قانون کا اللہ حافظ!

قانون کا اللہ حافظ!
قانون کا اللہ حافظ!
کیپشن:   naseem

  

کل رات سے عجیب قسم کے ڈپریشن نے گھیر رکھا ہے۔ یہ ٹی وی چینلوں والے بھی بعض اوقات ظلم ڈھا دیتے ہیں۔ کہنے کو وہ خبر دے رہے ہوتے ہیں ،مگر یہ نہیں سوچتے کہ اس خبر سے کتنے دلوں پر مایوسی اور نا امیدی کے بادل چھا جائیں گے۔ مَیں اپنے معمول کے مطابق خبر نامہ سننے کے لئے ٹی وی کے سامنے بیٹھا تو اچاک ہر چینل سے گولیوں کی تڑتڑاہٹ سننے کو ملی۔ پھر بتایا گیا کہ یہ فیصل آباد میں بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی گنتی کے موقع پر فائرنگ کا منظر ہے، ساتھ ہی ساتھ ان چینلوں نے عوام کو مزید مایوسی اور پژمردگی کا شکار کرنے کے لئے یہ کہنا بھی شروع کر دیا کہ پولیس سامنے کھڑی ہے، تماشا دیکھ رہی ہے ،مگر کسی کو یہ جرا¿ت نہیں ہو رہی کہ سر عام اسلحہ کی نمائش اور بے تحاشہ فائرنگ کرنے والے قانون کے اِن علمبرداروں کو روکے۔ یہ تک بتایا گیا کہ پنجاب کے آئی جی بھی فیصل آباد میں موجود ہیں۔ کل ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا تھا کہ دفعہ 144 کے تحت لائسنس یافتہ اسلحہ کی بھی نمائش نہیں کی جا سکے گی، کیونکہ عید میلاد النبی کے موقع پر حکومت امن و امان کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

اب کوئی بتائے کہ جب سر عام قانون شکنی ہو رہی ہو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہوں تو کوئی کیسے یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ ہم ایک پُر امن معاشرے میں ڈھل جائیں گے۔ اُس وقت ایسے ہی میرے ذہن میں یہ خیال کلبلانے لگا کہ چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی ،جنہیں وکلاءکی سیاست یا طاقت کی ضرورت نہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس قسم کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اگر اس فائرنگ کے واقعہ کا از خود نوٹس لیں اور آئی جی پنجاب کو طلب کر کے پوچھیں کہ جب سر عام لاقانونیت کا مظاہرہ ہو رہا تھا تو پولیس نے کارروائی کیوں نہیں کی؟....اوراگر اس وقت کارروائی نہیں کی تو بعد میں چینلوں پر چلنے والی فوٹیج کو بنیاد بنا کر فائرنگ کرنے والے افراد پر مقدمہ درج کیوں نہیں کیا؟ لیکن شاید میری یہ خام خیالی ہے، کوئی بھی اپنے محاذ کو کمزور نہیں کرنا چاہتا۔ سب اس نظریئے کو اپنا چکے ہیں کہ اپنا قبیلہ مضبوط رہنا چاہئے ،ملک کمزور ہوتا ہے تو بھلے ہوتا رہے۔ قانون کی عملداری کا عزم سبھی ظاہر کرتے ہیں ،مگر جب عملی مظاہرے کا موقع آتا ہے تو ہم سب بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔

