دھرتی پہ راج کرتا ہے دھن دیوتا

دھرتی پہ راج کرتا ہے دھن دیوتا

  

نواب لیاقت علی خان سیاست کے میدان میں ایسا گوہر نایاب ہیں، جو نظریاتی سیاست کی سیپی میں پرورش پاتے ہیں اور اس شان بان سے وقت گزارتے ہیں کہ جہد مسلسل کو اپنا شعار بناتے ہیں،پاکستان کی سیاست کی وادیءپُرخار میں لہولہان ہوتے ہیں،قربانی کے اعلیٰ معیار قائم کرتے ہیں اور اس راہ میں ایثار اور قربانی کے کسی مرحلے میں جان بچانے کی خاطر پہلو نہیں بدلتے۔اسی سبب سے ان کے بدترین سیاسی مخالف بھی ان کا احترام کرنے پر مجبورہوتے ہیں۔صلے اور ستائش کی تمنا سے بے نیاز اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ایسے بے طلب لوگ اب ڈھونڈے سے بھی کہاں ملتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ایک دشواری یہ بھی ہوتی ہے کہ تنہا اپنی ذات کو اپنے دامن غیر آلود کو بچا کر احتیاط سے چلنا نہیں ہوتا، بلکہ ان کے کندھوں پر پشتوں کی نیک نامی کا بوجھ بھی لدا ہوتا ہے، صورت کچھ یوں بنتی ہے!

ذرا قدم جو کہیں جادئہ وفا سے ہٹا

ہر ایک ذرہ پکارا کہ دیکھتا ہوں مَیں

یہ چیز انہیں ڈگمگانے نہیں دیتی۔نسلوں کی کمائی ہوئی آبرو کو بچانے اور اپنے نظریے پر استقامت سے کھڑے رہنا ان جیسوں کی مجبوری بھی ہوتی ہے اور عادت ثانیہ بھی کہ وہ کسی ذاتی مفادیا حرص و ہوس پر اس آبرو اور نیک نامی کو قربان نہیں کر سکتے جو انہیں اپنے پرکھوں سے ورثے میں ملی ہوتی ہے۔کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ اس میں اضافہ ہو اور اگر ایسا ممکن ہو تو نسبتوں کو ملحوظ رکھنے والے اس امر کا اہتمام لازماً کرتے ہیں۔دستار کسی طور پر محفوظ رہے،جان تو آنی جانی ہے۔مال، دولت، زمین جائیداد یہ تو سب انسان ایک دن چھوڑ جاتا ہے، فقط اعمال و کردار رہ جاتا ہے۔سو نواب لیاقت علی خان نے بھی سیاست کی وادیءپُرخار میں زندگی کے مہ و سال احتیاط کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر گزارے کہ ان کے والد گرمی کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قربت کا جو اعزاز حاصل تھا، اس میں اضافے کی کوئی صورت نہ بھی ہو تو بھی اس آبگینے کو ٹھیس لگنے سے ہرصورت میں بچایا جائے۔گو اس دور میں جب نام نسب زندگی کے کسی شعبے میں ترجیح اول نہیں،ایسے لوگوں کا دم غنیمت ہے۔وہ کچھ بھی کہہ رہے ہوں،کچھ بھی چاہ رہے ہوں، مگر اپنے نظریے اور عقیدے کوجنس بازار نہیں بننے دیتے۔یقینا دوسرے شہروں میں بھی ایسے منتخب روزگار ہوں گے، جن کی تردامنیسے کسی کے وضو کاسامان ہوتا ہو، مگر اس دور میں یہ کام آسان نہیں۔دور حاضر میں عہدے اور منصب کے حصول کا واحد ذریعہ مال و دولت دنیایا رشتہ و پیوند ہی ہے:

دھیان والے بھٹکتے ہیں صحراﺅں میں

راج کرتا ہے دھرتی پہ دھن دیوتا

سو کسی سیاسی جماعت کے اجتماع میں چلے جائیں، یوں لگے گا کہ غلطی سے ملبوسات کی نمائش میں آ گئے۔پیر ہوں، فقیر ہوں، درویشیوں کے گدی نشین ہوں، مغربی لباس کے پورے اجزا گردن سے پاﺅںتک نظر آئیں گے اور جب سے پارلیمنٹ کے چھوٹے بڑے ایوانوں میں خواتین کے ہجوم میں اضافہ ہوا ہے تو کچھ نہ پوچھئے۔قومی سطح پر ایوان بالا ہو یا ایوان زیریں یا صوبوں کے قانون ساز ادارے، فیشن پریڈ کا منظر پیش کرتے ہیں ۔ ہماری ایک وزیر خارجہ ہندوستان مذاکرات کرنے اس شان سے گئیں کہ سارے لالے اور ان کی دیویاں دنگ رہ گئیں ۔سنتے ہیں کہ دشمنوں کی حیرانگی تاحال کم نہیں ہوئی۔شاہ رخ خان نے بھی جب محترمہ کے حسن کی تعریف کی تو قریب بیٹھے ان کے شوہر کی عقل حیران رہ گئی۔خدا جانے دشمنوں کو اس کیفیت میں دیکھ کر محترمہ نے کشمیر کا مطالبہ کیوں نہ کیا۔کیا خبر کوئی چپکے سے نظر بچا کر ان کے ہینڈ بیگ میں کشمیر ڈال ہی دیتا۔

