرنےل ،جج اور صحافی اب تک جےلوں مےں ہےں اور ان پر الزام بھی ثابت ہوچکے ہےں اور حزمت تحرےک کی بے گناہی، انکوائری اور وقت نے ثابت کردی۔ آج بھی جب حکومت پر کرپشن ،اقرباد پروری ،غبن ،رشوت اور کمےشن کے الزام لگ رہے ہےں توحکومت اےک بار پھر ان معاملات مےں حزمت تحرےک کو پھنسانا چاہتی ہے اور بے بنےاد الزامات لگائے جارہے ہےں ۔

حزمت تحرےک اےک سماجی اور معاشرتی تحرےک ہے،اس کے پاس کوئی باقاعدہ پولےس ،فوج ےاعدلےہ نہےں ہے ،سارے پولےس آفےسر اور عدلےہ حکومت کے ماتحت ہےں ،ترکی کے سُپرےم بورڈ آف ججزاور پراسےکےوٹرز (Hsyk)کو ےہ اختےار حاصل ہے کہ وہ آزادانہ طور پر حکومت کے خلاف کسی بھی شکاےت کا ازالہ کرسکتی ہے اور حکومت کے خلاف کسی بھی کےس کو دےکھنے اورچلانے کا واضح اختےار اس کے پاس ہے ،ےہ اےک آزاد ادارہ ہے اور ےہ حزمت تحرےک کے ماتحت نہےں ہے اور نہ ہی حکومت کے زےر ساےہ،جب اس عدلےہ کے آزادادارے نے حکومت کے خلاف کرپشن اور رشوت کے کےسوں کا ٹرائل کےا توان ججوں پر الزام عائد کردےا گےا کہ ےہ حزمت تحرےک کے اکسانے اورکہنے کی وجہ سے حکومت کے خلاف کرپشن اور رشوت کے معاملات اچھال رہے ہےں ،تاہم حزمت تحرےک نے ان الزامات کو جھوٹ اور بے بنےاد قرار دےا اور کہا کہ عدلےہ ، اس کے جج اور پراسےکےوٹرز آزادہےں اور وہ ان کے ماتحت کام نہےں کر رہے ۔کوئی بھی سماجی ےامعاشرتی تحرےک عدلےہ کے ججوں کو حکومت کے خلاف نہےں ابھارسکتی حزمت تحرےک کے خلاف پولےس اورعدلےہ کو حکومت کے خلاف اکسانے اور ترغےب دےنے کے کوئی واضح ثبوت سامنے نہےں آسکے اور ےہ الزامات محض زبانی جمع خرچ ہےں ، نہ ہی کوئی ان الزامات کے ثبوت لے کر عدلےہ اور ججوں کے پاس گےا ہے ، صرف حزمت تحرےک کو بدنام کرنے اور اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے ےہ الزامات لگائے جارہے ہےں ۔

حکومت اپنے خلاف کرپشن اور رشوت کے لگائے گئے ان الزامات کو بہت مس ہےنڈل کر رہی ہے اور اسے اپنے خلاف سازش قرار دے کر وسےع پےمانے پر ملک مےں پولےس ،عدلےہ اور بےوروکرےسی مےں تبدےلےاں کررہی ہے ، جس سے مسئلہ اور بھی گھمبےر ہوتا جارہا ہے اور بےن الاقوامی سطح پر امرےکہ ،ےورپ اور آزاد مےڈےا مےں بھی آئے روزکرپشن اور رشوت کے سکینڈلوں کے چرچے سامنے آرہے ہےں اور حکومت کی گرفت مزےد کمزور ہوتی جارہی ہے، حتی کہ ترک عوام مےں بھی حکومت کے خلاف شدےد شک وشہہ ابھر رہا ہے کہ دال مےں کچھ کالا ضرور ہے۔جس کی وجہ سے حکومت پورے ملک کی انتظامی مشےنری ،عدلےہ اور پولےس کو تبدےل کررہی ہے۔انتہائی اےماندار ،قابل اور محنتی افسران اور ججوں کے تبادلے کئے جارہے ہےں اور عوام مےں ان فےصلوں سے مزےد بے چےنی پھےل رہی ہے ۔ترک حکومت کے خلاف آج کل کرپشن اور رشوت کے کےسوں کی تفتےش ہورہی ہے ۔حکومت کو ےہ واضح طور پر ےقےن دھائی کروانا ہوگی کہ وہ ملزموں کو انصاف کے کٹہرے مےں لاکر قرار واقعی سزا دے گی اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرے گی، ورنہ اس کا اپنا کردار جانبدار اور جابرانہ تصور ہوگا۔برسرِاقتدار پارٹی پر لازم اور فرض ہے کہ وہ عوام کے حقوق کی کماحقہ حفاظت کرے اور اپنا موقف انصاف اور سچ کے پلڑے مےں ڈالے ۔عوام نے انہےں اپنے حقوق کی حفاظت کا مےنڈےٹ دےا ہے حکومت کو تمام بنےادی حقوق کا خےال رکھناہوگا۔ ٭

مزید :

کالم -