سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنیوالوں کی بڑی مشکل آسان کردی

سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنیوالوں کی بڑی مشکل آسان کردی
سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنیوالوں کی بڑی مشکل آسان کردی

  

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کے خواہش مندافراد کی مشکل حل کردی ہے اور انکشاف کیاہے کہ خون کے ٹیسٹ سے پتہ چل سکتاہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرناکس حدتک ممکن ہے ، جو لوگ بہت جلد نکوٹین تحلیل کرلیتے ہیں ، اُنہیں سگریٹ کی طلب زیادہ ہوتی ہے اوراُن کے لیے اس کا ترک کرنامشکل ہوتاہے ۔

تفصیلات کے مطابق مریکی تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو سگریٹ نوشی کی عادت سے چھٹکارا دلانے میں خون کی ایک جانچ اہم ثابت ہو سکتی ہے، جتنے لوگ سگریٹ نوشی ترک کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے قدم بھی اٹھا لیتے ہیں ان میں سے 60 فی صد افراد سگریٹ چھوڑنے کے اگلے ہفتے پھر سے پینے لگتے ہیں ، دراصل اس کا انحصاراس بات پر ہے کہ کوئی شخص کتنی جلدی نکوٹین کو توڑ سکتا ہے۔

سگریٹ میں نکوٹین سب سے زیادہ عادت ڈالنے والا مادہ ہے۔ سگریٹ پینے والوں کو اس کی طلب اس وقت بہت ہوتی ہے جب ان کے جسم میں نکوٹین کی سطح کم ہونے لگتی ہے اور انھیں پھر سے پینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن مختلف لوگوں کے لیے نکوٹین کو توڑنے یا حل کرنے کی شرح مختلف ہوتی ہے۔

اس تحقیق میں امریکہ کی پنسلوینیا یونیورسٹی کے محققوں نے 1240 افراد کو سگریٹ نوشی کے مختلف مراحل سے گزاراگیا ،تمام رضاکاروں کے خون کی جانچ کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ نکوٹین معمول کی رفتار سے ٹوٹ رہا ہے یا کم شرح سے۔

سائنسدانوں کو معلوم چلا کہ جن کے خون میں نکوٹین معمول کے مطابق حل ہوتی ہے اگر وہ ’ویرینیکلائن‘ نامی دوا لیتے ہیں تو ان کے لیے سیگریٹ نوشی سے چھٹکارا حاصل کرنا نکوٹین پیچ کے مقابلے نسبتاً زیادہ آسان ہے۔

مزید : تعلیم و صحت