چودھری رحمت علی:چند یادیں، چند تاثرات

چودھری رحمت علی:چند یادیں، چند تاثرات
 چودھری رحمت علی:چند یادیں، چند تاثرات
کیپشن:   dr

  

چودھری صاحب لاہور کے ایچی سن کالج میں جونیئر ہاﺅس ماسٹر تھے۔ جب پہلی بار مَیں نے انہیں دیکھا تھا۔ لمبا قد، بھرا ہوا بدن، بلند آواز، وہ میرے عم زاد بھائی کے پرانے کلاس فیلو اور دوست تھے اور انہی کے ساتھ گاہے گاہے ہمارے یہاں آتے تھے، کچھ عرصے بعد انہوں نے آنا بند کر دیا۔ تو مَیں نے بھائی صاحب سے پوچھاتو معلوم ہوا چودھری صاحب ضلع ڈیرہ غازی خان میں نواب مزاری کے پرائیویٹ سیکرٹری ہو گئے ہیں۔ نواب صاحب کے دیوانی اور فوجداری مقدمات چلتے رہتے تھے اور چودھری صاحب کا بیشتر وقت ان مقدمات کی پیروی میں صرف ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہائی کورٹ میں اپیل دائرکرنا تھی۔ ملک برکت علی مرحوم کو انہوں نے وکیل کیا تھا، لیکن فیس کے پورے پیسے نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر یار محمد خان مرحوم نے ان کی کچھ مدد کی۔ یہیں سے چودھری صاحب اور ڈاکٹر کی دوستی شروع ہوئی۔

1931ءمیں انہیں یکایک خیال ہوا کہ انگلستان جا کر بیرسٹر بننا چاہئے۔ جولائی یا اگست کا مہینہ تھا۔ ڈاکٹر یار محمد خاں مرحوم نے ان کے اعزاز میں لاہور کے مشہور ریسٹوران لورنیگ میں ایک الوداعی پارٹی دی اور دعوتی کارڈ چھپوا کر احباب کو بھیجے، مجھے بھی دعوت نامہ موصول ہوا۔ لورینگ مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ چودھری صاحب نے تقریر کی کہ مَیں بیرسٹری کی تعلیم کے لئے لندن جا رہا ہوں اور واپس آ کر پبلک لائف میں حصہ لوں گا۔ میرے لئے دُعا کیجئے۔ تمام مہمانوں نے ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگی۔اس کے بعد چودھری صاحب کا ذکر کبھی سننے میں نہیں آیا۔ پھر اچانک میرے والد مرحوم کو انگلستان سے انگریزی کا ایک پمفلٹ موصول ہوا، جس پر ہندوستان کا نقشہ بنا ہوا تھا اور شمال مغربی علاقے پر سبز رنگ پھیر کر لفظ پاکستان لکھا تھا۔ ایک نئی چیز سمجھ کر ہم نے بڑے شوق سے اس کا مطالعہ کیا۔ معلوم ہوا کہ یہ پمفلٹ چودھری رحمت علی نے بھیجا ہے، جنہوں نے کیمبرج سے ایک تحریک چلائی ہے کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ، بلوچستان اور کشمیر کو ملا کر ایک نئی مملکت قائم کی جائے۔ نقشے کے ساتھ لفظ پاکستان کی وجہ تسمیہ بیان کی گئی تھی اور مسلمانوں کو ہندوﺅں سے علیحدہ قوم قرار دے کر اُن کے لئے ایک قومی وطن کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اِسی قسم کی تجویز علامہ اقبالؒ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس الٰہ آباد کی صدارت کرتے ہوئے دسمبر 1930ءمیں پیش تھی۔ چودھری صاحب نے اس تجویز کو تفصیل سے بیان کیا تھا۔حرف پ سے مراد پنجاب، الف سے مراد افغان(صوبہ سرحد) ک سے مراد کشمیرس سے مراد سندھ اور تان سے مراد بلوچستان....کچھ عرصے بعد چودھری صاحب نے اس سکیم کو مزید وسعت دی۔ بنگال اور آسام کو متحد کر کے بانگ اسلام کا نام دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ بھی مسلمانوں کا قومی وطن ہو گا۔ پھر کچھ مدت بعد انہوں نے برعظیم ہند کے ان مسلمانوں کے لئے بھی جداگانہ قومی مملکتوں کا دعویٰ کیا، جو اپنے اپنے علاقوں میں اقلیت کی حیثیت سے آباد تھے۔ مثلاً حیدر آباد کو ایک الگ مملکت قرار دے کر عثمانستان نام رکھا۔ سی پی بندیکھنڈ، مالوہ، بہار، اڑیسہ، راجستھان، بمبئی ،مدراس، مغربی اور مشرقی لنکا کی مسلمان اقلیتوں کے لئے جداگانہ مملکتوں کا مطالبہ کیا اور ان کے بالترتیب یہ نام تجویز کئے۔ صدیقستان، فاروقستان، معینستان، ماپلستان، صافستان، ناصرستان ....چودھری صاحب کی یہ سکیم قابل ِ عمل تھی یا نہیں، اس سے بحث نہیں، لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ وہ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو خواہ اقلیتی صوبوں میں آباد تھے یا اکثریتی صوبوں میں ،غیر مسلموں کی بالادستی سے آزادی دِلوانا چاہتے ہیں۔