مَیں اس نظریئے پر یقین رکھتا ہوں کہ جس روز پاکستان میں قانون کی صحیح معنوں میں عملداری قائم ہو گئی، پاکستان 90 فیصد مسائل سے نکل آئے گا۔ پاکستان کو تمیز بندہ و آقا نے اس حال تک پہنچایا ہے۔ کل مَیں سوشل میڈیا پر صدر ایوب خان کے زمانے میں امریکی خاتون اول جیکولین کینیڈی کے استقبال کی تصاویر دیکھ رہا تھا۔ لاہور کے مال روڈ پر اُن کی سواری ایسے گزر رہی تھی کہ انہوں نے سن روف گاڑی میں کھڑے ہو کر سڑک کے دو رویہ کھڑے لوگوں سے سلامی لی۔ صدر ایوب بھی اُن کے ساتھ تھے ،نہ کوئی ہٹو بچو اور نہ سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ۔ ایک پُر امن معاشرہ اور سیدھے سادے لوگ۔ یہ آخر ہوا کیا کہ ہم آسمان سے زمین پر آ گرے۔ ہمارا امن کس نے چھین لیا۔ معاشرہ جہنم کس نے بنا دیایقیناً اس میں کچھ بیرونی ہاتھ بھی ہوں گے، لیکن سب سے بڑا ہاتھ تو ہمارا ہے کہ جنہوںنے قانون کو بچوں کا کھیل بنا دیا۔ معاشرے تباہ ہی اس وقت ہوتے ہیں، جب اُن میں قانون کا خوف برقرار نہیں رہتا۔ چند فیصد بالا دست طبقوں نے پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر جب قانون قاعدے کی دھجیاں اڑانا شروع کیں تو پھر وہی ہوا جس سے ہر ذی شعور خوف کھاتاہے۔ پھر طاقت کی زبان رائج ہو گئی۔ پہلے اس طاقت کی کھینچا تانی، بالا دست طبقوں تک تھی ،پھر اس میں ادارے بھی شامل ہو گئے۔ ہر ایک اس خبط میں مبتلا ہو گیا کہ اس کی برتری ثابت ہونی چاہئے۔ قانون اور آئین کی من مانی تعبیروں کے ذریعے ایک ایسی نہ ختم ہونے والی جنگ شروع ہوئی کہ جو آج بھی اپنے منطقی انجام کی منتظر ہے۔ اس جنگ کاکوئی انجام تو ہوتا نظر نہیں آتا، البتہ معاشرے میں انارکی اپنے پورے عروج پر نظر آتی ہے۔

جس ملک میں قانون اور آئین شکنی کو جائز قرار دینے کے لئے نظریہ¿ ضرورت جیسے شرمناک راستے تلاش کئے گئے ہوں، وہاں اس ضرورت کو کون سمجھے گا کہ جو ملک کو جنگل زدہ بنانے کے لئے قانون کی مکمل عملداری کی شکل میں درکار ہے۔ ہمارے ہاںادھورے کام، ادھورے سچ اور ادھورے فیصلے ہی کئے جاتے رہے ہیں۔ مکمل سچ کوئی بولتا ہی نہیں، اسی لئے کوئی بھی بیل منڈھے نہیں چڑھتی۔ مثلاً آج کل قانون اور آئین کی بالا دستی کے لئے پرویز مشرف پر کیس چلانے کی ہیجان خیز مہم جاری ہے۔ یہ معاملہ اچھا خاصا متنازعہ بن گیا ہے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے، جس شخص نے بڑی آئین شکنی 12 اکتوبر 1999ءکو کی ہو ، اسے آپ ایک چھوٹی آئین شکنی پر قانون کی زد میں لانا چاہتے ہیں، ظاہر ہے یہ ادھورا سچ ہے۔ ایسا سچ کبھی بھی بار آور ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی سے انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ ایک خالصتاً قانونی معاملہ سیاسی شکل اختیار کر گیا ہے۔ منتخب نوعیت کا قانونی احتساب ہمیشہ تنازعات اور مشکلات پیدا کرتا ہے۔ یہی کچھ پرویزمشرف کے کیس میں بھی ہو رہا ہے۔

 دوسری طرف پرویز مشرف بھی خود کو قانون سے بالا تر ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ انہوں نے دل کی تکلیف کا سوانگ رچا کر ملک کے ایک قومی ادارے کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اُنہیں جو جنگ عدالتوں میں لڑنی چاہئے تھی، وہ اداروں کے ٹکراﺅ کی صورت میں لڑنا چاہتے ہیں ،پھر ایک بدعت انہوں نے یہ ڈال دی ہے کہ فوج کے سابق جرنیلوں اور افسروں کو اپنی پارٹی ثابت کر رہے ہیں۔اُن کے اجتماع سے ایک خطاب کر چکے ہیں اور اب لاہور میں دوسرا کرنا چاہتے تھے کہ ڈاکٹروں نے یا کسی اور نے روک دیا۔ کیا مضحکہ خیز صورتِ حال ہے۔ ایک طرف پرویز مشرف خود کو قومی لیڈر قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ اپنے سابق ادارے کے ملازمین میں پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاید وہ اس کے ذریعے یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ عسکری ادارہ اُن کے ساتھ ہے اور اُس کی حمایت کے باعث اب کسی میں یہ جرا¿ت نہیں ہونی چاہئے کہ اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

