قوم کو جواب کا انتظار ہے

قوم کو جواب کا انتظار ہے
قوم کو جواب کا انتظار ہے

  

’’شکرہے ہم 21ویں ترمیم کے گناہ میں شامل نہیں ہیں‘‘ 21ویں ترمیم پارلیمنت میں پیش کی گئی تو مولانافضل الرحمن نے اپنے مرحوم والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان ہی کے الفاظ دہرائے کہ شکر ہے کہ وہ اس گناہ میں شامل نہیں ہوئے۔ پورا پاکستان جانتا ہے کہ 21ویں ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ دس سالوں سے ملک بھر میں خونریزی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اسلام کو بدنام کیا ہے، بلکہ ان کے ہاتھ 70ہزار معصوم اور بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، جب پاکستان کا چپہ چپہ معصومین کے لہو سے رنگین ہو گیا اور 20کروڑ پاکستانی چوبیس گھنٹے ان دہشت گردوں کے نشانے پر بے بسی کی تصویر بنے اپنی اپنی شہادت کا انتظار کررہے تھے تو وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے قوم سے وعدہ کیا کہ وہ انہیں اس عفریت سے نجات دلا کر رہیں گے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ایک غیر متزلزل عزم کے ساتھ آپریشن ضرب عضب شروع کیا، تاکہ نہ صرف دہشت گردوں کی کمین گاہیں ختم کی جا سکیں، بلکہ دہشت گردی کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

بہت سے قانونی سقوم کی وجہ سے دہشت گرد ہماری عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں اور دوبارہ سے دہشت گردی شروع کر دیتے ہیں، اس مسئلہ پر قابو پانے کے لئے قوم نے 21ویں ترمیم کا متفقہ فیصلہ کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس قومی کارِخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتیں اور کوئی کنفیوژن پیدا کرنے کی بجائے قوم کی آواز اور امنگوں کی ترجمان بنتیں، لیکن چشمِ فلک نے یہ دیکھا کہ جمعیت علمائے اسلام ، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف نے اس نازک موقع پر 21ویں ترمیم کی منظوری کے عمل سے دوری اختیار کی۔ آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے بیس کروڑ عوام وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور سالارِ اعظم جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرکے پاکستان کو ایک پُرامن اور خوش حال ملک بنانے کے لئے یکسو ہو کر اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں ۔

دوسری طرف مولانا فضل الرحمن، سراج الحق اور عمران خان لگاتار قوم کو ایک کنفیوژن میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ سابق امریکی صدر جارج بش سے کسی کو ہزار اختلاف ہوں، لیکن ان کا ایک جملہ تاریخ کا حصہ ضرور ہے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہر ایک کو بتانا پڑے گا کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہے یا امریکہ کے ساتھ نہیں ہے۔یہ بہت اہم بات ہے ، پاکستان میں موجود تمام رنگ برنگے سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بیس کروڑ عوام کے سامنے اپنی پوزیشن کلیئر کرنا پڑے گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا پاکستان کے ساتھ نہیں ہیں، کیونکہ انہیں قوم کو کنفیوژ کرکے اسے تقسیم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن، سراج الحق اور عمران خان کو آج قوم کو صاف صاف بتانا پڑے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا طالبان کے ساتھ ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو طالبان کے ساتھی اور ہمدرد سمجھتے ہیں تو پاکستانی قوم اور حکومت کو پورا اختیار ہوگا کہ وہ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے جو اب دہشت گردوں کے ساتھ کررہی ہے۔ بات بہت سیدھی سی ہے، دہشت گردوں کے ساتھی اور ہمدرد بھی دہشت گرد ہیں اور ان سے کم کسی سلوک یا رعائت کے مستحق نہیں ہیں۔

ان سیاسی جماعتوں کی تمام حرکتوں کے باوجود ریاست پاکستان اور اس کے بیس کروڑ عوام کا دل اتنا بڑا ہے کہ انہوں نے ابھی تک انہیں نہ صرف سینے سے لگایا ہوا ہے، بلکہ انہیں بار بار حکومت کرنے کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن ،سراج الحق اور عمران خان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے۔ پاکستانی عوام پورا سال ان کا دہشت گردوں سے مذاکرات مذاکرات کا گھناؤنا کھیل دیکھتے رہے ہیں۔ 21ویں ترمیم پر ان کا موقف اور طالبان سے ہمدردی بھی بیس کروڑ عوام کے سامنے ہے۔ انہیں قوم کے سامنے آج اور ابھی کلیئر کرنا پڑے گا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا طالبان کے ساتھ! اللہ کا شکر ہے کہ آج پاکستان کے عوام اور سیاسی و عسکری قیادت پوری طرح یکسو ہے،کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ وقت آن پہنچا ہے کہ ہمیں آخری فیصلہ کرنا ہے کہ دہشت گردوں کو بچانا ہے یا اپنے بچوں کو بچانا ہے۔ مولانا فضل الرحمن، سراج الحق اور عمران خان قوم آپ لوگوں کے آخری جواب کی منتظر ہے۔ اس کے بعد وہی فیصلہ ہوگا جو بیس کروڑ عوام اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے کریں گے۔

مزید : کالم