کیمبرج میں حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ مہم جاری رکھی۔ خواجہ عبدالرحیم، پیر احسن الدین، محمد اسلم خٹک، شیخ محمد صادق وغیرہ چند نوجوان جو بغرض ِ تعلیم انگلستان میں مقیم تھے، اس کام میں چودھری صاحب کے شریک و سہیم تھے۔ گول میز کانفرنس اور جائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جو مسلمان نمائندے ، ہندوستان سے لندن جاتے تھے، چودھری صاحب اُن کے سامنے اپنی سکیم پیش کرتے تھے، لیکن وقت اور موقع محل ایسا تھا کہ مسلمان اکابر بن میں سے کوئی شخص چودھری صاحب کا ہم خیال نہ بن سکا۔ اُس وقت ہندوستان کے لئے ایک فیڈریشن کے قیام کی کوششیں ہو رہی تھیں۔چودھری صاحب کی زندگی جملہ تکلفات اور عیش و تنعم کے سامانوں سے بے نیاز تھی، دو کمروں میں وہ رہتے تھے۔ ایک کمرہ لکھنے پڑھنے اور دفتر کے کام آتا تھا۔ دوسرا خواب گاہ تھا۔ مارچ1940ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس لاہور میں ہوا تو چودھری صاحب کراچی میں سر عبداللہ ہارون کے ہاں مقیم تھے۔ بعض لوگوں نے کوشش کی کہ وہ بھی لاہور تشریف لا کر اجلاس میں شرکت فرمائیں، لیکن وہ نہ مانے۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد انہیں چاہئے تھا کہ ہندوستان آ کر تحریک میں شامل ہوتے، لیکن وہ بدستور کیمبرج میںمقیم رہے۔

