مہنگائی پر قابو پانے کی ضرورت

مہنگائی پر قابو پانے کی ضرورت
مہنگائی پر قابو پانے کی ضرورت
کیپشن:   sofi

  

ایوب خاں پاکستان کے مضبوط ترین حکمران تھے جب انہوں نے مارشل لاءلگا کر حکومت کاکنٹرول سنبھالا تو اس وقت ایوب خاں کو بہت پذیرائی ملی تھی، لیکن حکومت کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے مخالفین میں اضافہ کرتے رہے ۔کافی سیاستدان ان کے حامی تھے ،لیکن انہوں نے سیاستدانوں کی اکثریت کو سیاست سے آﺅٹ کر دیا۔ایوب خاں نے مسلم فیملی لاءبھی نافذ کروا دیا جس کی وجہ سے علمائے کرام ، ترقی پسند اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی۔ اِن قوانین کو نافذ کرنے پر کچھ مذہبی حلقے ناراض ہوگئے۔ اس وقت بھی موجودہ حالت کی طرح ہر فرقے کے علماءاپنے اپنے فرقے کو ترجیح دیتے تھے۔ ایوب خاں کے مارشل لاءنے کچھ عرصے کے لئے ملک میں جمود پیدا کر دیا، خاموشی ہو گئی، کچھ عرصے کے بعد علماءاوربیگمات آمنے سامنے آگئے۔طلاق کا نوٹس دینا، دوسری شادی کے لئے پہلی بیوی سے اجازت اور وراثت کے چند معاملات نے ایوب خاں کو مذہبی طبقے کی حمایت سے محروم کر دیا۔ ایوب خاں کی معاشی اصلاحات نے ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول تو پیدا کر دیا ۔لیکن مزدوروں کے لئے بہت کم کام کیا گیا۔

1965ءکی جنگ اور تاشقند کے معاہدے سے ملک میں ایوب خاں کے خلاف فضا ہموار ہو گئی۔ چونکہ خوشحالی کے ثمرات اوپر ہی اوپر تھے ۔نیچے پہنچنے کا صرف پراپیگنڈہ تھا۔عوام چار آنے چینی مہنگی ہونے پر پریشان تھے۔ سیاستدانوں نے عوام کی پریشانی کو احتجاج میں تبدیل کر دیا۔ مضبوط حکمران ایوب خاں فوجی وردی میں نہیں تھے اور عوام کی حمایت بھی ختم ہو چکی تھی پریشان حال عوام سڑکوں پر نکل آئے اور عوام کو یہ بھی یاد دلایا گیا کہ صدارتی انتخابات میں دھاندلی کر کے محترمہ فاطمہ جناح کو ہرایا گیا تھا۔ اس طرح عوام میں ایوب خاں کے خلاف مزید نفرت پیدا ہو گئی۔ یوں چینی کی مہنگائی اور مینڈیٹ چرانے پر عوام زیادہ مشتعل ہو گئے ، ایک طرف کالجوں، یونیورسٹیوں کے طالب علم دوسری طرف کار خانوں، فیکٹریوں کے مزدور، تیسری طرف وکلاءکی تنظیمیں، اس طرح ان کی حمایت نے سیاستدانوں کو طاقتور بنا دیا۔ وہ سیاستدان جنہیں ایوب کے ایبڈو اور پراڈو جیسے قوانین نے سیاست سے کنارہ کش کر دیا تھا۔ وہ بھی اپنی توہین کا بدلہ لینے کے لئے میدان میں آ گئے۔ اس طرح ایوب کا دور ختم ہوا اور انہوں نے مارچ1969ءمیں تقریر کر کے خود ہی اپنی حکومت اور آئین کے خاتمے کا اعلان کیا۔

ایوب خاں وہ حکمران تھے جو عوام کی احتجاجی تحریک کے سبب ایوان سے اپنے خاندان میں چلے گئے۔ جیل جانے سے بچ گئے۔ اس کے بعد بھٹو بھی پاکستان کے مضبوط اور مقبول ترین حکمران تھے۔انہوں نے ملک کی بڑی بڑی فیکٹریوں، کارخانوں اور ملوں کو قومی تحویل میں لے کر ملکی معیشت کا پہیہ الٹا گھما دیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور جنگ کے اخراجات نے ویسے ہی مہنگائی میں اضافہ کر دیا تھا ۔بھٹو نے کارخانوں، فیکٹریوں اور کارخانوں کو قومی تحویل میں لے کر تاجر طبقے کو ناراض کر دیا تھا۔1977ءکے الیکشن میں دھاندلی نے بھٹو کے مخالفین کو ایک جگہ پر اکٹھا کر دیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما میاں طفیل محمد اور صلاح الدین پر زیادتی، ولی خاں وبلوچ رہنماﺅں پر مقدمات ،حیدر آباد ٹربیونل گویا ملک کے تمام طبقات کو ان کے خلاف اپنا اپنا غصہ نکالنے کا بہانہ مل گیا۔ صنعتوں کو قومی تحویل میں لے کر اور الیکشن میں دھاندلی کرنے کی وجہ سے ایجی ٹیشن کی زد میں آ گئے۔