بات ہو رہی تھی نواب لیاقت علی خان کی، ان کی سادگی و پرکاری کی ،اپنے شہر شجاع آباد سے لازوال محبت کی اور اس سے بڑھ کر سچی بات بے دھڑک کہنے کی عادت کی۔ یہ نہیں کہ دوسرے سیاست دانوں کے دامن ایسی خوبیوں سے خالی ہیں، بس ایک ایک دانہ ہی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا ہے، مثلاً مسلم لیگ(ن) کے ایم این اے سید جاوید علی شاہ کی سادگی، دیانتداری اور صاف گوئی کی قسم کھائی جا سکتی ہے اور کیا اپنے بزرگ سیاست دان رانا تاج احمد نون نے اپنے آبائی گاﺅں بستی مٹھو سے اسلام آباد تک، یونین کونسل سے لے کر وفاقی پارلیمنٹ تک اپنی غیر معمولی ذہانت اور امور مملکت سے آگہی کے جھنڈے نہیں گاڑے، مگر قارئین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ رانا تاج نون کی کوئی اولاد نہیں، میاں بیوی کا یہ جوڑا تنہائی کی زندگی بسر کررہا ہے۔رانا تاج احمد نون تو اب اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے ملنے والوں کی شناخت بھی نہیں کر سکتے، بس زندگی کے سانس پورے کررہے ہیں،اپنی تمام جائیداد اور مال و دولت سب کچھ سیاست پر قربان کردیا۔ذوالفقار علی بھٹو کے قابل اعتماد دوست رانا تاج احمد نون کو بے نظیر بھٹو انکل کہتی تھیں۔ان دونوں محترم شخصیتوں کا مفصل تذکرہ قرض رہا۔ابھی یہ بتانا مقصود ہے کہ آج نواب لیاقت علی خان کیوں یاد آئے؟وہ اس لئے کہ نواب لیاقت علی خان حالیہ انتخابات سے قبل کینیڈا چلے گئے تھے،جہاں ان کی فیملی مستقبل مقیم ہے۔انہوں نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا، گزشتہ دنوں نواب لیاقت علی خان کینیڈا سے وطن واپس آ چکے ہیں اور روزانہ ان کے ڈیرے مکی چوکی والا شجاع آباد پر لوگوں کی بھاری تعداد موجود ہوتی ہے۔

بلاشبہ نواب لیاقت علی خان جو بیورو کریٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور شجاع آباد کے عوام ان کا بہت احترام کرتے ہیں،کافی لوگوں کا اصرار ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیں، تاہم انہوں نے میری موجودگی میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔جہاں تک مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر تنقید اور کارکردگی میں سست رفتاری کی شکایت کا تعلق ہے ، اس کا جواب حکومت کے ترجمان کا کام ہے اور وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید جواب بھی دیتے ہیں۔ یوں بھی نواب لیاقت علی خان ایک ایسی جماعت سے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رہے جو ابھی تک پانچ سالہ اقتدار کے بخار سے نجات حاصل نہیں کر پائی۔ان کا حق ہے کہ مخالفوں کی حکومت کے اعمال پر کڑی نظر رکھیں۔اسے ہر کام عجلت میں کرنے پر اکسائیں۔نواب لیاقت علی خان بڑے افسوس کے ساتھ امریکہ بادشاہ کا ذکر کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ماضی سے اب تک یہ پاکستانی حکومتوں کا حوصلہ ہے کہ وہ ہر امریکی دباﺅ اور دھمکی کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیتی ہیں۔ان کے لئے ایسا کرنا مشکل بھی نہیں، کیونکہ امداد اور قرضہ ملے یا رُکے، اس کا براہ راست اثر عوام ہی پر پڑتا ہے۔مقتدر و متمول طبقے تو ہر صورت میں فائدے میں ہی رہتے ہیں۔