قانون کو بے بس کرنے یا قانون کے خود بے بس ہو جانے کا نوحہ کب تک پڑھا جاتا رہے گا۔ طالبان ہمارے نزدیک بہت بڑے قانون شکن ہیں لیکن ہمارے ہاں کس کس نے طالبان سٹائل اختیار نہیں کر رکھا۔ بالا دست طبقوں سے لے کر اشرافیہ اور مختلف اداروں تک ایک خاص سوچ موجود ہے۔ وہ سوچ کہ جو خود کو ہر قانون و ضابطے سے بالا تر سمجھتی ہے۔ کہایہ جا رہا ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے گا۔ مگر قانون تو موم کی ناک ہے۔ قاسم ضیاءکی بیٹی اگر قانون شکنی کرے تو شخصی ضمانت پر چند گھنٹوں میں باہر آ جاتی ہے، یہی کام کسی غریب کی بیٹی یا بیٹے سے سرزد ہو تو اُسے قانون کے خونخوار جبڑے اپنی گرفت سے نکلنے ہی نہیں دیتے۔ نیب کے چیئرمین نے اعلان تو کیا ہے کہ 3 سو ہائی پروفائل کیسوں میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی، مگر آنے والے دنوں میں سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا۔ جس طرح ایک نیا تعینات ہونے والا ایس ایچ اویہ بڑھک ضرور مارتا ہے کہ اُس کے علاقے میں قانون شکنوں اور مجرموں کا جینا دوبھر ہو جائے گا، اس طرح کی بڑھکیں ہمارے ہاں ہر سطح پر ماری جاتی ہیں۔ بڑھک مارنے والوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کی بڑھکوں میں کس حد تک کتنا اثر ہے؟ وہ جی حضوری کے اُن مقامات سے بخوی آگاہ ہوتے ہیں، جہاں قانون کے پر جلنے لگتے ہیں، کوئی یہ تسلیم کرے یا نہ کرے ،مگر حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی معاشرہ آج اگر زوال کی آخری حدوںکو چھو رہا ہے تو اس کا بنیادی سبب یہی ہے کہ ہم نے قانون کو اپنے ملک سے دیس نکالا دے رکھا ہے۔ ہمارے ہاں قانون گروہوں، طبقتوں، جماعتوں اور محکموں کے تابع ہے، حالانکہ اُسے اُن پر حاوی ہونا چاہئے۔ قانون جب بالا دست کی بجائے زیردست ہو جائے تو پھر جنگل زدہ معاشرے کو جنم دیتا ہے۔ جس کا آج ہم شکار ہیں۔

بات شروع ہوئی تھی فیصل آباد میں وکلاءکی طرف سے اندھا دھند اور وحشیانہ انداز میں کی جانے والی فائرنگ سے....یہ واقعہ اس لئے بہت زیادہ دکھ اور تکلیف کا باعث بنا کہ قانون کے رکھوالوں نے اپنے ہی منصب کی توہین کی۔ کیا یہ جشن مہذب انداز سے نہیں منایا جا سکتا تھا۔ یقیناً فائرنگ کرنے والے وکلاءزیادہ نہیں تھے، مگر اُنہیں کسی نے روکا کیوں نہیں، یا وہ خود یہ کیوں بھول گئے کہ اگر وہ بھی اندھا دھند فائرنگ کر کے فتح کا جشن مناتے ہیں تو اُن میں اور معاشرے کے جاہل و قانون شکن لوگوں میں کیا فرق رہ جائے گا؟ سوچنے کے لئے اس ملک میں بہت سا مواد اور اسباب موجود ہیں ،لیکن کسی کو سوچنے کی فکر نہیں ،کیونکہ یہاں سب کچھ طاقت کی زبان میں سمجھنے اور بولنے کی روایت پڑ چکی ہے اور اس روایت کی موجودگی میں کوئی دلیل ،کوئی مثبت سوچ پروان نہیں چڑھ سکتی۔  ٭

مزید :

کالم -