دہشت گردوں سے مل کر نمٹنے کی تجویز

دہشت گردوں سے مل کر نمٹنے کی تجویز

  

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے وزیر اعظم نواز شریف کو تجویز دی ہے کہ دہشت گردوں سے مل کر نمٹا جائے کیونکہ وہ افغانستان اور پاکستان دونوں کے لئے مشترکہ خطرہ ہیں۔ دونوں ممالک کو مل کر تحریک چلانا ہوگی۔ انہوں نے یہ تجویز میاں نواز شریف کو اُن کے ٹیلی فون رابطہ کے دوران پیش کی ۔ دونو ں رہنماﺅں نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں جلد ہی پاکستان، افغانستان اور ترکی کے سہ فریقی مذاکرات پر بھی اتفاق کیا۔دونوں رہنماﺅں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ملک اپنی اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس کے علاوہ افغان صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں صدرکرزئی نے کہا ہے کہ دہشت گرد دونوں ملکوں کی سرحدوں پر موجود مشترکہ خطرہ ہیں، ان سے مل کر ہی نمٹنا ہوگا۔ دہشت گرد دونوں ملکوں کی ترقی روکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی علاقے ہنگو میں سکول میں داخل ہونے سے روکنے کے دوران شہید ہونے والے طالبعلم اعتزاز حسن کو بھی اس کی بہادری پر خراج عقیدت پیش کیا۔

دہشت گرد افغانستان اور پاکستان ہی کے لئے نہیں پوری دنیا کی قانونی جمہوری حکومتوں اور مختلف معاشروں کے امن و امان اور عوامی تعمیر و ترقی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ مختلف ملکوں کا امن تباہ کرنے والے یہ لوگ وحشیانہ طریقے سے معصوم اور بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرتے اور املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کسی عسکری تنظیم یا حکومت کا ان پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے عارضی اور ڈھیلے ڈھالے رابطوں اور نظم والے گروہوں سے ایسے لوگوں کی وابستگی مستقل نہیں رہتی۔ وہ سنگین قسم کے جرائم میں ملوث ہو کر معاشرے کا ناسور بن جاتے ہیں۔ جن لوگوں نے انہیں بڑے بڑے عزائم یا نیک مقاصد کا چکمہ دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ہوتا ہے ان کے گھناﺅنے چہرے ظاہر ہوجانے کے بعد بھی دہشت گرد ان سے الگ ہو کر دہشت گردی اور لوٹ مار کا اپنا سلسلہ شروع کرلیتے ہیں ۔ وہ عام انسانوں سے الگ تھلگ اور ان کے مصائب اور آلام سے بے خبر رہتے ہیں۔ وہ خون خرابے ہی میں اپنی بقاءجاننے لگتے ہیں۔ مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے دہشت گرد مختلف علاقوں کے عوام کو یرغمال بنا کر شہری آبادیوں میں بھی مقیم رہتے ہیں۔ اپنے احکامات ماننے سے انکار کرنے والوں کے ساتھ ظالمانہ اور سفاکانہ سلوک سے عوام میں خوف و ہراس پیدا کرکے اس خوف کی فضا میں اپنی بقاءکا سامان کرتے ہیں۔ سیاسی سطح پر ان کی تائید وحمایت کرنے والوں کے ذہن وقلب میں بھی اسی خوف اور دہشت کے اثرات موجود ہوتے ہیں۔