انگلستان میں بھی ان کا ربط و ضبط بہت کم لوگوں سے تھا۔ تحریک ِ پاکستان کے حامیوں نے جب لندن، مانچسٹر، کارڈف وغیرہ بڑے بڑے شہروں میں جلسے منعقد کرنے شروع کئے تو چودھری صاحب ان جلسوں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ اس اکل کھرے پن کی وجہ غالباً ان کی انا کا ضرورت سے بڑا ہوا احساس تھا۔پاکستان بنا تو 1948ءمیں لاہور تشریف لائے اور ڈاکٹر یار محمد خان کے مکان پر ٹھہرے۔ مَیں ملنے گیا تو فوراً پہچان لیا، حالانکہ سترہ اٹھارہ سال کے بعد ملاقات ہوئی، تھی پہلے ڈاڑھی منڈاتے تھے۔ اب چہرے پر خوبصورت گھنی ڈاڑھی بھی تھی۔ میرے والد مرحوم کے انتقال کو سات سال گزر چکے تھے۔ چودھری صاحب نے پہلے ان کا ذکر کیا اور ہاتھ اُٹھا کر فاتحہ پڑھی، مَیں نے عرض کیا کہ اب یہیں رہ جایئے اور قوم کی رہنمائی کیجئے۔کہنے لگے انگریز کے زمانے میں جب مَیں ولایت سے دو ایک بار ہندوستان آیا تھا، تو پولیس میری نگرانی نہیں کرتی تھی۔ اب یہ حالت ہے کہ تمہاری حکومت نے سی آئی ڈی کے دو آدمی میرے پیچھے لگا رکھے ہیں، جو ہر لمحہ میری آمدورفت پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں۔

یہ واقعہ ہے کہ ڈاکٹر یار محمد خاں مرحوم کے مکان سے باہر سفید کپڑوں میں سی آئی ڈی کے آدمی بیٹھے تھے۔ نہیں معلوم یہ اقدام پنجاب کی حکومت نے کیا تھا یا پاکستان کے وزیراعظم کے ایماءپر ہوا تھا۔ چودھری صاحب سخت مغموم اور افسردہ تھے۔ ان کے احباب کو بھی حکومت کی اس حرکت پر افسوس تھا۔مَیں نے عرض کیاکہ آپ حکومت کی پرواہ نہ کیجئے، وہ تو انہی ہتھکنڈوں سے قائم ہے۔ آپ کا اصلی گھر تو لوگوں کے دلوں میں ہے۔ میرے بار بار سمجھانے کے بعد وہ کسی قدر قائل تو ضرور ہوئے، لیکن پھر کہنے لگے، میری لائبریری کیمبرج میں پڑی ہے۔ اسے یہاں لانے کے لئے ایک بار تو مجھے انگلستان ضرور جانا پڑے گا....بات یہ ہے کہ تقسیم پنجاب کا چودھری صاحب کو سخت صدمہ تھا۔ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں پر جو قیامت ِ صغریٰ ٹوٹی۔ اس کی تمام تر ذمہ داری چودھری صاحب کے نزدیک مسلم لیگ کی لیڈر شپ پر تھی۔ انہوں نے انگلستان ہی سے ایک پمفلٹ شائع کیا تھا، جس میں پنجاب کی تقسیم کی انتہائی مذمت کر کے یہ کٹا پھٹا پاکستان قبول کرنے پر مسلم لیگ کی لیڈر شپ کو سخت الفاظ میں مطعون کیا تھا۔ حکومت ِ پاکستان کے ان سے برہم ہونے کا سبب غالباً یہی پمفلٹ تھا۔

واپس انگلستان جا کر وہ مشکل سے سال بھر زندہ رہے اور21 فروری1950ءکو انتہائی دل شکستگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔جن لوگوں نے ان کو اس زمانے میں دیکھا تھا،ان کا بیان ہے کہ وہ خلوث نشین ہو گئے تھے، ملنا جلنا بند کر دیا تھا، تاہم انہیں یقین تھا کہ مسلمان جیسی زندہ اور فعال قوم خاموش نہیں بیٹھے گی اور ایک روز اس لیڈر شپ کا تختہ الٹ کر رہے گی۔1957ءمیں اکرام اللہ صاحب جب یہاں پاکستان کے ہائی کمشنر تھے۔14اگست کی تاریخ قریب آئی تو انہوں نے ایک روز مجھے یاد فرمایا۔ کہنے لگے ارادہ ہے14اگست کو کیمبرج چلیں اور چودھری صاحب کی قبر پر پھولوں کے ہار چڑھائیں۔ مَیں نے عرض کیا کہ ضرور چلئے، مَیں حاضر ہوں۔ فرمایا:آپ نے تو ان کی قبر دیکھی ہو گی۔ عرض کیا۔ ایک بار عمانویل کالج کے ماسٹر ویڈر برن صاحب کی رہنمائی میں اُن کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے حاضر ہوا تھا۔ تلاش کر لیں گے۔14اگست کو مسٹر اکرام اللہ، مسٹر اے ڈی اظہر اور راقم التحریر موٹر میں کیمبرج گئے اور ویڈر برن صاحب کی رہنمائی میں چودھری صاحب کی قبر تلاش کی۔ اکرام اللہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ پھولوں کے ہار کے ساتھ کوئی موزوں شعر بھی لکھ دیجئے۔ جلدی میں غالب کے دو شعر یاد آئے، جو مَیں نے کاغذ پر لکھ دیئے۔ ایک تو یہ تھا:

زمن بجرمِ تپیدن کنارہ می کردی

بیا بخاکِ من آز میدم بنگر

دوسرا یہ تھا:

وہ بادہ¿ شبانہ کی سرمستیاں کہاں

اُٹھئے بس اب کہ لذِت خواب سحر گئی،

اکرام اللہ صاحب، اظہر صاحب اور خاکسار قبر کے پاس خاموش کھڑے تھے۔ فاتحہ پڑھ چکے تو ماسٹر ویڈر برن صاحب دیر تک چودھری صاحب کی زندگی کے آخری ایام کی باتیں سناتے رہے کہ کس قدر افسردہ، غمگین اور پریشان رہتے تھے۔ کہنے لگے وفات کے وقت ایک پیسہ اُن کے پاس نہیں تھا۔ اُن کے کفن دفن اور قبر پر ”100پونڈ خرچ ہوئے جو عمانویل کالج نے ادا کئے تھے“۔ مَیں نے کہا: یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی رہنمائی کروڑ پتی سیٹھوں نے کبھی نہیں کی،نہ ان لوگوں نے کی ہے جو متروکہ جائیدادیں الاٹ کراتے اور حکومت سے در آمد و برآمد کے لائسنس لے کر بلیک مارکیٹ میں بیچتے ہیں:

یہ شہادت گہ اُلفت میں قدم رکھنا ہے

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا

چودھری صاحب نے بطیب ِ خاطر اس شہادت گہ ِ الفت میں قدم رکھا اور اپنے جسم و جاں کا گراں بہا تحفہ قوم کی خدمت میں پیش کر دیا۔دو ایک سال ہوئے پاکستان میں کچھ تحریک اُٹھی تھی کہ چودھری صاحب کے جسدِ مبارک کو کیمبرج سے لاہور لا کر کسی موزوں مقام پر دفن کیا جائے، لیکن ایک شخص نے جسے چودھری سے قیامِ انگلستان کے زمانے سے خدا واسطے کا بغض ہے، اس کی تجویز کی بلا وجہ مخالفت کی۔زندہ قومیں اپنے رہنماﺅں اور لیڈروں کی قدر کیا کرتی ہیں۔ سید جمال الدین افغانی کے تابوت کو 80سال بعد اہل ِ افغانستان نے بصد عزت و احترام استنبول سے لا کر کابل میں دفن کیا تھا۔ امان اللہ خان سابق بادشاہ افغانستان اور کابل کے موجودہ شاہی خاندان کے تعلقات کشیدہ تھے، لیکن جب امان اللہ خان کا جلاوطنی میں انتقال ہوا، تو اعلیٰ حضرت ظاہر شاہ نے فوراً اپنا طیارہ روم بھیج کر اُن کی میت کابل منگوائی اور سرزمین ِ وطن میں دفن کی۔چودھری صاحب کی زندگی میں تو ہم ان کی قدر نہ کر سکے، لیکن پاکستان میں انہیں قبر کی جگہ تو ضرور ملنی چاہئے۔  ٭

مزید :

کالم -