نواب لیاقت نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے نام پر پاکستان کو جو کچھ ملتا ہے۔ اس سے کئی گنا زیادہ ہمارا نقصان ہو رہا ہے۔بجلی یا دیگر اشیائے صرف کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو سرکاری خزانے میں ہونے والی اضافی آمدنی بھی بالا ہی بالا بندربانٹ کی نذر ہو جاتی ہے۔عام شہریوں کو اضافی نرخوں اور بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کو بھگتنے کے باوجود کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، ورنہ چھیاسٹھ سال کے دوران لئے جانے والے قرضوں اور امداد کے کچھ اور بھی تو مثبت اثرات عام آدمی کی زندگی میں محسوس ہوتے۔موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی حسب روایت قوم کو سنہرے خواب دکھا رہے ہیں کہ حکومت کی بہتر اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک ترقی و خوشحالی سے جلد ہی ہمکنار ہوگا۔نواب لیاقت علی خان کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ وہ دور کب آئے گا؟یہ کسی کو معلوم نہیں۔پاکستانی عوام البتہ یہ بات جانتے ہیں کہ وزیرخزانہ اپنے دور میں بھی مہنگائی بڑھنے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کی حکومت اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے مہنگائی میں اضافے کو روکنے میں کامیاب نہ ہوئی تو کم از کم اچھی اقتصادی پالیسیوںکے ذریعے اسے روک تو سکتی تھی۔ایک آسان راستہ یہ ہے کہ حکومتی ارکان عوامی نمائندے سیاسی رہنما اور متمول طبقے کے اعلیٰ افراد ملک و قوم کی خاطر ایثار و قربانی کا مظاہرہ کریں۔وہ فوری طور پر سوٹ بوٹ ،چمکتی دمکتی گاڑیوں، بڑی بڑی عمارتوں،کوٹھیوں اور بنگلوں سے باہر آکر سادگی کے کلچر کو فروغ دیں۔مسلم لیگ(ن) کے برسراقتدار آتے ہی ملک کے غریب و بے بس عوام یہ دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے کہ کل تک اس جماعت کے جو رہنما قومی لباس شیروانی ،شلوار قمیض اور واسکٹ میں نظر آتے تھے ،اب وہ ہر جگہ سوٹ بوٹ اورٹائی میں جکڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ گویا ان کے بغیر وہ خود کو حکمرانی کا اہل ہی نہیں سمجھتے۔

امریکہ اور اس کے زیر اثر عالمی مالیاتی ادارے ان ہی طبقوں کو ڈرا دھمکا کر اور لالچ دے کر اپنی قوم کے لوگوں کو مسلسل دبائے چلے جانے کا کام لیتے ہیں۔ملک میں تماشا وہ نہیں جو ان دنوں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان پارلیمنٹ میں نظر آ رہا ہے ،بلکہ اصل تماشا وہ ہے جو سیاست دان اور بیورو کریسی کے ارکان چھیاسٹھ برسوں سے غریب عوام کے سامنے لگائے ہوئے ہیں اور وہ بے بس تماشائی بنے ہوئے ہیں۔بلاشبہ نواب لیاقت علی خان پارلیمانی روایات سے کامل آگہی رکھتے ہیں۔گفتگو کے سب قرینے بھی جانتے ہیں، کبھی کبھی ایوان بالا میں آپ کے جذبے بے پناہ ہو جاتے تھے، مگر اپنی حدود میں رہنے والا نواب لیاقت حدود کی پامالی پر آتا تو بھی اچھا لگتا۔پاسبان عقل کو ساتھ رکھنے والا گا ہے تنہا سفر پر نکلے تو جوش بے پناہ کا سبب بنے۔نواب صاحب آپ نے جن امور پر توجہ دلائی، اس طرح کے معاملات پر آپ پیپلزپارٹی کی حکومت کو ٹوکتے رہتے تھے۔اِن کے ذہنوں نے آپ کی معقول باتوں پر دھیان نہ دیا تو غیروں سے کیاگلہ، مگر ”نواب صاحب“ چھوڑیئے کیا رکھا ہے، ان باتوں میں۔

شجاع آباد کے اخبارنویس ان بھلے دنوں کو یاد کرتے ہیں، جب مکی چوکی والا ڈیرہ ہائیڈپارک بنا ہوتا تھا، ہرآنے والے کی باعزت پذیرائی، ہرناگوار بات کو نظر انداز کرنا، آپ کی مدھم سی خوشگوار مسکراہٹ، کہیں کہیں کوئی چبھتا ہوا جملہ ،آنے والوں پر کوئی قدغن ،نہ جانے والوں پر کوئی روک یا یہ صورت رانا تاج احمد نون کے یہاں ملتی تھی۔اللہ تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے۔آپ نے اپنی عزت اور وقار کی حفاظت بھی کی اور اپنے پرکھوں کے لئے بھی کوئی ایسا لمحہ نہیں آنے دیا کہ کوئی طنز کا تیر چلا سکے۔آپ کی خدمت میں شعر پیش ہے:

ہم وفا کے اسی موڑ پر چاک داماں کھڑے ہیں کہ جب

اپنے احباب گزریں اِدھر سے بھی آئینہ دیکھ لیں

مزید :

کالم -