 معاشرے میں اپنی دہشت قائم کرکے یہ لوگ عام شہریوں کو لوٹتے اور مال ودولت جمع کرکے اپنا دائرہ اثر بڑھاتے رہتے ہیں۔ ان کے بکھرے ہوئے گروہوں اور دھڑوں سے حکومتوں کا نمٹنا بھی مشکل ہوتا ہے اور مذاکرات کرکے انہیں راہ راست پر لانا بھی مشکل۔ جو لوگ حکومتی نظم و نسق اور ربط کا حصہ نہ ہوں ان کا اپنے کسی پرائیویٹ گروہ اور خفیہ نظم سے تادیر وابستہ رہنابھی ممکن نہیں ہوتا ۔ جس طرح زیادہ تنخواہ اور مراعات کے لئے لوگ ایک کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر دوسری کمپنی میں چلے جاتے ہیں اسی طرح زیر زمین سرگرم ان مسلح گروہوں کے لوگ بھی ایک طرف سے مال اور وسائل کم ہونے کے بعد کسی دوسری طرف چلے جاتے ہیں۔ قانون اور آئین کے تحت کام کرنے والی حکومتوں کے لئے دوسرے ملکوں کی حکومتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے معاہدے کرنا تو آسان ہوتا ہے لیکن دہشت گردوں اور قانون شکنوں کی قیادت اور ٹھکانوں کو کوئی واضح اور ٹھوس علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ مذاکرات اور کوئی معاہدہ کرنا بہت پیچیدہ اور مشکل ثابت ہوتا ہے۔ ایسے گروہوں سے عام جرائم پیشہ لوگوں ہی کی طرح نمٹاجاتا ہے ۔ جس طرح ایک ملک کے جرائم پیشہ اور بھگوڑے لوگوں کے سلسلے میں دوسرا ملک تعاون کرتا ہے اسی طرح دہشت گردوں کے سلسلے میں تمام آئینی اور قانونی حکومتوں کے ایک دوسرے سے تعاون کی ضرورت ہے۔ عام مجرموں کے برعکس دہشت گرد اکثر بڑے مجرم ہوتے ہیں ، جو باالعموم بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کے ذریعے حکومتوں کو ناکام بنا کر افراتفری پیدا کرکے اپنے تسلط و غلبہ کی راہ ہموار کرنے کا سامان کرتے ہیں۔

چوری چکاری، رشوت ، فراڈ ، قتل اور لوٹ کھسوٹ کی وارداتوں کے باوجود حکومتیں چلتی رہتی ہیں ، ملک ترقی اور خوش حالی کے مقاصد بھی حاصل کرتے رہتے ہیں ، لیکن دہشت گردی کے پھیلنے، طاقت پکڑنے اور تسلسل کی صورت میں نہ ہی حکومتیں مضبوط ومُستحکم رہ سکتی ہیں نہ ملک و قوم ترقی و خوشحالی حاصل کرسکتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں جس طرح کے لوگ جہاد اور آزادی کے نام پر دہشت گردی میں ملوث ہیں اور جس طرح مختلف فرقوں میں نفرت اور عداوت بڑھانے کے لئے مذہب کے نام کو استعمال کیا جارہاہے۔ کیسے کیسے روپ میں یہ لوگ عام لوگوں کی صفوں میں گھسنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ان کے پاس کیا کیا جھوٹ ، افواہیں اور پراپیگنڈا تکنیکس ہیں۔ اس سب کچھ کے متعلق اب تک افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کی حکومتوں کے پاس بہت تفصیلی اور جامع معلومات موجود ہیں۔ نیٹوکی افواج افغانستان میں آنے کے بعد ہی سے پاکستان اور افغانستان کو بہت سے دہشت گرد گروہوں کا سامنا رہا ہے۔ افغانستان میں عوامی تائید و حمایت سے قائم ہونے والی طالبان کی حکومت ختم کرنے کے بعد امریکہ اور اتحادیوں نے وہاں کرزئی کی حکومت قائم کی ، لیکن طالبان کی سابق حکومت کو حاصل تائید و حمایت ختم نہ کی جاسکی۔ طالبان کو مسلسل افغانستان کے ایک بڑے حصے پر تسلط و غلبہ حاصل رہا۔ وہ اتحادی افواج سے برسر پیکار رہے۔ انہیں بھی دہشت گرد قرار دیا جاتا رہا، طالبان کی آمد و رفت سرحد پار پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھی رہی ۔ پاکستان میں افغان مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد پناہ لئے ہوئے ہے جس وجہ سے طالبان کو عام لوگوں سے پوری طرح الگ کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان نے افغان جنگ سے بچنے کی پوری کوشش کی، لیکن ہمارا دامن اس آگ سے پوری طرح محفوظ نہ رہا۔