 قومی اتحاد نے نعرہ لگایا کہ قیمتوں کو 1970ءکی سطح پر لائیںگے ، تحریک کو نظامِ مصطفی کا نعرہ دینے کے علاوہ قیمتوں کو سات سال پہلے والی پوزیشن پر لانے کے غیر منطقی نعرے نے بھٹو کی عوامی حکومت کو آخری گہرائی میں پھینک دیا۔میاں نوازشریف اور ان کی ٹیم کو پاکستان کے دو طاقتور حکمرانوں کے علاوہ پرویز مشرف کے خلاف وکلاءاور سول سوسائٹی کی تحریک پر بھی غور کرنا چاہئے، حالانکہ پرویزمشرف نے ڈالر کو ایک سطح پر برقرار رکھ کر معیشت کو مضبوط بنایا ،عوام کو مہنگائی سے بچائے رکھا اور ملک کی معیشت پر کوئی بوجھ بھی نہیں آنے دیا، لیکن اس کے باوجود چیف جسٹس کو برخاست کرنے کے جرم کے علاوہ لال مسجد، بگٹی کا کیس، ان کے کھاتے میں نظر آ رہے ہیں، میاں نوازشریف کی حکومت نے ابھی چند ماہ گزارے ہیں، جبکہ مینڈیٹ پانچ سال ہوتا ہے اب حکومت کرنے والوں کو خیال کرنا ہوگا کہ صدی بدل چکی ہے ،تیز رفتار میڈیا اور تیز رفتار نسل شاید اپنے حقوق سے محرومی اور اقتدار کی زیادتیاں زیادہ دیر برداشت نہ کر سکے۔ میاں نوازشریف سابقہ ادوار کی غلطیاں نہ دہرائیں، اب آرمی چیف بھی نئے آ چکے ہیں اور سابق چیف جسٹس بھی رُخصت ہوچکے ہیں۔دوسری طرف عوام مہنگائی، بجلی، گیس کے بلوں میں اضافے کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ پٹرول کی قیمت اور ڈالر کی وجہ سے پاکستانی معیشت شدید دباﺅ کا شکار ہے۔

موجودہ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ کوئی بھی سیاسی یا مذہبی لیڈر عوام کو ساتھ لے کر سڑک پر نہیں آ رہا ۔ ایوب خاں مذہبی معاملات میں مداخلت، قیمتوں پر قابو نہ پا سکنے پر اور مینڈیٹ چرانے کے سبب اقتدار سے محروم ہوئے۔ بھٹو تاجر طبقے کو ناراض کرنے، سیاستدانوں سے دشمنیاں ڈالنے، مہنگائی پر قابو پانے میں ناکامی پر، اور انتخابی دھاندلی پر اقتدار سے محروم کر دئیے گئے۔ میاں نوازشریف کی حکومت میں وہ تمام خرابیاں اور کمزوریاں موجود ہیں جو سابق حکمرانوں کو اقتدار سے محروم کر چکی ہیں ۔امن وامان اور دہشت گردی اضافی مشکلات درپیش ہیں۔ عوام کو بلدیاتی الیکشنوں سے محروم رکھا ہے ،وہ اپنے ووٹ بنک پر بھی شک و شبہات میں مبتلا ہیں ۔وہ عمران خاں کی احتجاجی تحریک کا شکار ہو سکتے ہیں ،یہ پازیٹو پوائنٹ ہے کہ ابھی تک نوازشریف کے خلاف کوئی تحریک یا احتجاج نہیں چل سکا تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود اگر میاں نوازشریف مہنگائی اور امن وامان کی خراب ہوتی صورتحال پر قابو پا لیں گے تو وہ پانچ سال پورے کر لیں گے ۔ ٭

مزید :

کالم -