امریکہ اور اتحادیوں کی طرف سے اگر ہم پر طالبان کی مدد کرنے کا الزام عائد ہوتا رہا تو طالبان پاکستان کو امریکہ کا اتحادی سمجھ کر اپنا دشمن قرار دیتے رہے۔ پاکستان نے اتحادی افواج کے افغانستان میں آنے سے پہلے طالبان حکومت اور امریکہ میں اسامہ اور دہشت گردوں کے سلسلے میں مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے ناکامی ہوئی۔ اس کے بعد پاکستان امریکہ اور طالبان حکومت کے سلسلے میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ تاہم پاکستان کی شروع دن ہی سے یہ پالیسی رہی کہ ہم اپنی سرزمین پر نہ کسی طرح کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی اجازت دیں گے اور نہ اپنی سرزمین کو کسی بھی طرح کی دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے دیں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن بھی کرنا پڑا ۔ پاکستان کو بار بار اس الزام کا سامنا رہا کہ ہم طالبان اور افغانستان میں اتحادیوں کے خلاف برسر پیکار گروپوں کے سلسلے میں درگذر سے کام لے رہے ہیں۔ پاکستان میں موجود طالبان نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کردیں ۔ ہماری دفاعی تنصیبات ، پولیس اور فوجی چوکیوں پر حملے کئے گئے۔ نو عمر لڑکوں کو ورغلا کر خود کش حملوں کے لئے استعمال کیا جاتا رہا۔ ہزاروں بے گناہ اور معصوم بچے ، خواتین اور شہری شہید ہوئے، اربوں کھربوں کا مالی نقصان اس کے علاوہ ہے۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد یہ تھا کہ پاکستانی قوم کو یہ تاثر دیا جائے کہ جہادی گروپوں کی افغانستان میں کارروائیاں آزادی کی جنگ نہیں بلکہ محض دہشت گردوں کی کاروائیاں ہیں جن کا پاکستان بھی شکار ہے۔ اس طرح غیر ملکی سرمایہ اور تربیت سے پاکستان پر ٹھونسی گئی دہشت گردی کی جنگ ہمارے لئے ایک پیچیدہ مسئلہ بن کر رہ گئی۔ مذہبی جماعتوں کی طرف سے افغانستان کو آزاد کرانے کے لئے لڑنے والے گروہوں کی حمایت کی جاتی رہی، لیکن بیرونی ہاتھ نے جو جعلی جہادی گروپ ہمارے ہاں تخلیق کئے انہیں یہ لائن دی گئی کہ پاکستانی حکومت اور فوج چونکہ امریکہ کی افغانستان میں حمایت کررہی ہے اس لئے اس کے خلاف بھی دہشت گردی کی کارروائیاں جہاد کا حصہ ہیں۔ اس طرح اسلام دشمنوں نے جہاد کا نام لے کردہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرکے ایک طرف تو ہمیں افغانستان میں آزادی کے لئے لڑنے والوں کی حمایت سے باز رکھنے کی کوشش کی، دوسری طرف اسلام اور جہاد کو بدنام کرنے کے مقاصد پورے کئے اور تیسری طرف عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور اور بے بس کرنے کے منصوبے پورے کرنے کی کوشش کی گئی۔

 ا فغانستان کے صدر حامدکرزئی اگر دہشت گردی کو دونوں ملکوں کا مشترکہ مسئلہ کہتے ہیں، اور اس سلسلے میں مشترکہ مساعی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ان کے اور اپنے دہشت گردی کے مفہوم کا فرق ملحوظ رکھنا ہوگا۔ جہاں تک افغانستان میںامن قائم کرنے کا تعلق ہے ، اس سال اتحادی افواج کی واپسی کے بعد ہم افغانستان میں قیام امن کو پاکستان کے مفاد میں قرار دے چکے ہیں، طالبان کے ساتھ افغان حکومت کے روابط اور وہاں ایک وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی کوششوں میں ہر ممکن امداد کے لئے تیار ہیں۔ اس کے عوض پاکستان بھی بجا طور پر یہ توقع رکھتا ہے کہ افغانستان میں ایسے تمام مراکز ختم کئے جائیں جہاں پاکستان میں دہشت گردی کے لئے تربیت دی جارہی ہے۔ یہ مرحلہ دونوں ملکوں کی حکومتوں کے لئے حقائق کو سمجھنے اور اپنے عوام کے لئے دیر پا امن اور خوشحالی کے لئے کام کرنے کا مرحلہ ہے۔ پاکستان مشرکہ کوششوں کے سلسلے میں بہت سے عملی اقدامات کرچکا ہے اب افعانستان کو بھی اپنی اس تجویز کے سلسلے میں کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ٭

مزید :

اداریہ -